قربانی۔۔۔ تجدید عہد وفا

Qubani-BilalYasar.jpg

تحریر: احتشام الحسن

ازل تا ابداللہ تعالیٰ کا قاعدہ اور ضابطہ رہا ہے کہ وہ اپنے مقربین کے ساتھ خاص قسم کا معاملہ کرتا ہے۔ایسا معاملہ جو عام انسانوں کے ساتھ نہیں کیاجاتا۔محبوبانِ بارگاہ الٰہی کو امتحان اور آزمائش کی سخت سے سخت منزلوں سے گزرنا پڑتاہے۔انہیں قدم قدم پر جاں نثار ی اور تسلیم و رضا کا مظا ہرہ کرنا پڑتا ہے ۔ امت مسلمہ کا اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعد تمام مخلو قات میں انبیائے کرام علیھم السلام کا مرتبہ ہے۔وہی اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب و اقرب ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ تما م انبیائے کرام علیہم السلام کو اعلائے کلمۃاللہ اور اشاعت دین کی محنت کے سبب امتحان و آزمائش سے دوچار ہونا پڑا۔ہر نبی اور رسول کے امتحان کا انداز مختلف تھا۔
انہی برگزیدہ پیغمبروں میں سے ایک سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں۔آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر اور تسلیم و رضا اور اطاعتِ ربّانی کے پیکر تھے ۔اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا خلیل(گہرا دوست ) قرار دیا ۔ حضرت ابراہیم ؑ کی ساری زندگی استقامتِ دین کے لیے پیش کی جانے والی عظیم قربانیوں سے عبارت ہے۔ یہی جذبہ قربانی اب ہر دور کے لیے ایمانی معیار اور کسوٹی قرار دے دیاگیا ہے۔
آپ ؑ کو قدم قدم پر امتحانات و آزمائش کا سامنا کرناپڑا۔آپ ہر امتحان و آزمائش میں کام یاب وکام ران ہوئے۔یہاں تک کہ عقیدہ توحید بیان کرنے اور بت شکنی کی پاداش میں آپ ؑ کو بادشا ہ نمرود نے آگ میں ڈالا تو آپ ؑ عظمتِ دین اور عقیدۂ توحید کی سر بلندی کے لیے پوری طرح ثابت قدم رہے ۔بالآخر اللہ تعالیٰ کا فرمان مبارک جاری ہوا:مفہوم’’ہم نے حکم دیا آگ کو،اے آگ! سرد ہو جا اور ابراہیم ؑ پر سلامتی والی ہو جا ‘‘(سورۃ الانبیاء:۶۹) اقبال نے اس حقیقت کو بہت خوب صورت انداز میں بیان کیاہے

آج بھی ہو جو ابراہیم ؑ کا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا

ابھی یہ آزمائش ختم نہ ہوئی تھی کہ اس کے بعداپنے لخت جگر حضرت اسماعیل ؑ اوربیوی حضرت ہاجرہ ؑ کو فاران کے بیابان میں چھوڑنے کا حکم ملا ۔یہ بھی کوئی معمولی امتحان نہ تھا۔سخت آزمائش کا مرحلہ تھا۔بڑھاپے اور پیرانہ سالی کی تمناؤں کا مرکز، راتوں اور دنوں کی دعاؤں کا ثمر، قلب و نظر کا چراغ سید نا حضرت اسماعیل ؑ کو، آپ صرف حکمِ الٰہی کی تعمیل میں ایک بے آب و گیا ہ مقام پر چھوڑ آتے ہیں ۔اس طرح کہ پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ شفقتِ پدری جوش میں آجائے اور حکمِ ربانی کی تعمیل میں لغزش ہو جائے۔
ان کٹھن منزلوں کو عبور کرنے کے بعد اب تیسری آزمائش کی تیاری ہے، جو پہلے دونوں امتحانو ں سے زیادہ سخت اور جاں گسل ہے ۔حضرت ابراہیم ؑ تین رات متواتر خواب دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں :’’اے ابراہیم ؑ !تو ہماری راہ میں اپنے اکلوتے بیٹے کو قربان کر دے۔‘‘حضرت ابراہیم ؑ تسلیم و رضا اور اطاعتِ ربانی کا پیکر بن کر تیارہو گئے۔ چوں کہ اس امتحان و آزمائش میں بیٹا بھی شریک تھا ۔اس لیے باپ نے اطاعتِ شعار اور فرماں بردار بیٹے کو اپنا خواب اور خدا کا حکم سنایا ۔سیدنا حضرت اسماعیل ؑ اپنے والد کی طرح اولوالعزم ، ثابت قدم ،عزیمت و استقامت ،تسلیم و رضا اور اطاعتِ ربانی کے پیکر تھے ۔فوراًہی سر تسلیم خم کر دیا ۔اور کہا :’’ اگر خدا کی یہی مرضی ہے تو آپ ان شاء اللہ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے ۔‘‘

