پورٹ قاسم ڈاک ورکرز کا 33 ویں روز بھی کراچی پریس کلب کے باہر دھرنا جاری

Port-Qasim-Dock-workers-protest-Junaid-Shah-.jpg

جنید شاہ کراچی

پورٹ قاسم ڈاک ورکرز کا 33 ویں روز بھی کراچی پریس کلب کے باہر دھرنا جاری ہے، متاثرہ ملازمین کا کہنا ہے کہ اگر پیر تک تمام مطالبات منظور نہ کیے گئے تو اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا.

پریس کلب کے باہر دھرنے میں سینکڑوں ملازمین شریک ہیں. ہفتے کو بھی ملازمین نے بھرپور احتجاج کیا اور اپنے مطالبات کے لیے نعرے بازی کی. ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے ورکرز یونین پورٹ قاسم سی بی اے کے جنرل سیکریٹری حسین بادشاہ اور دیگر عہدیداران نے کہا کہ پرامن احتجاج کو مزدوروں کی کمزوری نہ سمجھا جائے. پیر کو پریس کانفرنس کے ذریعے احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کریں گے.

حسین بادشاہ نے کہا کہ متعدد ملازمین دوران مزدوری معذور ہو چکے ہیں. ان کا کہنا تھا کہ چینی کمپنی ہونینگ فویون پورٹ اینڈ شپنگ پرائیویٹ لمیٹڈ نے ڈاک ورکرز کی صرف 6 ماہ کی تنخواہیں دی ہیں اور ابھی بھی 4 ماہ کی تنخواہیں رکی ہوئی ہیں. پورٹ قاسم اتھارٹی بھی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہی ہے. جنرل سیکریٹری نے کہا کہ ہمارے چارٹرڈ آف ڈیمانڈ پر فی الفور معاہدہ کر کے عمل کیا جائے.

Port Qasim Dock workers protest

پورٹ قاسم ڈاک ورکرز کا 33 ویں روز بھی کراچی پریس کلب کے باہر دھرنا جاری ہے، متاثرہ ملازمین کا کہنا ہے کہ اگر پیر تک تمام مطالبات منظور نہ کیے گئے تو اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا. watch on YouTube # https://youtu.be/lGq3n2hD3JQ

Posted by Bajaur Times on Sunday, October 28, 2018

پورٹ قاسم اتھارٹی ڈاک ورکرز کے رکے ہوئے کارڈز فوری جاری کرے اور پورٹ قاسم میں ڈاک ورکرز ایکٹ 1974 پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے. انہوں نے کہا کہ ڈاک ورکرز کا معاشی قتل عام بند کیا جائے.

شئیر کیجئے

PinIt

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.