ماہ ربیع الثانی کے اہم واقعات اور رسم گیارہویں کی حقیقت

rabiul-awal-Artical.jpg

احتشام الحسن، 

ربیع الثانی قمری سال کا چوتھا مہینہ ہے ۔ربیع الثانی عربی زبان کا لفظ ہے۔ربیع کا معنی ’’بہار ‘‘کے ہیں اور ثانی کا معنی ہے:’’ دوسرا‘‘، مطلب پہلے کے بعد۔اسی لیے اسے’’ ربیع الآخر‘‘ بھی کہتے ہیں۔ اس مہینہ سے متعلق قرآن و حدیث میں کوئی خاص فضائل و احکام وارد نہیں ہوئے ہیں۔
ربیع الثانی کے کچھ اہم واقعات:
البتہ اس مہینے میں بہت سے تاریخی واقعات پیش آئے ہیں۔سب کا احاطہ کرنا تو دشوار ہے۔چند واقعات پیش خدمت ہیں۔اس مہینے میں اُم المومنین حضرت زینب بنت خزیمہؓ کا وصال ہو۔ان کی کنیت ’’ام المساکین‘‘ تھی۔ فقراء و مساکین کو نہایت فیاضی کے ساتھ کھانا کھلایا کرتیں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِجنازہ پڑھائی،جنت البقیع میں دفن ہوئیں، عمر 30برس تھی۔ربیع الثانی6ھ میں غزوہ ذی قرد پیش آیا۔ اِس غزوہ کو غزوۃ الغابہ بھی کہتے ہیں۔ربیع الثانی۲۳ھ میں صحابی رسول حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات ہوئی ۔ربیع الثانی۵۰ھ میں صحابی رسول حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کا انتقال ہوا۔ربیع الثانی۷۰ھ میں صحابی رسول حضرت عاصم بن فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات ہوئی۔ربیع الثانی۷۴ھ میں صحابی رسول حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات ہوئی۔ربیع الثانی۸۰ھ میں صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن جعفر طیار رضی اللہ تعالی عنہ کا وصا ل ہوا۔ربیع الثانی ۱۲۵ھ میں اموی خلیفہ ہشام بن عبد الملک کی وفات ہوئی۔ربیع الثانی ۲۴۸ھ میں عباسی خلیفہ المنتصر باللہ کی وفات ہوئی۔اس کے علاوہ بھی اہم واقعات اس ماہ میں پیش آئے، جنہیں اختصار کے پیش نظر ترک کیا جا رہا ہے۔
چھوٹی اور بڑی گیارہویں:
برصغیر پاک و ہند میں ایک عمل بہت رواج پاگیا ہے ، جسے شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کی جانب منسوب کیا جاتا ہے اور اسے’’گیارھویں شریف‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ہر قمری مہینے کی گیارہ تاریخ کو ’’چھوٹی گیارہویں‘‘ اور سالانہ، ربیع الثانی کی گیارہ تاریخ کو ’’بڑی گیارہویں شریف‘‘ منائی جاتی ہے ۔
گیارہویں کی ابتداء:
گیارہویں کی ابتداء کے حوالہ سے علامہ خالد محمود رحمہ اللہ ’’مطالعہ بریلویت‘‘ میں رقم طرازہیں :سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ گیارہویں چلی کہاں سے ہے ؟ اور ہندوستان میں انگریز کی آمد سے پہلے کیا کبھی گیارہویں کا عمل کسی جگہ ہوا تھا؟شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ چھٹی صدی میں پیدا ہوئے ۔ ظاہر ہے کہ اس سے پہلے اسلام کی پانچ صدیوں میں گیارہویں شریف کی رسم یا تقریب کہیں نہ تھی، آپ کے بعد یہ کب جاری ہوئی؟ اس کی تاریخی تحقیق نہایت ضروری ہے ۔ جب ہم اس کی جستجو کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ تیرہویں صدی کے نصف اول تک اہل السنۃ والجماعۃ میں گیارھویں کے نام سے کوئی دینی تقریب یا مذہبی رسم قائم نہ ہوئی تھی….ہم تو اس کی تلاش کرتے کرتے تھک گئے ؛ مگر افسوس! کہ ہمارے ان صاحبوں نے بھی جو کہ اسے بڑی دھوم دھام سے مناتے ہیں، اس سلسلہ میں ہماری کوئی مدد نہیں کی اور اس باب میں کوئی مستند حوالہ ہمیں نہیں دکھاسکے ۔(مطالعہ بریلویت:۶/۳۱۳)
