کھلاڑی کھیل کے میدان سے سیاست کے ایوانوں میں

Sports-Say-Syasat-Tak-Ka-safr-Imran-Khan.jpg

تحریر عبدالجبار خان دریشک 

عمران خان کھیل کے میدان سے سیاست میں قدم رکھنے والے دنیا کے واحد کھلاڑی نہیں ہیں بلکہ عمران خان کی طرح بہت سارے کھلاڑی کھیل سے سیاست کے میدان میں اترے جن میں سے کچھ کامیاب سیاست دان بن کر سامنے آئے اور کچھ ناکام بھی ہوئے، لیکن عمران خان دنیا کا شمار دنیا ایسے کھلاڑی سیاست دانوں میں ہوتا ہے جو کھیل کے میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کے بعد سیاست میں بھی کامیاب ثابت ہوئے، عمران خان دنیا کے ان تین کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل چکے ہیں جو حکمران بنے ہیں۔ عمران خان نے 1992 میں ورلڈ کپ جیت کر دنیا بھر میں شہرت حاصل کی تھی اسی طرح الیکشن 2018 میں جیت حاصل کر کے دنیا بھر میں دوبارہ شہرت حاصل کر گئے ہیں دنیا بھر میں عمران خان کی بطور سٹار کھلاڑی ہونے کی وجہ سے فین فالونگ بہت زیادہ ہے اس لیے عمران خان کی سیاسی جیت کو بھی دنیا بھرمیں ورلڈ کپ کی جیت کی طرح دیکھا جارہا ہے ، مسلسل 22 سال کی جدوجہد کے بعد عمران خان کامیابی پر پوری دنیا حیران ہے۔
عمران خان پاکستان کے نئے وزیر اعظم کے طور پر چند دن میں حلف اٹھا لیں گے ، اور ان کے کاندھوں پر اصل ذمہ داری حلف اٹھانے کے بعد عائد ہوگی کہ وہ ملک کو کس طرح چلاتے ہیں ، سابق حکومت نے عمران خان کے لیے بہت سارے مسائل چھوڑے ہیں جن کے حل کرنے سے ہی کامیاب حکمران کہلائیں گے الیکشن میں کامیابی سے وہ کامیاب سیاست دان تو بن چکے ہیں لیکن ابھی کامیاب حکمران نہیں بنے ، عمران کامیاب حکمران تبھی کہلائیں گے جب وہ ملک میں معیشت کو مستحکم کریں گے ، مسقبل میں پانی کی کمی کے حوالے سے آبی ذخائر ، آلودگی کے خاتمے کے لیے کے پی کے کی طرح ملک بھر میں بلین ٹری ، بنیادی سہولیات ، تعلیم ، صحت ، روزگار عوام کو دیں گے ، پی آئی اے ، سٹیل مل ، اور دیگر اداروں کو دوبارہ منافع بخش بنانے میں کامیاب ہوں گے ، خیبر پختونخواہ کی طرح ملک بھر کی پولیس ، عدلیہ ، لینڈ ریکارڈ ، ہسپتال کو ٹھیک کر لیں گے تو واقعی کامیاب حکمران بن جائیں گے عمران خان کی طرح دنیا میں کامیاب حکمران کھلاڑی بھی موجود ہیں جو اپنے ممالک میں بہتر انداز میں حکمرانی کر رہے ہیں
دنیا میں امریکہ کے بعد روس طاقتور ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے ، روس سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد جس قدر بکھرا کہ کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ یہ ملک دوبارہ امریکہ کے سامنے سینہ چوڑا کر کے کھڑا ہوگا لیکن آج امریکہ جیسے سپر پاور کا صدر روس کے صدر سے ملنے کا خواہشمند پایا گیا اور جن کی ملاقات گزشتہ ہفتے ہوگئی ہے خیر بات کھلاڑی کی ہورہی ہے تو روس کے صدر ولادی میر پیوٹن بھی جوڈو کراٹے میں روس کے واحد 8th ڈان کھلاڑی ہیں جو مسلسل روس کے صدر بنتے آرہے ہیں ‘ اسی طرح عمران خان سے پہلے افریقہ کے بہترین فٹبالرز میں شمار ہونے والے جارج وی نے 14سال قبل ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست میں قدم رکھے اور گذشتہ سال لائبیریا کے صدر منتخب ہوئے۔
سیاست میں کامیاب رہنے والے دیگر کھلاڑیوں میں دنیاکے کامیاب ترین باکسرز میں شمار کیے جانے والے فلپائنی مینی پاکیو،ورلڈکپ 1994کے فاتح برازیلی فٹبالر روماریو،ا?سٹریلوی گلین لیزارس اپنے ملکوں میں سینیٹ کی نشست پانے میں کامیاب ہوئے۔نیوزی لینڈ کو ویمنز رگبی ورلڈکپ 1998جتوانے میں اہم کردار ادا کرنے والی لوئیسا وال ممبر پارلیمنٹ ہیں۔ پارٹی میں بھی ان کو مرکزی رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ 1980اور 1984اولمپکس میں 1500میٹر دوڑ میں برطانیہ کیلیے گولڈ میڈل حاصل کرنے والے سباستین کوئے بھی ممبر پارلیمنٹ ہیں، سابق ہیوی ویٹ چیمپئن باکسر وٹالی کلشکوو میئر کا عہدہ سنبھالے ہوئے ہیں۔ باڈی بلڈنگ اور ادکاری میں عالمی اعزاز پانے والے ا?رنلڈ سیاست کے میدان میں ا?ئے اور کیلیفورنیا کے گورنر بننے میں کامیاب رہے۔
