او آئی سی کا ہنگامی اجلاس

OIC-Abdul-Jabar-Daresh-Culamn-.jpg

تحریر عبدالجبار خان دریشک

ماہ رمضان کے بابرکت مہینے کے شروع ہونے سے قبل 14 مئی کو فلسطینی مسلمانوں پر ظالم کے پہاڑ ڈھائے گئے، مصوم فلسطینی مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی ، 14 مئی کو جب پروشیلم میں امریکی سفارت خانے کی منتقلی کی جارہی تھی تو اس منتقلی کے خلاف فلسطینی مسلمان غزہ کے کنارے ہرازروں کی تعداد میں پر امن احتجاج کر رہے تھے ، جن پر اسرائیلی فوج نے بے تحاشہ فائرنگ کی اور ڈروان کے ذریعے آنسو گیس کے گولے فائر کیے ، اسرائیل کی اس بربریت کے نتیجے میں 60 فلسطینی شہید ہوئے جن میں سے اکثریت کم عمر بچوں کی تھی جن میں سے کئی ایک شیرخوار بھی شامل تھے جو اپنی ماؤں کے ساتھ اس پر امن احتجاج میں شریک تھے۔ اس ظلم پر اقوام عالم کی خاموشی کے علاوہ ٹرمپ کی بھی منافقت اپنی جگہ قائم ہے ٹرمپ کے فیصلے کی وجہ سے مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے امریکی حکومت نے اپنا سفارت خانہ تل ایب سے یروشیلم منتقل کرنے کا فیصلہ 1995 میں کرلیا تھا لیکن اس پر کسی بھی امریکی صدر نے عمل درآمد نہ کروایا ، لیکن ٹرمپ نے آتے ہی اس سفارت خانے کی منتقلی کا اعلان کردیا تھا جس پر اب 14 مئی کو عمل درآمد بھی ہوچکا ہے جوکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سلامتی کونسل کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ تو دوسری طرف ٹرمپ ماہ رمضان کی آمد پر مسلمانوں کو پیغام میں نیک تمنائیوں کا اظہار کر رہا ہے، جو ٹرمپ کی دوغلی اور منافقت پر مبنی پالیسی ہے۔ امریکی سفارت خانے کو یروشیلم منتقل کرنے کے ردعمل میں ترکی نے سخت موقف کا اظہار کیا ، اور صدر رجب طیب ایردوآن نے اسرائیل سے اپنے سفارت کار واپس بلا لیے اور اسرائیل کے سفارت کاروں کو ترکی سے چلے جانے کے احکامات جاری کردیا ، غزہ میں اسرائیلی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں ساٹھ سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد ترکی اور اسرائیل کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔
ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے درمیان ٹوئٹر پر سخت الزامات اور الفاظ کا تبادلہ جاری رہا۔ ترک صدر ایردوآن نے کہا ہے کہ اسرائیل ایک دہشت گرد ریاست ہے۔ اسرائیل نے جو کچھ کیا ہے، وہ نسل کْشی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے ترک صدر کے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا، ایردوآن حماس کے ایک بڑے حامی ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ دہشت گردی اور قتل و غارت میں مہارت رکھتے ہیں۔رجب ایردوآن غزہ کے حوالے سے اسرائیلی پالیسیوں کے بڑے ناقدین میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے اس تازہ صورت حال پر اسلامی تعاون کی تنظیم یعنی او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلایا ، جس میں دنیا کو غزہ کے حوالے سے ایک طاقتور پیغام دینا تھا۔
ماہ رمضان کے پہلے جمعہ کے دن او آئی سی کا ہنگامی اجلاس ترکی کے شہر استنبول میں طلب کیا گیا اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے اجلاس میں مشرقی یروشلم کو فلسطین کا دارلحکومت تسلیم کرتے ہوئے دنیا کے دیگر ممالک پر بھی ایسا ہی کرنے کے لیے زور دیا ہے۔ اس تنظیم نے یروشلم کے حوالے سے امریکی فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ستاون مسلمان ممالک کی اس تنظیم کے اجلاس میں میزبان ترکی کے علاوہ پچاس ممالک کے مندوب شریک ہوئے۔ بائیس ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی۔ تنظیم کے ہنگامی اجلاس کے اختتام پر 23 نکات کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔
