ٹینشن اینڈاٹینشن

Tention-And-attention.jpg
تحریر :عادل جہانگیر
ٹینشن اینڈاٹینشن یعنی غور وفکر،بہت عام استعمال ہونے والے الفاظ ہیں لیکن اکثر لوگ انکے بیچ کا فر ق سمجھنے سے قاصر ہے کیو نکہ شایدوہ اپنی فکروں میں ا تنامصر وف ہیں کہ انکے پا س غور کرنے کے لیے وقت ہی نہیں ہے۔ لیکن ا گر وہ اپنی فکروں سے تھو ڑا سا وقت نکا ل کر غو ر کرنے پہ دیں تویہی و قت ا نکے فکروں کو کم کرنے میں استعما ل ہو سکتا ہے۔ درحقیقت فکر ا یک تا لا ہے اورغو ر اسکی چابی ہے۔جب ہم فکر کے جا ل میں پھنس جا تے ہیں تو ہمارا دماغ کچھ بھی سمجھنے سے قا صر ہو جا تا ہے۔یہ فکر کی د یوارہمیں دوسری جا نب مو جودمسا ئلؑ کے حل کو دیکھنے نہیں دیتی۔ چلیں جب زکر چل پڑا ہے فکر کا تو اسکی وجو ہات پر بھی بات کر لیتے ہیں۔
فکر کی سب سے بڑی وجہ انسان کی خواہشا ت کاحد سے بڑھ جا نا ہے۔جب تک یہ قا بو میں رہتی ہیں ا نسان مطمعئین رہتا ہے اور جب کبھی یہ بے قا بو ہو تی ہیں تو غور و فکر کے پلڑے کا توازن بگا ڑ دیتی ہیں۔ا سلیئے ضروری ہے کہ ہم اپنے غور و فکر کے پلڑے کو اپنی کو ششوں اور محنت کے سا تھ توازن میں رکھیں۔ اگر خوا ہشا ت بڑھا ئیں تو سا تھ ہی ا نکو پورا کرنے کیلئیے اپنی کوششوں اور محنت میں بھی ا ضا فہ کریں۔
فکر کی دوسری وجہ ہے انسان کا نتا ئیج اپنے ہا تھ میں لینے کی کو شش کرنا۔کچھ لوگ جب کسی کام کاآغاز کرتے ہیں تو صر ف کامیابی کو مد نظر رکھتے ہیں اور اسکے لیے وہ مکمل طورپہ اپنے قوت بازو پر انحصا ر کرتے ہیں۔اسلیے جب کبھی وہ نا کامی کا شکار ہوتے ہیں تو شدید پریشا نی میں مبتلا ہو جا تے ہیں۔ بلا شبہ کسی بھی کام کے آغاظ سے پہلے کامیابی کو ہی مد نظر رکھا جا تا ہے لیکن ناکامی کے امکا نات کو یکسر نزرانداز کرنا بھی درست نہیں کیونکہ بہر حال کا میا بی اور ناکامی ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں۔
فکر کی ایک اوراہم وجہ انسان کا بے صبرا پن ہے۔ اپنی موجودہ مشکلات سے گھبرا کہ تو کبھی ماضی کے تلخ لمحات کو یا دکرکے یا پھر ناگہانی مستقبل کولے کراکثر لوگ پریشان رہتے ہیں بناسوچے کہ جو آج انکے پا س ہے یہ وہی ہے جسکی وہ ماضی میں کبھی تمنا کیاکرتے تھے تو جیسے ماضی کی خوا ہشا ت ہما رے آج کا حصہ ہیں ویسے ہی ا نشااﷲہما ری آِِٰٖٖٖٖٖٖٖٖج کی خوا ہشا ت بھی ہما رے کل کا حصہ ہونگی ۔ا یسے لو گ یہ نہیں سو چتے کہ اپنی مو جودہ نعمتوں کو نزراندازکرکے ماضی کے تلخ واقعا ت کو سو چ کر اپنے موجودہ وقت کو برباد کرنا کونسی سمجھداری ہے۔
تلخ واقعا ت بھی انسانی دما غ کے لیے وائیرس جیسے ہوتے ہیں اسلیے ہمیں چاہیے کہ ان واقعا ت سے حا صل اسبا ق کو یا د رکھ کرانکو اپنی یا داشت سے خا رج کر دیں۔
فکر کا ایما ن و یقین سے بھی بہت گہرا وا سطہ ہے۔جتنا گہرا آپ کا ایما ن و یقین ہو گا اتنا آپ مطمعئن ہونگے جیسے مریض کے درد کی شدت طبیب کی تسلی سے ہی آدھی ہو جا تی ہے کیو نکہ مریض کا طبیب پہ بھروسہ ہو تا ہے۔ایما ن کو آپ فکر کی دوا ہی سمجھ لیں کہ جسکا دل و دما غ ایما ن و یقین سے بھرا ہو وہاں فکرکا گزارا نہیں ہو سکتا۔
فکر تب بھی ہو تی ہے جب معا شرے کے افراد خود غرض ہو کر صر ف اپنے با رے میں سوچنے لگتا ہے اور دوسروں کے حا ل پر غورکرناچھوڑ دیتا ہے۔ انسان ایک معا شی حیوان کے طور پہ اپنی بہت سی ضرورتوں کیلے دوسروں پہ انحصا ر کرتا ہے۔ لیکن خود غرض سوچ کے حا مل افراد دوسروں کی ضروریات کو سمجھنے سے قاْ صر ہوتے ہیںیہی رویہ معاشرے میں بگا ڑاور پریشانیاں پھیلانے کا با عث بنتا ہے۔اب آپکو غورکرناہے کہ آپکی فکرکی وجہ کونسی ہے اور انکے اسباب معلوم کرنے کے بعدان پر افسوس کرنے کی بجائے ان مسا ئل کے حل تلاش کرنے پہ غورکریں۔

مختصراً غورفرمائیں فکر بھگائیں۔

 

شئیر کیجئے

PinIt

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.