سابق امریکی صدرگیرالڈ فورڈ جوانی میں ایک باصلاحیت فٹبالر کے طور پر جانے جاتے تھے لیکن کبھی ملک کی نمائندگی نہیں کی،اسی طرح بھارت میں بھی رکن پارلیمنٹ منتخب ہونے والے کھلاڑیوں کی طویل فہرست موجود ہے۔پاکستان کی طرح بھارت میں بھی کرکٹ مقبول ترین کھیل ہے جہاں پاکستان کے کھلاڑیوں نے دنیا کرکٹ میں نام کمایا ایسے ہی بھارتی کھلاڑی بھی کسی سے کم نہیں تھے ، عمران خان کی طرح بھارت کے سٹار کھلاڑی بھی سیاست کے اندر جگہ بناتے رہے لیکن عمران خان جتنی کامیابی نہ حاصل کر سکے جس کا اعتراف خود بھارتی میڈیا بھی کر رہا ہے ۔
کرکٹ کی دنیا کے عظیم بیٹس مین سچن ٹندولکر موجودہ وقت میں راجیہ سبھا یعنی بھارتی سینٹ کے رکن ہیں۔ سال 2012 میں سچن کو سینٹ” راجیہ سبھا” کے رکن کے طورپرنامزد کیا گیا تھا۔ سچن مزید سیاست میں نہیں رہنا چاہتے وہ کہتے ہیں کہ میں راجیہ سبھا رکن ضرور ہوں، لیکن ا?گے سیاست میں جانے کی خواہش بالکل بھی نہیں ہے۔ میں ایک کھلاڑی ہوں اور پوری زندگی ایک کھلاڑی ہی بنا رہوں گا۔محمد اظہر الدین کا شمار بھارت کے کے سب سے کامیاب کپتانوں میں ہوتا ہے اور ان کو میچ فکسنگ کے الزامات کی وجہ سے تاعمر پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کی وجہ سے ان کے دوڑتے کیریئر پر اچانک بریک لگ گئی تھی، کرکٹ کے بعد محمد اظہر الدین نے کانگریس کے ٹکٹ سے سیاست کے میدان میں قدم رکھا اوریوپی کے مرادآباد سے لوک سبھا کا الیکشن بڑے مارجن سے جیتا تھا۔ لیکن کرکٹ کے میدان کی طرح اظہر الدین سیاست میں بھی زیادہ کامیاب نہیں ہورہے۔
بھارت کے ایک اور کرکٹ سٹار نوجوت سنگھ سدھو کرکٹر سے لے کرکمنٹیٹری کرنے کے بعد سیاست میں آئے اور لیڈر بنے۔ نوجوت سنگھ سدھو کے کئی کردار ہیں۔ بین الاقومی کرکٹ میں 7000 سے زیادہ رنز بنانے والے سدھو نے 2004 میں سیاست میں قدم رکھا اور بی جے پی کی ٹکٹ پرلوک سبھا کا الیکشن بھی جیتا، لیکن زیادہ وقت تک ان کی بی جے پی سے بن نہیں پائی۔ گزشتہ اسمبلی الیکشن سے ٹھیک قبل سدھو نے بی جے پی سے استعفیٰ دے کر کانگریس کا دامن تھام لیا تھا سدھو پنجاب میں وزیر صحت بھی رہے ہیں اور پیشے کے اعتبار سے ایک ڈاکٹر ہیں ‘بھارت میں پرانے زمانے کے کھلاڑی چیتن چوہان آج سے 49 سال قبل 1969 میں اپنا پہلا ٹسٹ میچ کھیلنے والے چوہان نے بھی کھیل کو الوداع کہنے کے بعد سیاسی اننگ شروع کی تھی۔ 1981 میں ارجن ایوارڈ جیتنے والے چیتن نے بی جے پی کا دامن تھاما اورموجودہ وقت میں اترپردیش کے امروہہ سے ممبر پارلیمنٹ ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ مرکز کے علاوہ عمران خان کی حکومت کن صوبوں میں بنتی ہے ، اور ان کا الیکشن سے قبل پہلے سو دن کا پروگرام اس میں وہ کتنے کامیاب ثابت ہوں ساتھ ہی عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی کا منشور جس کو بہت تفصیل سے مرتب کیا گیا اس منشور میں تمام تر ادارے ، شعبہ ہائے زندگی ،وسائل ، کلچر ،معیشت ، صنعت ،زراعت ، فارن پالیسی کے بارے بہت اچھے اقدامات اٹھانے کا لکھا گیا ، عمران خان نے اپنی پہلی تقریر میں بھی ان پوائنٹ کو سامنے رکھا جو ان کے منشور کا حصہ ہیں۔عمران خان کی پہلی تقریر کو پاکستان سمیت پوری دنیا میں سراہا گیا بلکہ بھارت میں اس تقریر کو مثبت انداز میں لیا گیا ، اس تقریر کی تعریف حمزہ شہباز نے بھی کی ہے ، عمران خان تب اپنے منشور کو کامیاب بنا سکتے ہیں جب ان کی کابینہ میں بہترین اور محنتی ٹیم ہوگی ، اور وہ ساری کی ساری ٹیم عمران خان کی طرح پروٹوکول و اعلی مراعات کے بغیر گزارہ کر گئی تو پھر عمران خان کامیاب کھلاڑی سے کامیاب سیاست اور کامیاب حکمران بن جائیں گے ۔

 

Imran Khan sworn in as new Prime Minister of Pakistan

شئیر کیجئے

PinIt

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.