متاخرین کی خود کاریاں:
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میرے استفسار پر میرے استاذ شیخ عبدالوہاب متقی علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا :بعض متأخرین نے بعض مغربی مشائخ کی زبانی بیان کیا کہ جس دن حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ نے وصالِ الٰہی فرمایا،اس دن کو لوگوں نے از خود دیگر دنوں کی بہ نسبت زیادہ خیر وبرکت اور نورانیت کا دن بنالیا ہے ۔ اس کے بعد تھوڑی دیر سر جھکائے رہے ، پھر سر اٹھا کر ارشاد فرمایا کہ زمانہ ماضی میں یہ سب التزامات کچھ نہ تھے ، یہ سب تو صرف متأخرین کی اختیار کی ہوئی باتیں اورخود کاریاں ہیں۔ (ما ثبت بالسنۃ:۶۹)یہی وجہ ہے کہ ہندوستان سے باہر عراق (جہاں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کا مزار ہے ) اور مصر وشام بلکہ ملیشیا اور انڈونیشیا تک کہیں یہ بات نہیں ملتی کہ کسی مسجد یا مدرسہ یا کسی قبرستان میں کوئی تقریب ‘گیارہویں شریف’ کے نام سے منعقدکی گئی ہو۔ (مطالعہ بریلویت:۶/۳۱۳)
شیخ عبد القادر جیلانی کی تاریخ وفات میں اختلاف:
اگر یوں دن منانے شروع کیے جائیں تو سال بھر میں کوئی دن خالی نہیں ملے گا۔روزانہ کسی نبی ، رسول، صحابہ، تابعین ، تبع تابعین اور اولیاء و صلحاء میں سے کسی کی وفات کا دن ہوگا۔اس طرح تو جینا ہی دشوار ہوجائے گا۔کاربار زندگی ٹھپ ہوجائے گا۔دین آسان ہونے کی بجائے مشکل سے مشکل تر ہو جائے گا۔اب حقیقت حال یہ ہے کہ شیخ عبد القادر رحمہ اللہ کی تاریخ وفات میں بھی اختلاف ہے۔شیخ عبد القادر اربلی نے ’’‘تفریح الخاطر فی ‘‘ میں مختلف اقوال بیان کیے گئے ہیں:اختلاف ہے کہ آپ نے ربیع الثانی کی کس تاریخ میں وصال فرمایا، ’’رسالہ نور احمدی‘‘ میں’’ دس‘‘ اور ایک روایت میں ’’گیارہ‘‘ ربیع الثانی کو آپ کا وصال ہوا۔’’تحفہ قادریہ‘‘ میں لکھا ہے کہ آپ’’ ۱۷‘‘ کو اور’’ اوراد قادریہ‘‘ میں لکھا ہے کہ’’ ۱۷‘‘ یا ’’۱۳‘‘ کو وصال فرمایا۔(تفریح الخاطر فی مناقب سید عبد القادر:۹۹، انوار القرآن پبلی کیشنز، لاہور)اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے خلفاء ومریدین ومتبعین نے بھی دن وماہ کی تعیین کے ساتھ برسی اور یومِ وفات منانے کا اہتمام نہیں کیا؛ اگر کیا ہوتا تو تاریخِ وفات میں اتنا شدید اختلاف نہ ہوتا۔
شیخ عبد القادر جیلانی کا قول:
شریعت سے ہٹ کر اپنے طرف سے کسی بدعت کا اختراع کرنے والے کے بارے میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:اپنے آقا کی خوشنودی سے محروم ہے وہ شخص جو اس پر تو عمل نہ کرے جس کااس کو حکم کیا گیااور جس کا آقا نے حکم نہیں دیا اس میں مشغول رہے ، یہی اصل محرومی ہے ۔یہی اصل موت ہے اور یہی اصل محرومیت ہے۔(فتاویٰ رحیمیہ جدیدترتیب :۲/۷۷،بحوالہ الفتح الربانی :۴۴۰)
