شاہ است حسینؓ۔۔۔۔۔۔!!

Shah-Ast-Hussain-Ihtsham-ul-Haq-.jpg

احتشام الحسن ، چکوال

دنیائے انسانیت اس دن کوکبھی نظرانداز نہ کرسکے گی،وہ منظرذہنوں میں نقش ہوچکاہے،تاریخ نے اسے اپنی پشت پر رقم کر لیا ہے،شاید ہی کوئی واقعہ ایساہوجس پراتنے آنسوبہائے گئے ہوں،اس دن آسمان سرخ ہوچکا تھا،سورج کو گہن لگ گیاتھا،تارے دن میں دکھ رہے تھے،رات ساسماں ہو گیاھا،اس لشکر کی خاک زعفرانی ہوچکی تھی،جڑوں سے کٹی گردنوں کاخون ہر طرف پھیلاہوا تھا،سرزمین شام کاکوئی پتھرایسانہ تھا جس کے نیچے تازہ خون نہ تھا،اس کی جدائی پر جنات بھی چیخ اٹھے تھے،زمین خون کے آنسورورہی تھی۔(معرفۃ الصحابۃ:۲؍۹،رقم الترجمہ:۵۶۱)
ألم ترأنّ الأرض أضحت مریضۃ
لفقدحسین والبلاد اقشعرّت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔    وقدأعولت تبکی السماء لفقدہ   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   وأنجمھاناحت علیہ وصلّت
کیوں نہ یہ سب کچھ ہوتا؟!!۔۔۔آخراٹھاکون تھا؟!!۔۔۔قربانی کس نے دی تھی؟!!۔۔۔وہ اپنے ناناکاچہیتا،ماں کالاڈلہ اور باپ کا پیاراتھا ،اسے ریحانۃ الرسول کالقب ملاتھا،وہ جنت کے نوجوانوں کا سرداراوراس کی والدہ جنت کی عورتوں کی سردار تھی،اس کاناناخاتم النبیین اورباپ فاتح خیبر تھا،وہ صورت ورنگت میں گردن تاپاؤں وجہ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا مشابہہ تھا،جس کے کانوں میں اذان ہادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی،جس نے نبوت کے ہاتھوں غذالی،اسلام کی گود میں پرورش پائی اورایمان کی آغوش میں پلا بڑاتھا،اس کا سرآج نیزہ کے سرے پرتھا۔(معرفۃ الصحابۃ:۲؍۹،رقم الترجمہ:۵۶۱)
ہجرت کے چوتھے سال اور شعبان کی پانچ تاریخ کوحضرت فاطمۃالزھراءؓ نے حضرت حسین بن علیؓ کو جنم دیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کوگود میں لیااورحضرت جبرائیل علیہ السلام لے کہنے پر’’حسین‘‘نام رکھا،(الاصابہ)حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایاکرتے تھے کہ:’’حضرت ہارون ؑ نے اپنے بیٹوں کے نام’’ بشر اوربشیر‘‘رکھے تھے اورمیں نے انہی کی طرح اپنے بیٹوں کے نا م’’حسن اورحسین‘‘رکھے، (معرفۃ الصحابۃ:۲؍۱۰،رقم الحدیث:۱۷۸۲)حضرت حسنؓ اورحسینؓ کی پیدائش کے درمیان پانچ دن یا ایک’’طہر‘‘کافاصلہ تھا،حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں میں نے اپنی ان آنکھوں سے دیکھااوران کانوں سنا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں میں حضرت حسینؓ کے ہاتھ تھے اورآپؓکے پاؤں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں مبارک پرتھے اور جھولادے کریہ فرمایا:’’اے للہ!میں اس سے محبت کرتا ہوں،تو بھی اس سے محبت کر۔‘‘ (الاستعاب:۱؍۲۳۸،رقم:۵۷۴)حضرت حسینؓ نے پچیس حج پیادہ کیے اوراکثرروزے رکھتے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسن اور حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں،(الترمذی؛۸۶۷۳)حسن کے لئے میری ہیبت سیادت ہے حسین کے لئے میری جرات وسخاوت ہے(الطبرانی فی الکبیر) اور جس نے ان سے محبت کی میں اس سے محبت کروں گا، جس سے میں نے محبت کی اس سے اللہ محبت کرے گا اور اسے نعمتوں والی جنت میں داخل کرے گا، اور جس نے دونوں سے بغض رکھا اس سے میں بغض رکھوں گا، جس سے میں نے بغض رکھا اللہ اس سے بغض رکھے گا اور اسے دردناک جہنم میں ڈالے گا(الطبرانی فی الکبیر)ایک جگہ فرمایا:’’حسین مجھ سے ہے میں حسین سے ہوں ، جس نے حسین کو محبوب رکھا اس نے اللہ کو محبوب رکھا ‘‘( ترمذی ) تمام اہل بیت کے بارے میں فرمایا: ’’ لوگو! اللہ کو محبوب رکھو ، کیوں کہ وہ تمہارا رب ہے اور تمہیں نعمتیں عطافرتا ہے، مجھے محبوب رکھو اللہ کی محبت کی وجہ سے اور میرے اہل بیت کو محبوب رکھو میری محبت کی وجہ سے ۔(ترمذی)
