تحریک انصاف کے عارف علوی ملک کے 13ویں صدر منتخب

Arif-Alvi-Presiodent-Of-Pakistan-13-copy.jpg

تحریک انصاف کے امیدوار ڈاکٹر عارف علوی پاکستان کے 13 ویں صدر منتخب ہوگئے، اپوزیشن کے مولانا فضل الرحمان اور پیپلزپارٹی کے چوہدری اعتزاز احسن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق ڈاکٹر عارف علوی کو 353 ووٹ ملے، مولانا فضل الرحمان 185 اور چوہدری اعتزاز احسن 124 ووٹ حاصل کرسکے۔

سینیٹ و قومی اسمبلی

سینیٹ اور قومی اسمبلی کے مجموعی نتائج کے مطابق ڈاکٹر عارف علوی 212 ووٹوں کے ساتھ سب سے آگے رہے، اعتزاز احسن کو 81 اور مولانا فضل الرحمان کو 131 ووٹ ملے ہیں۔

بلوچستان اسمبلی

بلوچستان اسمبلی کے 61 میں سے 60 اراکین نے ووٹ کاسٹ کیا، ڈاکٹر عارف علوی کو 45 جبکہ مولانا فضل الرحمان کو 15 ووٹ ملے، اعتزاز احسن بلوچستان سے کوئی ووٹ حاصل نہ کرسکے، جب کہ نواب ثنا اللہ زہری واحد رکن اسمبلی تھے جو اپنا ووٹ کاسٹ کرنے نہیں آئے۔

خیبرپختونخوا اسمبلی

خیبر پختونخوا اسمبلی کے 112 میں سے 111 اراکین نے صدارتی انتخاب کیلئے ووٹ ڈالا، آزاد رکن اسمبلی امجد آفریدی ووٹ کاسٹ کرنے نہیں آئے۔

کے پی اسمبلی سے ڈاکٹر عارف  علوی کو 78، چوہدری اعتزاز احسن کو 5 اور مولانا فضل الرحمان کو 26 ووٹ ملے۔ فارمولے کے تحت خیبرپختونخوا اسمبلی سے ڈاکٹر عارف علوی کے 41، مولانا فضل الرحمان کو 14 اور چوہدری اعتزاز احسن کے حصے میں 3 ووٹ آئے۔

سندھ اسمبلی

سندھ اسمبلی سے موصولہ نتائج کے مطابق 163 اراکین میں سے 158 نے صدارتی انتخاب میں حق رائے دہی استعمال کیا، پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ڈاکٹر عارف علوی کو 56، پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار اعتزاز احسن کو 100 جبکہ مولانا فضل الرحمان کو صرف ایک ووٹ ملا۔

سندھ اسمبلی میں صدارتی ووٹ کے فارمولے کے مطابق اعتزاز احسن کو 39 اور ڈاکٹر عارف علوی کو 22 ووٹ ملے۔

پنجاب اسمبلی

صدارتی انتخاب کیلئے پنجاب اسمبلی کے 351 اراکین نے ووٹ ڈالے، 3 ارکان غیر حاضر رہے۔ ڈاکٹر عارف علوی کو پنجاب سے 33، مولانا فضل الرحمان کو 25 اور اعتزاز احسن کو صرف ایک ووٹ ملا۔

نمائندہ سماء سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کے پولنگ ایجنٹ خواجہ عمران نذیر نے بتایا کہ پنجاب اسمبلی میں 18 ووٹ مسترد ہوئے، جن میں 12 ووٹ ن لیگ کے تھے، پیپلزپارٹی کے 2 اور پی ٹی آئی کے 4 ووٹ بھی مسترد ہوگئے۔

ملک کے 13 ویں صدر مملکت کے انتخاب کیلئے  سینٹ، قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے 1100 سے زائد اراکین نے خفیہ رائے شماری کے ذریعے  ووٹنگ میں حصہ لیا۔ پی ٹی آئی کے ڈاکٹر عارف علوی، متحدہ اپوزیشن کے مولانا فضل الرحمان اور پاکستان پیپلزپارٹی کے چوہدری اعتزاز احسن کے درمیان مقابلہ ہے۔

آئین کے تحت تمام صوبائی اسمبلیوں میں صدارتی الیکشن کے لئے ووٹ سب سے کم 65 ارکان والی بلوچستان اسمبلی کے ارکان کے برابر ہوتے ہیں، قومی اسمبلی، سینیٹ اور بلوچستان اسمبلی کے ہر رکن کا ایک ایک ووٹ ہے۔

ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق صدر کے الیکٹرول کالج میں ہر صوبائی اسمبلی کے ووٹ 65/ 65 ہیں، بلوچستان اسمبلی کی ٹوٹل 65 کے مطابق 65 ووٹ ہر اسمبلی کے ہوں گے جس فارمولے پر ووٹوں کی تقسیم کی جائے گی۔

آئین میں درج طریقہ کار کے تحت پنجاب اسمبلی کی کل نشستیں 371، صدر کے انتخاب میں 5.7 ارکان کا ایک ووٹ ہوگا، سندھ اسمبلی کی نشستیں، 168ہیں، 2.58 ممبر کا ایک ووٹ، خیبر پختونخوا اسمبلی کی نشستیں 124 ہیں، 1.9 ارکان کا ایک ووٹ شمار ہوگا۔

ترجمان الیکشن کمیشن کا مزید کہنا تھا کہ ووٹرز اپنا اسمبلی کا شناختی کارڈ ہمراہ لائیں، اس الیکشن میں اسٹیمپ استعمال نہیں ہوتی، اس میں پینسل سے ٹک کیا جائے گا، نتیجے کا اعلان وفاقی حکومت کرے گی۔

 

الیکشن کمیشن سے جاری ووٹر فہرست کے مطابق سینٹ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نشستوں کی کل تعداد 1174 ہے لیکن صدارتی انتخابات کے لیے 1121 ارکان ووٹ ڈال پائیں گے۔ سینٹ کی 2 قومی اسمبلی کی 12 نشستیں خالی، چار صوبائی اسمبلیوں کی 30 نشستیں بھی خالی پڑی ہیں اور 9 نشستوں پر ابھی تک حلف نہیں اٹھایا جاسکا۔

 

صدارتی انتخاب کا عمل صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک جاری رہے گا، خفیہ رائے شماری کے تحت ہونے والے انتخاب میں موبائل فون سمیت کسی بھی کیمرہ ڈیوائس کا پولنگ اسٹیشن میں لانا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

صدارتی انتخاب کا آئینی طریقہ کار

آئین پاکستان 1973ء کا تیسرا باب پاکستان کی وفاق سازی کے مطلق ہے۔ صدر کا عہدہ شق 41 کی ذیلی ایک کی رو سے سربراہ مملکت اور وفاق کے اتحاد کی علامت ہے۔ ذیلی نمبر 2 کے مطابق جو شخص مسلمان نہ ہو، 45 سال سے کم عمر ہو صدر پاکستان نہیں بن سکتا۔ صدر کا انتخاب الیکٹورل کالج دونوں ایوان اور صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل ہوگا۔ صدراتی انتخاب کیلئے پولنگ خفیہ بیلٹ سے ہوتی ہے۔ بیلٹ پیپر پر امیدواران کے نام انگریزی حروف کی ترتیب سے لکھے جاتے ہیں۔

اگر کوئی بیلٹ پیپر ووٹر سے خراب ہو جائے تو وہ اسے واپس کر کے نیا حاصل کر سکتا ہے۔ اس کا پہلا بیلٹ پیپر منسوخ کر کے دوسرا جاری کیا جائے گا۔ بیلٹ پیپر ناقابل قبول ہو گا اگر اس پر کوئی لکھائی یا ایسا نشان ہو جس سے ووٹر کی نشاندہی ہو سکے، یا اس پر پریذائڈنگ افسر کے ابتدائی دستخط نہ ہوں۔ کسی امیدوار کے نام کے سامنے نشان نہ ہو یا ایک سے زیادہ امیدواروں کے ناموں کے سامنے نشان لگایا گیا ہو تو وہ بھی منسوخ سمجھا جائے گا۔ پولنگ کے اختتام کے بعد پولنگ افسر امیدواروں یا اس کے مستند ایجنٹ کی موجودگی میں بیلٹ بکس کھولے گا، خالی کرے گا، گنتی کرے گا اور بیلٹ پیپرز کے اوپر نوٹ پر لکھے گا۔

حلف

اگر دو یا زیادہ امیدوار ہیں تو ان میں سے زیادہ ووٹ لینے والا جیت جائے گا۔ شق نمبر 42 کے تحت

 

شئیر کیجئے

PinIt

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.