ہندوانہ رسم:
‘تحفۃ الہند’ میں مولانا عبیداللہ سندھیؒ گیارہویں اور دیگر بدعات کو ہندوانہ رسومات کے مشابہ قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں : ہندو یہ اعتراض کریں کہ ثواب سے متعلق تو مسلمانوں میں بھی ہندو ؤں جیسی رسومات موجود ہیں، مثلاً مسلمانوں نے بھی دن مقرر کرتے ہیں، جیسے مردہ کے لیے سوئم کو جسے قل کہا جاتا ہے اسی طرح چالیسویں کی کو پلنگ بچھاکر طرح طرح کے کھانے رکھ کر یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ یہاں مردے کی روح آتی ہے، جبکہ بعض کا خیال ہے کہ گھر سے روح نکلتی ہیں اسی دن ہے، چھ ماہی اور برسی کی رسومات بھی کرتے ہیں۔ حضرت پیرانِ پیر کی فاتحہ سے گیارہویں اور سترہویں کے علاوہ اور کسی تاریخ کو نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔بعض مسلمان بزرگوں کی نیاز یں اس امید پر دیتے ہیں کہ وہ بزرگ، ان کی اولاد اور ان کے رزق میں ترقی دیں گے، یا ان یہ کوئی مراد پوری کریں گے، اور ان کو یہ خوف رہتا ہے اگر وہ ایسا نہ کریں تو ان کو کچھ نقصان ہو جائے گا، جبکہ بعض کے خیال میں ایسا کرنا یعنی نیاز دلانا فرض ہے، اور اگرکوئی گیارہویں نہیں کرتا، تو اس کو طعنہ دیا جاتا ہے، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی طرح مسلمان بھی مُلّا کو بولا کر ختم دلاتے ہیں، اور جب تک مُلّا اس پر کچھ پڑھ نہیں لیتا، اس کے کھانے میں کسی کو ذرہ سابھی کھانے کو نہیں دیتے۔۔۔۔۔۔۔ یہ رسومات دین اسلام کی کتابوں سے ثابت نہیں، بلکہ کچھ نہ سمجھ آدمیوں نے شاید ہندوؤں کو دیکھا دیکھی ایسا کرنا شروع کردیا ہے، یہی نہیں اسلامی دینِ اسلام میں تو دوسرے دین والوں کی ریس (نقل) کرنا سخت منع ہے۔۔۔۔۔۔ جیسا کہ جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ من تشبہ بقوم فھو منھم۔‘‘ یعنی جس نے کسی دوسری قوم کی نقل کی وہ ہم انہیں میں سے ہے۔ لہذا ان رسومِ باطلہ کی دینِ اسلام میں کوئی حیثیت نہیں۔۔۔۔۔۔۔ لہذا جو ایسا کرتے ہیں، وہ گناہگار ہیں۔‘‘(تحفۃ الہند:۱۸۶ تا ۱۸۹)
یاد رکھنے کی باتیں:
دو باتیں یاد رکھنے کی ہیں۔ایک یہ کہ ایسے موقعوں پر ایصالِ ثواب اور کھانا کھلانے کے فضائل و دلائل منطقی انداز میں پیش کر کے مختلف رسومات و بدعات کو ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے۔جن کا حقیقت سے کچھ تعلق نہیں۔ایصالِ ثواب اور کھانا کھلانے کا ثواب تو سال بھر کے ہر دن میں حاصل کیا جاسکتا ہے۔کسی ایک دن کے ساتھ ہی کیوں خاص کیا جارہا ہے۔اگر ثابت ہے تو خاص اس دن کی فضیلت پر دلائل دیں؟دوسری بات یہ کہ وہ لوگ جن کو علم نہیں ہوتا وہ بھی دیکھا دیکھی فقط ثواب کے حصول کے لیے ایسی رسومات و بدعات میں شامل ہوجاتے ہیں۔ان کو منع کیا جائے؛ کیوں کہ یہ دن رسم و بدعت کے لیے خاص کر دیے گئے ہیں۔بدعات اور رسومات کے تشبہ سے بھی بچنا چاہیے۔

شئیر کیجئے

PinIt

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.