تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال

Smook.jpg

اسماء طارق 

ہمارے پروفیسر اپنے ایک طالبعلم کی اکثر تعریف کرتے رہتے تھے مگر کچھ دنوں پہلے وہ اس کے ذکر پر  افسردہ ہو گئے بتانے  لگے کہ  عرصے بعد پرسوں  میری ملاقات فیضان سے ہوئی تو میں اس کو پہچان بھی نہیں پایا۔ میلے کچیلے کپڑے،پھٹی ہوئی چپل، گویا کہ کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ فیضان  تم نے اپنا کیا حال بنا رکھا ہےتو وہ کہنےلگاکہ مجھے نشے نے تباہ و برباد کردیا ہے۔ میں کہا کہ کیا مطلب؟ کہنے لگا کہ میں ہیروئن کا نشہ کرتا ہوں ۔

یہ سن کر میں  یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی  کہ یہ تو ایک  نوجوان کی کہانی تھی  مگر اس کے علاوہ ایسے  ان گنت نوجوانوں کہانیاں ہمارے آس پاس موجود ہیں جن کو منشیات نے تباہ و برباد کر دیا ہے۔ایک اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں جو منشیات استعمال کی جاتی ہیں ان میں شراب ، ہیروئن ،چرس،افیون،بھنگ،کرسٹل کے علاوہ کیمیائی منشیات جیسے صمد بانڈ، نشہ آور ٹیکے اور سکون بخش ادویات شامل ہیں ۔ اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 76  لاکھ افراد منشیات استعمال کرتے ہیں جن میں 78 فیصد مرد اور 22 فیصد خواتین شامل  ہیں ۔

دنیا بھر میں بہت سے ممالک منشیات کے مسائل کا شکار ہیں جن میں پاکستان بھی شامل  ہے ۔  لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ برائی سڑکوں سے نکل کر نہ صرف   اب ہمارے تعلیمی اداروں تک رسائی پا چکی ہے بلکے ہماری تعلیمی جڑوں میں بھی سرایت کر گئی ہے  جسکی وجہ سے نوجوان طالب علم طرح طرح کی منشیات  شکار ہو کر اس کے  عادی بن جاتے ہیں اور اپنی زندگی تباہ و برباد کر لیتے ہیں   ۔ ایسے کئی واقعات ہیں جہاں پولیس نے کارروائی میں  ایسے کئی گروہوں کو گرفتار کیا ہے جو تعلیمی اداروں میں منشیات فراہم کرتے تھے ۔ یہ گروہ ملک کے جامعات میں طرح طرح کی منشیات سپلائی کرتے  ہیں  اور یہ گروہ کسی نہ  کسی طریقے سے جامعات سے جڑے  بھی ہونگے جس وجہ سے اکثر ان کی پہچان کرنا ممکن نہیں رہتا ۔ عموما یہ لوگ ایسی سرگرمیوں میں طالبعلموں کو بھی شامل کر لیتے ہیں اور نہ صرف ان کی زندگیوں کو تباہ کرتے ہیں بلکے انہیں   دوسروں کی بھی زندگی برباد کرنے پر اکساتے ہیں اور یوں  یہ  برائی انہی نوجوانوں کے ہاتھوں ہی پھیلتی جاتی ہے اور کئی اور  نوجوانوں کو بھی  اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے  اور یوں یہ کالی بھیڑیں  نقاب اوڑھے ہماری جڑیں کھوکھلی کرتی جا رہی ہیں اور ہم خاموش تماشائی بنے یہ سب دیکھ رہے ہیں ۔افسوس کہ یہ بیماری  ک بڑھتی ہی جارہی  ہے  مگر کسی کی اس طرف نظر ہی نہیں جاتی ہے ۔اور سب سے بڑھ کر اس سے شرم اور ذلت کا کیا مقام ہو گا جب وہ ادارے جہاں انسان کو انسان بنایا جاتا ہے اسے کسی قابل بتایا جاتا ہے وہی اسے کسی قابل نہ چھوڑیں  ۔ جب وہاں  انہیں  شعور اور آگاہی ملنے کی  بجائے انہیں  اسے سلب کرنے والی منشیات ملے تو  کیا  وقار رہ جائے گا ان اداروں گا  ۔ تعلیمی ادارے یہاں تو ہسپتالوں میں بھی  یہ گندگی پل رہی ہے جب   زندگی دینے والے خود زندگی چھیننا شروع کر دیں تو وہاں انسانیت کے  پاس شرمسار ہونے  کا  علاوہ کیا مقام رہ جائے گا مگر صد افسوس کہ ہم وہ شرم بھی محسوس نہیں کرتے اور اسی لیے تو ایسے لوگ  دیدہ دلیری کے ساتھ ہماری ناک کے نیچے یہ سب کر رہے ہوتے ہیں اور ہمیں خبر نہیں ہوتی  ۔۔

اب  ان عادی بچوں کو اس سب کے لئے پیسے بھی چاہیے مگر چونکہ اپنا کوئی وسیلہ معاش نہ ہونے کی وجہ یہ والدین پر ہی دپنڈ ہوتے ہیں اب والدین  سے تو انہیں صحیح طریقے سے  اس کام کے لیے پیسے کسی صورت نہیں مل سکتے سو وہ جھوٹ بولیں گے، ہیرہ پھیری کریں گے  حتی کہ ایسے بچے  اپنے ہی چوری اور ڈاکے ڈالنا شروع کر دیں گے اور اس میں دوستوں  کو بھی ملا لیں گے اور والدین تو تب خبر ہوتی جب وہ عادی بن چکے ہوتے ہیں ۔ منشیات کسی ایک آدمی کی زندگی تباہ نہیں کرتی  ہے بلکہ اس آدمی سے جڑے تمام لوگوں کی زندگیوں پر اپنا کالا سایہ چھوڑ  جاتی ہے جو ان کی زندگیوں کو بھی اندھیر نگری بنا جاتا ہے ۔منشیات  نسلوں کی نسلوں کو نگل جاتی ہے  ، یہ ہماری پوری قوم کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ ہمارے مستقبل کا معمار جنہوں نے ملک کو ترقی کی  آنچائیوں پر لے کر جانا ہے  وہ خود ایک زوال کا شکار ہیں ۔ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں پر نظر رکھیں ،انہیں  کسی ایسی ویسی کمپنی کا حصہ نہ بننے دیں، نظر رکھیں کہ وہ کن لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں اور کیسے مشاغل رکھتے ہیں تاکہ  اگر ایسی کوئی  حرکت ملے تو وقت  رہتے اس کا سدباب ہو سکے ۔

شئیر کیجئے

PinIt

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.