اسفند یار ولی: پختون قیادت کو جان بوجھ کر پارلیمان سے باہر رکھا گیا

ANp-Mozahera-Charsad-30-07-2018.jpg

چارسدہ:

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفند یار ولی خان نے ملک میں دوبارہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج کسی بھی طرح اپنے دامن پر لگا داغ دھوئے اور دھاندلی میں ملوث اہلکاروں کو گھر بھیجا جائے۔

انھوں نے کہا کہ ’بات بات پر سوموٹو لینے والی عدلیہ صرف اس لیے خاموش ہے کیونکہ وہ خود اس سازش کا حصہ ہے۔‘ان خیالات کا اظہار انہوں نے چارسدہ میں ملک میں حالیہ الیکشن میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کے خلاف مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انھوں نے کہا کہ ‘یہ جو نامعلوم ہیں وہ ہمیں معلوم ہیں اور دوبارہ ایسے الیکشن کرائے جائیں جس میں فوج اور عدلیہ کا کردار نہ ہو، اس خطرناک سازش میں فوج ،عدلیہ اور الیکشن کمیشن کا ہاتھ ہے۔’

انھوں نے سوال اٹھایا کہ ‘رمضان میں تمام سیاسی جماعتوں کے وفد نے الیکشن کمشنر سے ملاقات کی تھی جس میں کسی بھی سیاسی پارٹی کی طرف سے فوج کو اختیارات دینے کا مطالبہ نہیں کیا گیا تو پھر فوج کس کے کہنے پر آئی؟احتجاجی جلسے میں عوامی نیشنل پارٹی کے سرخ پوش کارکنوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی جنھوں نے قومی اداروں کے خلاف نعرے بازی کی۔عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ نے دعویٰ کیا کہ الیکشن میں مداخلت سے فوج کا ادارہ متنازع ہو چکا ہے۔’انھوں نے کہا کہ ’پختون قیادت کو جان بوجھ کو پارلیمان سے باہر رکھا گیا اور حالات اس نہج پر نہ لائے جائیں جس میں ہمیں دیوار سے لگایا جائے ورنہ ہمارا ہاتھ ان کے گریبانوں پر ہو گا۔‘

اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ‘پولنگ کے اختتام پر ایک گھنٹے کے لیے دروازے بند کیے گئے اور تمام پولنگ ایجنٹوں کو گن پوائنٹ پر فوجیوں نے باہر نکال دیا اسی دوران نتائج تبدیل کیے گئے اور اندر بیٹھ کر ووٹ پول کیے گئے جس کی تمام ذمہ داری فوج، عدلیہ اور الیکشن کمیشن پر عائد ہوتی ہے۔’

انھوں نے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکال کر دروازے بند کیے گئے؟انھوں نے چیف الیکشن کمشنر سے کہا کہ وہ 53 سیکنڈ میں ایک امیدوار کے ووٹ پول کر کے دکھائے تو میں شکست تسلیم کر لوں گا۔اسفندیار خان نے الیکشن کمیشن کی جانب سے فارم 45 انٹر نیٹ پر ڈالنے کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پولنگ ایجنٹ کے دستخط کے بغیر جاری کیے گئے فارم 45 کی کوئی اہمیت نہیں۔

انھوں نے کہا کہ ‘یہ سب ڈرامے صرف خود کو بچانے کے لیے ہیں جنھیں ہم تسلیم نہیں کریں گے، پنجاب، سندھ اور بلوچ قیادت کو پارلیمنٹ تک پہنچایا گیا جبکہ پختونوں کے خلاف فوج نے سازش کر کے پارلیمنٹ کے دروازے بند کر دیے۔’پشتون رہنما نے واضح کیا کہ ‘اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اس الیکشن اور لاڈلے کو پرامن ماحول فراہم کرنے سے ملک میں استحکام آئے گا یہ ان کی خام خیالی ہے، ملک میں اب مزید گڑبڑ ہو گی اور پاکستان عدم استحکام کی جانب بڑھے گا۔’

انھوں نے کہا کہ ‘اے این پی بلوچستان میں بننے والی اختر مینگل کی حکومت کی حمایت کرے گی۔’اسفند یار خان نے کہا کہ ‘اگر باقی جماعتیں حلف لینے کے فیصلے پر متفق ہوئیں تو اے این پی کے ارکان بھی حلف اٹھا کر پارلیمنٹ کے اندر اس سازش کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔’

 

شئیر کیجئے

PinIt

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.