حقانی نیٹ ورک کے سربراہ جلال الدین حقانی انتقال کرگئے

Haqani-Network.jpg

افغان طالبان کی جانب سے جاری اطلاعات کے مطابق حقانی نیٹ ورک کے سربراہ اور معروف افغان رہنما جلال الدین حقانی طویل علالت کے باعث انتقال کرگئے۔

افغان طالبان نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ جلال الدین حقانی کافی عرصے سے علیل تھے۔ بیان میں ان کیلئے جہادیوں سے دعائے مغفرت کی اپیل کی گئی ہے لیکن ان کے مرنے کی تاریخ اور تدفین کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

بیان میں ان کی موت کا اعلان اس طرح کیا گیا: ‘بڑے افسوس کے ساتھ ہم اپنے ایمان والے مجاہد افغانیوں اور وسیع اسلامی امت کو یہ اطلاع دیتے ہیں کہ معروف جہادی شخصیت، ممتاز عالم، مثالی جنگجو اور جہادیوں کے پیش رو، اسلامی امارات میں سرحد کے وزیر اور قائد کونسل کے رکن محترم الحاج مولائی جلال الدین حقانی طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ انّا للہ و انّا الیہ راجعون۔’

حقانی نیٹ ورک افغان طالبان کا ایسا حصہ قرار دیا جاتا ہے جو افغانستان میں موجود امریکی اور اتحادی افواج کےخلاف گوریلا جنگ میں مصروف ہے۔ موجودہ افغان حکومت کے خلاف ہونے والی متعدد کارروائیاں بھی اسی گروپ کے حصے میں ڈالی جاتی ہیں۔

جلال الدین حقانی افغانستان کے جنگجوؤں میں ممتاز اہمیت کے حامل رہے ہیں جن کی طالبان اور القاعدہ دونوں سے قربت تھی۔ انہوں نے القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کو سال 1990 کی دہائی میں تربیتی کیمپ قائم کرنے میں تعاون کیا تھا۔ 11 ستمبر سال 2001 کے حملے کے بعد حقانی نے اپنے نیٹ ورک کی کمان اپنے بیٹے کے ہاتھوں میں سونپ دی تھی۔

امریکہ حقانی نیٹ ورک پر کئی بڑے بڑے حملے کرنے کا الزام عائد کرتا ہے۔ اس سے قبل بھی حقانی نیٹ ورک کے سربراہ کی موت کی خبریں آتی رہیں ہیں اور ان کی تردید جاری کی جاتی رہی ہے۔ سال 2015 میں افغانستان میں حقانی نیٹ ورک کے قریبی ذرائع کی جانب سے یہ بھی دعوی کیا جاتا رہا کہ جلال الدین حقانی ایک برس قبل انتقال کر گئے ہیں، تاہم کسی ذرائع سے اس کی تصدیق نہ ہوسکی۔

حقانی نیٹ ورک افغانستان کے شمال مشرقی صوبوں کنڑ اور ننگرہار اور جنوب میں زابل، قندھار اور ہلمند میں مضبوط گروپ کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ جلال الدین حقانی کا تعلق افغانستان کے صوبہ پکتیکا سے تھا اور انہوں نے 1980 کی دہائی میں شمالی وزیرستان سے سابقہ سویت یونین کے افغانستان میں قبضے کے دوران منظم کارروائیاں کیں۔

حقانی نیٹ ورک کے بانی جلال الدین حقانی 2001 کے آخر میں اسلام آباد کے آخری سرکاری دورے پر آنے والے رہنماؤں میں سے ایک تھے۔ یہ وہی وقت تھا جب امریکا نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خلاف جنگ شروع کی تھی۔

خرابی صحت کے باعث جلال الدین حقانی فعال انداز میں تحریک کی سربراہی چلانے سے قاصر رہے اور کافی عرصہ قبل ہی آپریشنل ذمہ داریاں اپنے بیٹے سراج الدین حقانی کے سپرد کرچکے تھے۔

 

 

شئیر کیجئے

PinIt

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.