” ملکی عروج سے ہم دور کیوں ” شاہد اللہ اخوند

Pak-Map.jpg

یہ دنیا ہمیشہ ملکوں میں بٹی رہی ہے۔ تہذیب وتمدن کے مختلف ادوارمیں کسی بھی ملک کے اندرونی استحکام کی کچھ بنیادیں ہوتی ہیں۔ آج دنیاجس مقام پرہے ، اس میں کسی ملک کے استحکام کادارو مدار دو عوامل پرہے۔ ان میں سے ایک عامل ملک کے اندرچند بنیادی انسانی اساسات کی موجودگی ہے اوردوسرا عامل سائنس اورٹیکنالوجی میں ایک مضبوط حیثیت حاصل کرنا ہے۔ جس ملک میں یہ دونوں عوامل معیاراورکمال سے قریب ترہوں گے ، اتناہی وہ ملک توانا، مضبوط اورخوش حال ہوگا، بیرونی جارحیت سے بہتر طور پر نبرد آزما ہو سکے گا اورقوموں کی برادری میں باوقاروباعزت مرتبے پرفائزہوگا
عصر حاضر میں اہلِ اسلام جن مصائب و تکالیف سے دو چار ہیں، یقینا اُن کی ایک وجہ قربِ قیامت بھی ہے۔ البتہ دنیا کے دارالاسباب ہونے ‏کے سبب اس امر سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا کہ یہ سب کردار کی اُس ’مجرمانہ ضعیفی‘ کی بنیاد پر ہے، جس کا لازمی نتیجہ ’مرگِ مفاجات‘ ‏کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔
اگر عالمِ اسلام اپنے عقائد، افکار، اعمال، اخلاق، معاشرت، تجارت کے حوالے سے غفلت کا مظاہرہ نہ کرتا تو آج کے ‏ناگفتہ بہ حالات کے تاریک دن دیکھنے کو نہ ملتے۔ موجودہ حالات میں مسلمانوں کو جن عظیم مسائل کا سامنا ہے، اُن میں سے کچھ اپنی اہمیت ‏اور اثرات و نتائج کے لحاظ سے مکمل اور دیانت دارانہ توجہ کے طالب ہیں۔
پہلا مسئلہ نظامِ اسلام کے نفاذ کا ہے۔ جب تک کم از کم اسلامی خطوں میں اسلام اپنے تمام تر احکامات، حدود و تعزیرات، فرائض و ‏واجبات اور وقار و غلبے کے ساتھ نافذ نہیں ہو جاتا، تب تک ہم جس سربلندی، عزت و شوکت اور آسانیوں کی راہ تک رہے ہیں، اُنہیں ‏نہیں پا سکیں گے۔
دوسرا مسئلہ سیاسی طور پر عدمِ استحکام کا ہے۔ یعنی مسلمان قیادت و سیادت کے معاملے میں ایک طرح سے یتیمی کا شکار ہیں۔ اسلام ‏کے نظامِ حکومت نہ ہونے کی وجہ سے عالم اسلام جس بے چارگی کی عملی تصویر بنا ہو اہے، وہ انتہائی دُکھ انگیز ہے۔ ایسی بے ‏بسی پہلے کبھی دیکھنے کو نہیں ملی۔ یہی وجہ ہے عالم کفر مسلمانوں کی سیاسی یتیمی کا فائدہ اُٹھا کر اِنہیں ہر اُس طرح کی اذیت دے رہا ہے، جسے وہ ‏فروگزاشت نہیں کرنا چاہتا۔
تیسرا مسئلہ اقتصادیات کا ہے۔ہمارا ملک آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سمیت چین کے اس قرضوں کی دلدل میں گھیرا ہوا ہے۔جس سے نکلنے کے لیے عوام اور حکمران دونوں کر پائدار بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔

جمہوری ٹکڑوں میں بَٹا ہوا عالم اسلام اپنے دنیا پرست اور نام نہاد حکمرانوں کی وجہ سے مالی تنگیوں کا ‏ایسا شکار ہے، جس کی وجہ سے لوگ خودکشیاں تک کرنے پر مجبور ہیں۔ ایک جان ہی تو کسی بھی انسان کا آخری سرمایہ ہوتی ہے۔ جب کہ ‏اِس جان کی بقا پیٹ کے ساتھ جُڑی ہوئی ہے۔ جب عوام کے منہ کا لقمہ حکمران کے پیٹ میں چلا جائے تو تب غربت نہیں، غریب مٹتے ہیں۔ ‏یہی وہ مصنوعی غربت ہے، جو کافر کو کٹر کافر بناتی ہے۔ کمزور مسلمان کو مذہبی زندگی سے دور کرتی ہے اور پختہ مذہبی مسلمان کو پریشان کیے ‏رکھتی ہے۔ اِس غربت سے مال دار مزید دولت مند ہو جاتا ہے، جب کہ غریب مزید فقیر ہو جاتا ہے۔
عمومی نظر سے یہ تین وہ اہم مسائل ہیں، جو آج ہر مسلمان کی کہانی ہیں۔ اگر اِن مسائل کا عام نظر سے حل تلاش کیا جائے تو یہی سوچ ‏جڑ پکڑتی ہے کہ حالات کے سُدھار کے لیے بالترتیب اسلامی اصولوں پر مبنی نظام نافذ کیا جائے، سیاسی استحکام حاصل کیا جائے، ‏اور اقتصادیات کو مضبوط کیا جائے۔‘

شام، عراق، فلسطین، کشمیر، بوسنیا، چیچنیا، سنکیانگ، افغانستان، ‏ہندوستان اور برما کے ایمرجنسی حالات وقت کے لحاظ سے اتنی وسعت نہیں رکھتے کہ وہ ہماری ترتیب کا انتظار کرتے رہیں۔ جسدِمسلم کے ‏اِن زخمی اعضا کو جس قدر جلدی آرام دِہ مرہم کی ضرورت ہے، اُس کی جلدازجلد فراہمی سیاسی استحکام اور نیک تجربہ کار قیادت  ہی کے راستے سے ممکن ہے۔
ان چند ضروری مسائل کا حل حالات کے سُدھار کے لیے ایک ایسا علاج اور ٹانک ہے، اگر اِس طریقۂ علاج کو اس کے تمام آسمانی و زمینی تقاضوں کے ساتھ ‏اختیار کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ  سیاسی استحکام، اور مضبوط اقتصادیات‘ جیسے مسائل ازخود حل ہوتے چلے ‏جائیں گے۔

اور یہ ملک معاشی سیاسی معاشرتی خارجہ اور داخلہ پالسی کے لحاظ سے پرامن اور مظبوط ملک کے طور پر ابھر کا سامنے آسکتا ہے۔

شئیر کیجئے

PinIt

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.