اہل کوفہ نے حضرت حسینؓ کو خطوط لکھ کر عراق میں بلوایا،آپؓ جب کربلا کی سرزمین پر پہنچے تو ۔۔۔بلوانے والوں نے ہی۔۔دھوکہ دیا، ۶۱ھ محرم الحرام کی ۱۰ تاریخ یوم عاشورہ۔۔۔جمعہ کے دن آپ کو شہید کر دیا گیا،اور ساتھ ہی چند کے علاوہ سب اہل خانہ کو بھی شہید کر دیا گیا،آپؓ کا قاتل سنان بن النخعی تھا، بعض نے کہاّ پ کو شمر بن ذی الحوشن نے قتل کیا، آپ کا سر مبارک کاٹ کر عبداللہ بن زیاد کی مجلس میں پیش کر کے یہ اشعار کہے۔
“اوقر رکابی فضۃ وذھبا”                             ” انی قتلت الملک المحجّبا”                   ”  قتلت خیر الناس أما وأبا”
(خیرہم اذ ینسبون نسبا) الاستیعاب:۱۔۲۳۵،رقم؛۵۷۴
حضرت حسینؓ نے اشاعتِ اسلام اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے اپنی جان نچھاور کردی اورشہادت کے عظیم رتبہ پر فائز ہوگئے، اور اپنا تن من دہن اللہ کی راہ میں قربان کرکے بارگاہ الٰہی میں سرخرو ہوگئے ۔ آج حضرت حسینؓ کے یوم شہادت کو غم کا دن گردانا جاتا ہے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ شہید کا مقام کچھ یوں بیان کرتا ہے :’’ اور جولوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جاتے ہیں ، ان کو مردہ مت کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، لیکن تم (ان کی زندگی کا) شعور نہیں رکھتے‘‘۔ (البقرہ :154) ایک اور جگہ فرمایا:’’ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے ہیں ، تم ان کو مردہ مت خیال کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، اور انہیں رزق دیا جاتا ہے۔ (آل عمران :۱۶۹) ، خود نبی اکرم ﷺ شہادت کی خواہش کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، میری آرزوہے کہ میں اللہ کی راہ میں شہید کیا جاؤں ، پھر زندہ کیا جاؤں ، پھر شہید کیا جاؤں ، پھرزندہ کیا جاؤں ، پھر شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں ، پھر شہید کیا جاؤں. ‘‘
شہادت ہے مقصود و مطلوب مؤمن٭ نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
آج شوشل ، الیکٹرونکس اور پرنٹ میڈیا کے ذریعہ ایسی سوچ ، فکر اور نظریہ گھول گھول کر پلایا جا رہا ہے۔ کہ حضرت حسینؓ کا تذکرہ آتے ہی ایک قسم کا غم چھا جاتا ہے ، ہر طرف مایوسی و ناامید ی کی لہردوڑ جاتی ہے اور ہر شخص نوحہ کناں نظر آتا ہے ۔ جب کہ حیات حسینؓ اور شہادت حسینؓ ہمیں یہ درس اور یہ سبق یاد دلاتا ہے کہ ہم احکام خداوندی کی خاطر کسی ملامت کی پرواہ نہ کریں، اپنے محبوب ﷺ کے طریقہ کو کسی نا معقول عذر کی وجہ سے قربان نہ کریں ، بلکہ ہمہ وقت دین کی سربلندی ، فرائض کی ادا ئیگی اور سنتِ رسول کو اپنا نے کے لیے اپنے تن من دہن کی بازی لگانے میں دریغ نہ کریں ۔
محمد کی شریعت پہ سر تسلیم خم کردو!٭ہوا شارہ تو اپنے ہاتھ اپنا سرقلم کردو!

شئیر کیجئے

PinIt

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.