امریکا نے پاکستان کی عسکری امداد روک دی

USA-PAK-Flage.jpg

واشنگٹن: امریکا نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فیصلہ کن کارروائی میں ’ناکامی‘ پرالزام لگا کر 30 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد روک دی۔

واضح رہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال نام نہاد کولیشن سپورٹ فنڈ (سی ایس ایف) میں تخفیف کی تھی

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان پر الزام لگایا تھا کہ ’اسلام آباد نے ہمیں جھوٹ اور دھوکے کے علاوہ کچھ نہیں دیا‘۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اسلام آباد دہشت گردوں کو ’محفوظ پناہ گاہ‘ فراہم کررہا ہے جو افغانستان میں جنگ کررہے ہیں دوسری جانب پاکستان نے امریکی الزامات کو قطعی مسترد کردیا تھا۔

پینٹاگون کے ترجمان نے بتایا کہ ’جنوبی ایشیاء سے متعلق نئی حکمت عملی میں پاکستان اپنا فیصلہ کن کردار ادا نہیں کرسکا اس لیے 30 کروڑ ڈالر روک دیئے گئے ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ اگر کانگریس منظوری دے گی تو مذکورہ رقم’دیگر اہم منصوبوں‘ پر خرچ کریں گے۔

اس ضمن میں امریکا میں ڈان کے نمائندے انور اقبال نے بتایا کہ اگر فوری طور پر پاک امریکا تعلقات میں بہتری بھی آئی تو یہ رقم پھر بھی بحال نہیں ہو گی اور دوسرے پروگراموں میں استعمال کی جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ امریکا روکی گئی رقم کسی بھی دوسرے ملک یا پھر اپنی فوج کی ضروریات کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

انہوں نے اپنا تجزیہ پیش کیا کہ امریکا کی جانب سے روکی گئی رقم کا مقصد ایک پیغام ہے جس میں واشنگٹن نے واضح کردیا کہ اگر تعلقات رکھنے ہیں تو امریکا کے مطالبات پورے کرنے ہوں گے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’نومبر میں امریکی کانگرنس کے انتخابات ہوں گے اور قرین قیاس ہے کہ حکمراں جماعت ریپبلکن پارٹی انتخابات ہار جائے تاہم اس سے قبل وہ افغانستان میں سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کررہے ہیں تاکہ کانگریس انتخابات میں کامیابی کے امکانات بڑھ جائیں‘۔

پاکستان میں نئی حکومت منتخب ہونے کے بعد امریکی آرمی چیف اور وزیر خارجہ کی ملک میں آمد سے قبل امداد روکنے سے متعلق سوال کے جواب میں دفاعی تجزیہ نگار حسن عسکری نے کہا کہ ’اس سال کے آغاز سے ٹرمپ انتظامیہ نے دباؤ بڑھانا شروع کردیا تھا، کولیشن سپورٹ فنڈز تقریباً ختم ہو چکاہے جبکہ امریکا میں تین افواج کے لیے ٹریننگ کورس بھی گزشتہ چند ہفتوں سے معطل ہیں، جس کے بعد پاکستان کے عسکری اداروں کے افسران امریکا ٹریننگ کے لیے نہیں جا سکتے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’امریکا پاکستان سے اپنی ترجیحات من و عن تسلیم کروانا چاہتا ہے یعنی طالبان قیادت سے پاکستانی حکومت کا ہمدردانہ رویہ ختم کیا جائے تب جا کر امریکا عسکری تعاون میں اسلام آباد کی مدد کر سکتا ہے

حسن عسکری نے کہا کہ ’عسکری امداد سے متعلق فیصلہ آئند دنوں میں پاک امریکا اعلیٰ افسران کی ملاقات پر منفی اثرات مرتب کرے گا‘۔

شئیر کیجئے

PinIt

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.