پاکستان سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے خصوصی طور پر شرکت کی اور اپنے جاری کردہ بیان میں ان کا کہنا تھا کہ آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کرتے ہیں، فلسطینیوں کے لیے مل کر اقوام متحدہ میں آواز اٹھانا ہوگی جب کہ غزہ میں اسرائیلی مظالم کی آزادانہ اورشفاف تحقیقات کرائی جائے، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کی منتقلی اور اسرائیلی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی مذمت کی،وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں اختلافات بھلا کر او سی کے فورم سے مضبوط موقف دینا ہوگا اور فلسطینیوں کے لیے مل کر اقوام متحدہ میں آواز اٹھانا ہوگی جب کہ سلامتی کونسل فلسطین کے متعلق اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کروائے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے او آئی سی کے ہنگامی اجلاس میں خطاب کرتے کہا کہ فلسطین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے جاری رہنے سے عالم اسلام کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے امریکہ کی نئی حکومت بھی عالمی امن و صلح اور بین الاقوامی قوانین کے لئے بہت بڑا خطرہ بن گئی ہے۔ اسرائیلی حکومت فلسطین میں جنگی و بھیانک جرائم کا ارتکاب کرتے ہوئے انسانی عزت اور کرامت کو پامال کررہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ ، اسلامی ممالک میں عدم استحکام پیدا کرکے اسرائیل کو خطے میں مضبوط اور طاقتور بنانا چاہتا ہے لیکن اسلامی ممالک باہمی اتحاد کے ذریعہ اسرائیل کا بھر پور مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور مسلم ممالک آپسی اتحاد اور یکجہتی کے ذریعہ اسرائیل کی سازشوں کو ناکام بنا سکتے ہیں۔ امریکہ اسرائیل کو گرین سگنل دے کر فلسطینیوں کے مصائب ومشکلات میں اضافہ کررہا ہے۔
ایران کے صدر حسن روحانی نے اسرائیل کے ایٹمی ہتھیاروں کو عالمی امن خاص طور سے علاقے کی سلامتی کے لئے سنجیدہ خطرہ قراردیتے ہوئے کہا کہ ایران نے بارہا علاقے کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی تجاویزدی ہیں اور یہ تجاویز اسلامی ملکوں کے اقدامات میں سر فہرست قرارپانی چاہئیے۔ صدر حسن روحانی نے اسلامی ممالک سیمطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کرکیاس کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کریں۔ اور اسرائیل کی بے جا حمایت کرنے کے سلسلے میں امریکہ کے خلاف بھی عملی اقدام عمل میں لائیں۔
اجلاس کے مشترکہ اعلامیہ کی اکثر شقوں میں فلسطینیوں کی ہر فورم پر مکمل حمایت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یروشلم کے معاملے کے حل کے لیے کوئی قدم نہ اٹھایا تو رکن ممالک اس معاملے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں لے کر جائیں گے۔
جبکہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے او آئی سی کے ہنگامی اجلاس میں شرکت تو نہ کی لیکن مصر نے غزہ کے ساتھ رفح نامی سرحدی گزرگاہ کو رمضان کے مہینے کے پیش نظر دوبارہ کھول دیا ہے تاکہ اس اسلامی مہینے کے دوران غزہ کے پٹی کے عوام کی روزمرہ تکالیف میں کمی کی جا سکے اور انہیں مناسب مقدار میں خوراک بھی مہیا ہو سکے۔ مصر اپنی جغرافیائی پوزیشن کی وجہ سے غزہ پٹی اور اسرائیل دونوں کا ہمسایہ بھی ہے اور 1979ء میں مصر نے اسرائیل کے ساتھ ایک باقاعدہ امن معاہدہ بھی طے کر چکا ہے جس کے پیش نظر مصر نے اپنی سرحد بند رکھی ہوتی ہے
عالمی سطح پر او آئی سی کے ہنگامی اجلاس کو مسئلہ فلسطین کے لیے اہم سمجھا جارہا ہے، او آئی سی اسلامی دنیا کو پیش آنے والے مسا ئل پر زیادہ فعال تو نظر نہیں آتی تاہم فلسطین کی حالیہ صورت حال پر کم از کم تمام رکن ممالک میں سے اکثر نے کھل کر اظہار خیال کیا تاہم یروشلم کے معاملے پر اس تنظیم کا اصل امتحان یہ ہو گا کہ وہ یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اپنے فیصلے پر دنیا کے مزید کتنے ممالک کی حمایت حاصل کر سکتے ہیں۔
فلسطین کی موجودہ صورت حال پر سعودی عرب نے کھل کر مذمت بھی کی تھی جبکہ عرب لیگ کا اجلاس بلانے کا بھی کہا تھا لیکن او آئی سی کے اجلاس میں سعودی عرب کا شرکت نہ کرنا عجیب محسوس ہوتا ہے جبکہ کچھ عرصہ قبل ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان نے اسرائیل کے حوالے متنازعہ بیان بھی دے چکے ہیں ساتھ ہی سعودی عرب نے بھارت اور اسرائیل کے درمیان براہ راست پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی بھی اجازت دے چکا ہے اور اسی طرح او آئی سی کے اجلاس میں فلسطین کے پڑوسی اسلامی ملک مصر کے سربراہ نے بھی اجلاس میں شرکت نہیں کی ، اس کی وجہ بھی اسرائیل اور مصر کے درمیان 1979ء کا امن معاہدہ ہو سکتا ہے ان دونوں اہم ممالک کی عدم حاضری کے سبب اس تنظیم میں شامل ممالک کے آپس میں تعلقات پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

شئیر کیجئے

PinIt

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.