ملک بھرمیں احتجاجی مظاہرے،حکومت مذاکرات کیلئےتیار

Protest-Asiabibi-Cristian.jpg

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ملک بھرمیں جاری مظاہروں کے باوجود تحریک لبیک پاکستان سے مذاکرات کیلئے تیارہے۔

تحریک لبیک پاکستان ، جے یو آئی ف اور سنی تحریک سمیت دیگرمذہبی جماعتو ں نے آسیہ بی بی کیس کے فیصلے کیخلاف شدید ردعمل ظاہرکرتے ہوئے ملک بھرمیں احتجاجی مظاہروں اور ہڑتال کی کال دی ہے جس کے باعث مخلتف شہروں میں اسکول ، کالجزبند ہونے کے علاوہ موبائل سروس بھی معطل ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے صورتحال پر قابو پانے کی پوری کوشش کی جارہی ہے

وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے مظاہرین کیخلاف آپریشن کی خبروں کو غلط قرار دے دیا۔ کہتے ہیں مظاہرین کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور حالات کنٹرول میں ہیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ مظاہرین کے خلاف آپریشن کی خبریں غلط ہیں ، حکومت تشدد کی راہ اپنانا نہیں چاہتی۔

ملک بھر میں حالات کنٹرول میں ہیں،مظاہرین کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں حکومت عوام کی زندگی اور آزادی کی ضامن ہے مظاہرین کے خلاف آپریشن کی سوشل میڈیا پر خبریں غلط ہیں حکومت تشدد کی راہ نہیں اپناناچاہتی مذہبی امور نور الحق قادری آج بھی مظاہرین کی قیادت سے مذاکرات کریں گے،

فواد چوہدری کے مطابق حکومت عوام کی زندگی اور آزادی کی ضامن ہے، اس لیے تشدد کی راہ اپنائے بغیر آخری لمحے تک ہمارا آپشن معاملے کا پُرامن حل ہے۔

#protests spread over # Aasia Bibi acquittal

گستاخ رسول آسیہ مسیح کے رہائی کے خلاف جماعت اسلامی باجوڑ کا احتجاجی مظاہرہ۔

Posted by Bajaur Times on Friday, November 2, 2018

وزیر اطلاعات کا اپنی ٹویٹ میں مزید کہنا تھا کہ وزیر مذہبی امور نورالحق قادری آج بھی مظاہرین سے مذاکرات کریں گے۔

ڈی جی آئی جی ایس پی آرمیجر جنرل آصف غفور نے سرکاری خبر رساں ادارے سے گفت گو میں واضح کیا کہ آسیہ کا معاملہ قانونی ہے، معاملے میں پاک فوج کو تنقید کا نشانہ بنانا افسوس ناک ہے، انہوں نے کہا کہ فی الحال حکومتی سطح پر بات چیت کی جارہی ہے، افواج پاکستان کو طلب کیا گیا تو آرمی چیف مشورہ دیں گے۔

جنرل آصف غفور نے کہا کہ حکومت خود بھی معاملے کو حل کرنا چاہتی ہے، چار دن سے ملک میں لا اینڈ آرڈر کی صورت حال ہے، وہ قدم اٹھانے پر مجبور نہ کیا جائے جس کی آئین اجازت دیتا ہے۔اسلام ہمیں امن ، درگزر اور پیارکا درس دیتا ہے، ہمیں اسلامی تعلیمات اور قانون کو نہیں چھوڑنا چاہیے، نظر ثانی درخواست دائر ہوگئی، بہتر ہے کہ قانونی عمل مکمل ہونے دیا جائے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ عدالتی فیصلے میں فوج کو گھسیٹنا افسوس ناک ہے، افواج پاکستان دہشت گردوں کے خاتمے میں مصروف ہے۔

ملک بھر میں کون سے راستے بند ہیں؟

مذہبی جماعتوں کی جانب سے ہڑتال کی اپیل پرملک کے متعدد شہروں میں سڑکیں بند ہیں۔

کراچی

شارع فیصل پر ٹریفک رواں دواں ہے لیکن ہڑتال کی کال کے باعث پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ شہر میں دیگر 25 سے زائد مقامات پر سڑکیں بلاک ہونے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہے۔ ضلع ملیرمیں اسٹار گیٹ کے مقام پر روڈ بلاک ہے اس لیے ائرپورٹ جانےوالے یونی ورسٹی روڈ استعمال کریں۔

