” یہ کانٹے کس کے بچھے ہیں؟

Shahaid-Ullah-Khan-Nokta-Etraz.jpg

تحریر : شاہد اللہ اخوند             

وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کا  باقاعدہ اقتدار میں آنے کا آج دسواں دن ہے۔ اتنے کم دنوں میں عمران خان حکومت سے ملکی معیشت میں بہتری، خارجہ داخلہ پالسی میں تبدیلی قرضوں کی اتار چھڑاوں کرپشن اور بد عنوانی میں کمی،  منی لانڈرنگ سے بیرونی ممالک میں بھیجے گئے رقوم کی واپسی سمیت دیگر اہم امور میں بہتری نہ لانے کا اعتراض کوئی بھی صاحب عقل نہیں کرسکتا اور نا ہی آئیندہ دو تین ماہ تک اس میں بہتری کی امید کی جاسکتی ہے۔

کیوں کہ پچھلے حکومتوں نے ملک کو جس ابتر صورت حال سے دو چار کردیا ہے اسے بحال ہونے ہونے کے لیے عرصہ دراز کی محنت درکار ہے۔

البتہ حکومت کے ابتدائی ایام سے حکومت کی پالسیز اور اپنے دعووں میں سچائی کو جانچا جاسکتا ہے۔

اس وقت عمران خان حکومت پر جس حوالے سے سب سے بڑا اعتراض عوام اور سیاسی قائدین کی جانب وارد ہورہا ہے۔

وہ ہے: ” کفایت شعاری اور سادگی ” کی دعووں  پر عمل درآمد نہ ہونا –

وزیر اعظم عمران خان برسر اقتدار آنے سے پہلے بارہا اس امر کا ذکر کرچکے ہیں کہ تحریک انصاف سادگی اور کفایت شعاری کو اپنائی گی۔

لیکن چند دنوں سے صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔

کہ وزیر اعظم عمران خان خود اور اس کے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار سرکاری ہیلی کاپٹر کا چند میل کے فاصلے طے کرنے کے لیے استعمال کررہےہیں۔

عمران خان بنی گالا سے وزیر اعظم ہاوس تک تقریبا ہر روز سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال کررہے ہیں۔

سینئر صحافی سلیم صافی اور برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق گذشتہ دنوں بنی گالہ میں عمران خان کے ایک ہمسائے نے سوشل میڈیا پر وزیرِاعظم کے زیرِاستعمال ایک ہیلی کاپٹر کی ویڈیو شیئر کی جس میں یہ لکھا گیا کہ یہ ہیلی کاپٹر آج کل بنی گالہ وزیرِاعظم کو لانے اور لے جانے کے لیے آتا جاتا ہے

عمران خان کی ذاتی  رہائش گاہ بنی گالا اور پرائم منسٹر ہاوس میں واقع پاک سیکرٹیریٹ تک فاصلہ محض 15 کلومیٹر بنتا ہے۔

جب کہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے بھی چند دنوں سے سرکاری طیارے اور ہیلی کاپٹر کا استعمال شروع کردیا ہے۔

پہلے عثمان بزدار جنوبی پنجاب سے اسلام آباد میں واقع چیف منسٹر ہاوس میں شفٹ ہونے کے لیے عثمان بزدار فیملی سمیت طیارے میں آئیں۔جب کہ گذشتہ کل ایک ہسپتال کا دورہ کرنے اور پھر وہاں سے ایک  رشتہ دار کی تعزیت کے لیے بھی انہوں نے سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال کیا ۔۔۔

جب کہ پنجاب سے اسلام آباد تک کا فاصلہ کچھ زیادہ نہیں۔

جس پر عوامی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی ۔

جس کے جواب میں  وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا نہایت مضحکہ خیز جواب سامنے آیا ۔کہ فی کلومیٹر 50-55 روپے تک پڑتا ہے۔جو کہ گاڑی استعمال کے مقابلے میں سستا پڑتا ہے۔جب کہ ٹریفک جام اور عوام کو تکلیف میں مبتلا ہونا بھی اس صورت میں نہیں پڑے گا ۔

عثمان بزدار کے حوالے سے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہیلی کاپٹر کے استعمال میں کیا برا ہے ؟ ہیلی کاپٹر خالی تو نہیں آسکتا ۔۔ جب کہ سستا بھی پڑتا ہے۔

