شیرعالم میمونه… حصہ اول. آج سے تین سال پہلے کی

0

تحریرمولانہ خان زیب

علاقه ناواگی جوکه موجوده وقت مین انتظامی طور پر موجوده باجوڑ ایجنسی کا حصه ھے اور ایک تاریخی علاقه ھے علاقه ناواگی باجوڑ کا ایک سب ڈویژن اور تحصیل کا درجه رکھتی ھے جسمین چارمنگ کا علاقه تحصیل ناواگی کا حصه ھے ناواگی خاص کی ابادی بشمول دره کمانگره کے تقریبا چالیس ھزار نفوس پر مشتمل ھے جبکہ پوری تحصیل نواگی کی ابادی 79000ہے تقریبا دو ھزار گھراور قوم ترکھانڑی کی پندره چھوٹے بڑے اقوام وقبائل یھاں پر بستی ھیں قیام پاکستان سے پھلے علاقه ناواگئ میں باقاعده ایک بڑی نوابی ریاست تھی اور خار نواب کے مقابلے میں بہت بڑے علاقے پر مشتمل تھی اور اکثر نواب اف ناواگئ اور نواب اف خار کے درمیان لڑائیاں اور جنگ بھی ھوتھی تھی جوکہ ناواگئ کے ناوابی کا ایک تاریخی شخصیت نواب صفدر خان گزرا ھے جنکا دور اندازا اٹھاره سو اسی اور انیس سو دس کے درمیان ھے مگر موجوده وقت میں انکے خاندان میں وه قابلیت وصلاحیت والا کوی جانشین نھیں رھا ھے اسی لےء یه سسٹم اب رو بہ بزوال ھے علاقه نواگئ کیء ھزار سال سے ایک اباد علاقه رھا ھے تاریخ مین کہا جاتا ھیں که جب 326قبل از مسیح میں سکندرے یونانی افغانستان کے بعد علاقه ناواگئ کے راستے داخل ھوا تو اس وقت ناواگئ کے اطراف مین اریگائن کے نام سے ایک بھت بڑا شھر اباد تھااور بقول سعدالله جان برق کے اس وقت اس علاقے مین اسپانسیان کی قوم اباد تھی جوکه پشتون تھے اور یه لفظ یوسفزی لفظ کی بگھڑی ھوی شکل ھے اس وقت یه علاقه بھت سرسبزوشاداب تھا سکندر کے فوج کے ساتھ اس علاقے کے باسییوں کی لڑای ھوی کیونکه اس وقت سکندری فوج کا مقابله بھت مشکل تھا اور مقامی لوگون کو شکست ھوی اور پھر سکندر نے جبرا لوگو سے دو لاکھ گاے اور دو لاکھ بیل بطورے تاوان جنگ کے لے لےء اس سےاس وقت کے اس علاقے کی شادابی کا اندازا ھوتا ھےپھر مغل دور میں پندراسو ستایس کے قریب مغل شھنشاه ظھیرالدین بابر علاقه ناواگئ سے ھوتا ھوا خار تک پھنچا اس وقت خار کا نواب حیدرعلی تھا ایک دن مین قلعه کے اندر بابر کی فوج نے تین ھزار باجوڑیوں کو شھید کیا اٹھاره سو ستانوے میں انگریز فوج ناواگئ کے علاقے دربنو تک اپہنچی اس وقت ونسٹن چرچل جوکه لفٹننٹ تھا اس فوج مین شامل تھا جوکه بعد میں جنگ عظیم دویم کے وقت برطانیه کا وزیراعظم تھا اور اسکی قیادت مین اس وقت کی اتحادی افواج نے جرمن طاقت کو شکست دیتھی چرچل اپنی کتاب مین لھکتے ھیں که ھماری فوج کو دربنو کے مقام پر سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا کیونکه اس وقت کے بڑے غازی اور مجاھد ملا نجم الدین المعروف اڈے مولا کے سربراھی مین غازیوں کا ایک بڑا پڑاو بیدمنے کے کنڈو پر تھااسی طرح انیس سو بیس مین ایک ازادی کا سپاھی اکبرشاه بدروشی گزرا ھے وه ناواگئ کے متعلق اپنی کتاب میں لکھتے ھے که میں حاجی صاحب ترنگزے سے ملاقات کے بعد رات گزارنے کےلے نواگئ ایاناواگئ ایک تاریخی علاقه ھے اس وقت ناواگئ بازار کی جگه پر وسطی ایشیا سے قافلے اکر پڑاوڈالتے تھےوه کہتے ہے که وقت آیگاکه اس جگه ایک بھت بڑی تجارتی منڈی بنے گی اس کے ساتھ وه ناواگئ کے وجه تسمیه کے بارے مین لکھتے ھے که جس نے بھی اس علاقے کو ناواگئ کا نام دیا ھے بڑا اچھا کیا ھے کیونکه یه باجوڑ کے پانی اور ھوا کےلے ناوا یعنی پرناله ھے اور ھر طرف پھاڑوں کے ناو ھی ناو نظر اتے ھین موجوده وقت میں باجوڑ کا تیسرا بڑا تجارتی مرکز تقریبا دو ھزار د کانوں پر مشتمل بازار واقع ھے اور اسمیں روز بروز وسعت ارھی ھیں اسکے ساتھ علاقه ناواگئ بیشمار قدرتی معدنیات سے بھر پڑا ھے مگر حکومتی عدم توجھی اور کچھ مخصوص لوگون کی سازشون کی وجه سے قوم اس سے مستفید نھیں ھوسکی ھے اس کے ساتھ ناواگئ جغرافیای طور پر اگر ایک طرف مومند ایجنسی کے ساتھ باڈر پر واقع ھے تو دوسری طرف ایجنسی کے سب سے بڑے باڈر ناوا پاس کے ساتھ بھی متصل واقع ھے جو که تقریبا دس سال سے سیکورٹی وجوھات کی بناء پر بند کردیا گیا ھے ناوا پاس پورے باجوڑ کے لے بالعموم اور علاقه ناواگئ کےاقتصادکےلے با لخصوص ریڑھ کی ھڈی کی حیثیت رکھتا ھے باجوڑ میں پورا امن ھے لھذا اس باڈر کو سیکورٹی کے نام پر مزید بند رکھنا اس پورے خطے کے ساتھ زیادتی ھے علاقه ناواگئ کے اور بھی بہت سےسماجی مسایل ھیں جن میں اس علاقے کے منتخب نمایندوں کی مجرمانه غفلت بھی شامل ھے جسکی وجه سے یه پورا علاقه پسماندگی کا شکار ہے جسپر پھر کبھی بات ھوگی فالحال اتا ھوں مشھور پشتو لوک داستان اور علاقه ناواگئ کی وجہہ ۓ شھرت شیرعالم میمونه کی طرف جسپر ایک رومانوی انداز سے ھٹ کر میں وقوع شدہ حقائق پر بات کرونگا اس داستان میں کتنی سچای ھے یه کب او ر کیوں ھوا تھا .جاری ھے.

 

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.