کراچی کے دیگرعلاقوں لانڈھی 89، لانڈھی 5 نمبر، لانڈھی نمبر 6، کورنگی نمبر 5، کورنگی نمبر 3، کورنگی ڈھائی نمبر اور قیوم آباد فرنیچر مارکیٹ کے اطراف سڑکیں بلاک ہیں۔ ضلع جنوبی میں ٹاور، رنچھوڑ لائن اور شو مارکیٹ کی سڑکیں بند ہیں۔ حب ریور روڈ بلدیہ، ماڑی پور روڈ، تین ہٹی، ناظم آباد، نیو کراچی نمبر 5 اور سرجانی ٹاؤن کے علاقوں میں بھی سڑکیں بلاک ہونے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہے۔

موٹرویز

ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق نیشنل ہائی وے پر گوجرخان اور راولپنڈی جانے والے ٹریفک کو متبادل راستہ دیا گیا ہے۔ ہائی وے پر ٹیکسلا، سوہاوہ، دینہ، سرائےعالمگیر، گجرات، چن دا قلعہ، مرید کے، نتھے خالصا، کلمہ چوک، پکا میل، چونگ، مولن وال، لوہاراںوالہ کھو، سندر اور مراکہ کے مقامات پر ٹریفک بلاک ہے۔

پنجاب/ لاہور

لاہور کے مرکز چیئرنگ کراس، مال روڈ، داتا دربار، شاہدرہ موڑ، جی ٹی روڈ، فیروز پور روڈ پر بھی کراچی کی طرح ہڑتال کی اپیل پر ٹریفک کی روانی متاثر ہے۔ شہر سے باہر اور اندر آنے والے افراد متبادل روٹس اختیار کریں۔ احتجاج ہڑتال کے باعث ٹرینیوں کا شیڈول متاثر اور آمد و رفت میں بھی تاخیر کا سامنا ہے۔

اسلام آباد

فیض آباد پرمختلف دھڑوں کے احتجاج کے باعث انٹرچینج بلاک اور ٹریفک کی روانی متاثر ہے۔ دیگر شہروں کو جانے والے افراد بھی پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے باعث مشکل میں ہیں۔ ڈھوک کالا خان، ترامڑی اور کرال چوک پر بھی سڑک بند ہونے کی وجہ سے ٹریفک بلاک ہے۔

خیبر پختونخوا/ پشاور

پشاور میں پیر زکوڑی پل کے قریب رِنگ روڈ بند ہونے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہے۔ جی ٹی روڈ پر بھی ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متاثر ہے۔ دوسری جانب موٹروے پولیس کے مطابق پشاور موٹر وے ایم ون ٹریفک کے لیے کھلا ہوا ہے۔

پس منظر

واضح رہے کہ 31 اکتوبر کو توہین رسالت کیس میں سپریم کورٹ نے ناکافی شواہد کی بناء پرمسیحی خاتون آسیہ بی بی کی بریت کا فیصلہ سنایا تھا جس کے بعد ملک بھرمیں مذہبی جماعتوں نے شدید ردعمل دیتے ہوئے احتجاج کا سلسلہ شروع کردیا۔

گزشتہ روزحکومت کی جانب سے احتجاجی مظاہرے ختم کرانے کیلئے مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس کی منظوری وزیراعظم عمران خان نے چین روانگی سے قبل دی تھی۔ کمیٹی میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی، وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری اور وزیر برائے فوڈ سیکیورٹی محبوب سلطان شامل ہیں۔

چین روانگی سے قبل ملک کی موجودہ صورتحال پر حکومت کا افہام و تفہیم سے کام لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے معاملہ پُرامن حل کیلئے متعلقہ افراد سے رابطے تیز کرنے کی ہدایت کی ۔عمران خان نے کہا کہ نازک معاملے پر کسی کو سیاست کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ریاستی رٹ سختی سے نافذ کی جائے گی

امن و امان کی حالیہ صورتحال کے پیش نظر چین جانے والا وفد بھی مختصرکردیا گیا اورگورنرسندھ عمران اسماعیل، فواد چودھری، وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا، سینیئر وزیر پنجاب علیم خان چین نہیں گئے۔

اس سے قبل سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 31 اکتوبرکو ہی قوم سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا تھا کہ آسیہ بی بی کیس کا فیصلہ آئین اورقرآن وسنت کے مطابق ہے۔

شئیر کیجئے

PinIt

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.