یہ فیضانِ نظر تھا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل ؑ کو آدابِ فرزندی 

اللہ تعالیٰ کو ان کے یہ الفاظ اتنے پسند آئے کہ ان کو قرآن کریم کا حصہ بنادیا۔
حقیقت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کی جانب سے بارگاہ خداوندی میں حضرت اسماعیل ؑ کی یہ قربانی،ایک عظیم اور یادگار قربانی تھی۔جس کی مثال دینے سے آج تک دنیا قاصر ہے۔چشم فلک نے بھی اطاعتِ الٰہی کا ایسا منظر نہ دیکھا تھا ۔صبر و استقامت اورجاں نثاری بھی محوحیرت تھے کہ ایسا باپ جسے بڑھاپے میں اولاد نصیب ہوئی،اسی پر وہ چھری پھیرنے چلا ہے۔
اللہ رب العالمین کی جناب میں قربانی کا ثبوت انسانی تاریخ کے آغاز ہی سے ملتا ہے۔ چناں چہ بنی نوع انسان کے والد حضرت آدم ؑ کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کی قربانی کا ذکر قر آن میں کچھ اس طرح ہے:مفہوم’’اور سنا دیجیے،انہیں حال آدم ؑ کے دو بیٹوں کا سچا ،جب کہ ان دونوں نے قربانی پیش کی ،تو ان دونوں میں سے ایک کی قبول ہوئی اور دوسرے کی نہ ہوئی،تو اس (قابیل )نے کہا ،میں تجھے ضرور قتل کر دوں گا ،اس(ہابیل)نے کہا بے شک ،اللہ تو پرہیز گاروں ہی سے قبول فرماتا ہے۔‘‘(سورۃالمائدۃ:آیت۲۷) اس کے بعدبھی تقریباًتمام الہامی اور غیر الہامی مذاہب اور معاشروں میں قربانی کا تصور ہمیں ملتا ہے۔ لیکن یہ ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کی قربانی کو پوری تاریخ انسانی میں ایک منفرداور بلند مقام حاصل ہے۔تاریخ کے اوراق اس عظیم قربانی کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں ۔
آج سیدنا حضرت ابراہیم ؑ کا مزار مبارک اسرائیل کے شہر’’ الخلیل ‘‘میں واقع ہے (جہاں آپؑ کے قدموں کی جانب ہندوستان کے ایک عظیم راہنما اور نامور شاعر وادیب مولانا محمد علی جوہرؒ کی قبر بھی ہے ۔)لیکن ان کی اس عظیم المرتبت قربانی کو تاقیامت امتمحمدیہ علیٰ صاحبھاا لصلوٰۃ والسلام کے لیے قانونِ الٰہی بنا دیاگیاہے ۔چناں چہ حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے بعض صحابہؓ نے عرض کیا:’’یا رسول اللہ! ان قربانیوں کی حقیقت اور تاریخ کیا ہے ؟‘‘ آپﷺنے فرمایا :’’ یہ تمہارے (روحانی اور نسلی ) مورث حضرت ابراہیم ؑ کی سنت ہے۔‘‘صحابہ کرامؓ نے عرض کیا :’’یا رسول اللہ! ان قربا نیوں میں ہمارا کیا اجر ہے؟‘‘رسول کریمﷺ نے فرمایا:’’قربانی کے ہر جانور کے بال کے عوض ایک نیکی ہے۔‘‘(مسندِاحمد،سنن ابن ماجہ)اسی طرح ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺنے فرمایا :’’یوم النحر (دس ذوالحجہ) میں ابن آدم کا کوئی عمل اللہ کے نزدیک خون بہانے(قربانی کرنے)سے زیادہ پیارا نہیں ہے۔ اور قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگ،بال اور کھروں کے ساتھ آئے گااور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے قبل خدا کے نزدیک مقامِ قبولیت کو پہنچ جا تا ہے ۔لہٰذا اِسے خوش دلی سے کرو ۔‘‘ (ابو داؤد، ترمذی،ابن ماجہ)
