کہنے کو بہت ہے،مگرمعاملات بگاڑنا نہیں چاہتے،شاہ محمود

Qureshii.jpg

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان کہنے کو بہت کچھ کہہ سکتا ہے، تاہم اس سے معاملات میں مزید تلخی آئے گی اور پاکستان معاملات سلجھانا چاہتا ہے۔

 

ANI

@ANI

: I can say a lot but I don’t want to worsen the situation, we want peace. Only a few words can worsen the situation: Shah Mehmood Qureshi, Pakistan Minister of Foreign Affairs at UN after India cancelled meeting with Pakistan at UNGA.

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے موجود پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارتی میڈیا سے مختصر اور خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ معاملات بگاڑنے کے لیے دو جملے چاہئیں لیکن معاملات بگاڑنا نہیں چاہتا۔

شاہ محمودقریشی کا کہنا تھا کہ ہم امن کے داعی ہیں، بہتری چاہتے ہیں،بہت کچھ کہہ سکتاہوں لیکن صورت حال مزید خراب نہیں کرنا چاہتا۔ شاہ محمود قریشی نے نیویارک میں ترک صدر، چین، جاپان، نیپال، سوئٹزر لینڈ اور قطر کے وزرائے خارجہ سے بھی ملاقاتیں کیں جبکہ قطر نےہنر مند پاکستانی ورکرز کو ایک لاکھ ملازمتیں دینے کی پیش کش کی ہے۔

 

واضح رہے کہ شاہ محمود قریشی پیر 24 ستمبر کو نیویارک پہنچے ہیں۔ جہاں ان کا 29 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب متوقع ہے۔ وزیر خارجہ جنرل اسمبلی کے سامنے عالمی امور پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے، جب کہ کشمیریوں پر ہونے والے بھارتی مظالم بھی دنیا کے سامنے رکھیں گے۔ شاہ محمود مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کریں گے۔

اسی روز بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج بھی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گی۔ واضح رہے کہ نیو یارک میں ہی شاہ محمود قریشی کی بھارتی وزیر خا رجہ سے ملاقات بھی ہونا تھی، تاہم بھارت ہاں کر کے اگلے روز ہی مکر گیا۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے عہدہ سنبھالنے کے بعد بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا جب کہ بھارتی وزیر اعظم کی جانب سے بھی عمران خان کو وزیراعظم منتخب ہونے پر مبارکباد کا خط لکھا گیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے بھارتی ہم منصب کو جوابی خط لکھا جس میں انہوں نے مسائل کے حل کے لیے مذاکرات پر زور دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات کا کہا۔ بھارت کی جانب سے دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان نیویارک میں ملاقات کی ہامی بھی بھرلی گئی لیکن پھر بھارت نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 24 گھنٹوں کے اندر ہی ملاقات سے انکار کر دیا۔

بھارت کی جانب سے وزرائے خارجہ ملاقات کی منسوخی کا جواز بی ایس ایف اہلکاروں کی ہلاکت اور پاکستان میں برہان وانی کے ڈاک ٹکٹ کے اجراء کو بنایا گیا۔ پاکستان نے وزرائے خارجہ ملاقات منسوخ ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے بھارت کی جانب سے مذاکرات سے راہ فرار قرار دیا۔ مذاکرات سے انکار کے بعد بھارتی آرمی چیف کی گیدڑ بھبکیاں بھی سامنے آئیں جس میں بھارتی جنرل بپن راوت نے کہا کہ پاکستان وہی کررہا ہے جو کرتا آیا ہے، پاکستان کو درد محسوس کرانے کا وقت آگیاہے، بھارتی جنرل راوت نے مزید اقدامات کرنے کی بڑھک بھی ماردی اور کہا کہ ہم اپنی اگلی کارروائی کی تفصیلات بتا نہیں سکتے، بھارتی فوج کی کارروائی میں ہمیشہ سرپرائز ہوتا ہے۔

شئیر کیجئے

PinIt

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.