لیکن فواد چوہدری کے اس مضحکہ خیز جوابات کا بھانڈا اس وقت پھوٹ گیا جب ہیلی کاپٹر کے خرچے کے حوالے سے بی بی سی کی رپورٹ سامنے آئی ۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عمران خان کی بنی گالا میں موجود رہائش گاہ سے پاک سیکرٹیریٹ کا فاصلہ 15 کلومیٹر بنتا ہے، ہوا بازی کی زبان میں یہ فاصلہ 8 ناٹیکل میل بنتا ہے، یوں 2 طرفہ سفر کا کل خرچہ 25 ہزار 6 سو روپے کے قریب بنتا ہے۔

جب کہ ایوی ایشن کے ایک ریٹائرڈ جنرل کے مطابق جو ہیلی کاپٹر عمران خان کے زیر استعمال  ہے وہ AW139 ہے۔جس کا فی گھنٹہ کاسٹ 2 لاکھ تک بنتا ہے۔

جب کہ بنی گالا سے وزیر اعظم ہاوس سیکرٹیریٹ تک کا فاصلہ ہیلی کاپٹر  تقریبا 30 سے 40 منٹ کے مابین طے کرتا ہے۔کیوں کہ دس بارہ منٹ ہیلی کاپٹر کے اڑنے میں بھی صرف ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی مختلف وزرا ہیلی کاپٹر اور طیاروں کا بے دریغ استعمال کرچکے ہیں۔لیکن انہوں نے پروٹوکول کے خاتمے اور سادگی کا دعوی نہیں کیا تھا۔

جب کہ اقتدار میں آنے سے پہلے عمران خان اور تحریک انصاف ان کو وی آئیپی پروٹوکول کی زد میں شدید تنقید کا نشانہ بناتے رہیں۔

اعتراض یہ نہیں کہ عمران خان نے ہیلی کاپٹر کا استعمال کیوں کرتے ہیں کیوں کہ سیکورٹی کے پیش نظر وزیر اعظم صاحب اور ان کے وزراء  کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ہیلی کاپٹر اور پروٹوکول کا استعمال کریں ۔

اعتراض یہ ہے کہ : کہ عمران خان صاحب نے وہ دعویں کیوں کیے جس کا پورا کرنا ان کے لیے مشکل ہو؟

عمران خان کے مطابق وہ صرف دو گاڑیاں رکھیں گے جب کہ پروٹوکول بھی نہیں لیں گے ۔ تو پھر فواد چوہدری کا یہ کہنا کہ اگر گاڑی میں جائیں گے تو عوام کو تکلیف کا سامنا ہوگا ۔ اپنے دعووں کا تضاد نہیں ؟

جب کہ عمران خان باقاعدہ طور پر خلفائے راشدین اور مختلف ممالک کے سربراہان کے  سادگی کی  مثالیں دیتے رہیں۔اور خود سادگی اپنانے کی پالسی پر بار بار زور دیتے رہے۔ اور اپنے وزراء کو  کفایت شعاری کا درس دیتے رہے۔

اگر عمران خان دعووں کے بجائے ملکی سلامتی اور ترقی پر زیادہ زور دیتے اور ان چیزوں میں نہ پڑتے تو آج ہر طرف سے ان اعتراضات کی بوچھاڑ کے دن دیکھنے پڑتے۔

اگر عمران خان وزیر اعظم میں رہتے ہوئے کفایت شعاری کو اپناتے تو نا ہی ہیلی کاپٹر کی استعمال کی نوبت آتی اور نا ہی دو جگہ بنی گالا اور وزیر اعظم ہاوس سیکورٹی کی مد میں دگنے خرچے کی نوبت آتی۔

وی آئی کلچر کے خاتمے کا بھی یہی حال ہے۔ اسے ختم کرنے کا دعوی کیا گیا تھا ۔

اس کے برعکس وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے 18 گاڑیوں کے پروٹوکول کا کیا ثابت کرتا ہے؟

ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کا پروٹوکول اپنے دعوی کا تضاد نہیں ؟

حکومت کو اس وقت جو اہم مسائل اور چیلنجز درپیش ہیں

وہ معیشت کی تنزلی، زر مبادلہ ذخائر میں کمی،  منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرونی ممالک منتقل کیے گئے رقوم کی واپسی ، قرضوں کی ادائیگی سمیت بے تحاشا مسائل ہیں

لیکن اس کے برعکس قوم اور حکومت ان چھوٹے مسائل میں الجھی ہوئی ہیں۔ جس کے طرف میڈیا کو توجہ دینا تھا اس طرف توجہ کیوں نہیں دی جارہی؟

ان چھوٹے مسائل میں قوم کو الجھانے کا زمہ دار کون ؟


نوٹ: باجوڑ ٹائمز اور اس کی پالیسی کا  بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ bajaurtimes@gmail.com  پر ای میل کریں۔

شئیر کیجئے

PinIt

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.