حضور پاک ﷺ نے صرف قربانی کے فضائل اور حکم بیان نہیں فرمایا بلکہ ان پر عمل کر کے بھی دکھلایا ہے ۔حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں :’’رسول اکرم ﷺ مدینے میں دس سال مقیم رہے ،اس عرصے میں آپﷺ نے ہر سال قربانی کی ۔‘‘(مشکوٰۃ ۔ترمذی) جب کہ حضرت انسؓ فرماتے ہیں:’’اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی قربانی کیا کرتے تھے اور میں بھی دو ہی مینڈوھوں کی قربانی کیا کرتا تھا۔‘‘
اگرایک جانب قربا نی کا حکم اور اس کے فضا ئل وارد ہوئے ہیں تو دوسری جانب قربانی نہ کرنے والے کے بارے میں بھی سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:’’جس میں وسعت ہو اور اس کے باوجود وہ قربانی نہ کرے ،وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے۔‘‘(ابن ماجہ)
عید الاضحی پر جانوروں کی قربانی جہاں ایک عظیم عبادت ہے ،وہاں تجدیدِعہد وفا بھی ہے۔ قربانی در حقیقت اس وعدے کو دہرانے کا نام ہے کہ ہمارا جینا ،ہمارا مرنا اور ہماری پوری زندگی اللہ تعالیٰ کے لیے ہے ۔یہی ایک مسلمان کی زندگی کا حقیقی مقصد ہے۔ بندگی کے اظہار کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کرنا بندہ مومن کا شیوہ ہے۔ قربانی کا مقصد اصلی تقویٰ اور پرہیز گاری کا حصول ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :مفہوم’’خدا تک نہ ان(قربانی کے جانوروں )کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ہی خون ،بلکہ اس تک تمہاری پرہیزگاری پہنچتی ہے۔‘‘(سورت الحج)
یہ ’’سنتِ ابراہیمی ‘‘ہمیں اس بات کا درس دیتی ہے کہ ہم دین کی عظمت وسر بلندی،اسلام کی ترویج واشاعت ،اعلائے کلمۃاللہ،اسلام کی بقااورامت مسلمہ کے اتحاد کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کریں۔آئیے ! سنتِ ابراہیمی کو عملی جامہ پہنا کر عبادت کا ثواب بھی حاصل کریں ، تجدیدعہد بھی کریں اوردنیائے کفر کو یہ باور کروا دیں کہ ہم جس طرح حکمِ خداوندی اور سنتِ رسولﷺپر اپنا مال قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتے ،اسی طرح ہم اپنے اللہ اور اس کے رسولﷺ کی حرمت پر اپنی جان،اپنامال اوراپنی اولادقربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔

شئیر کیجئے

PinIt

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.