سکھ یاتریوں کےلیے خصوصی کرتارپورراہداری کا افتتاح آج عمران خان کریں گے

Kartapoor-Border-1.jpg

پاکستان میں پنجاب کے ضلع نارووال کی تحصیل شکرگڑھ میں بھارتی سرحد سے صرف ساڑھے 4 کلو میٹرکے فاصلے پر گورودواراکرتار پورآنے کےلئے خصوصی راہداری کا افتتاح آج دوپہر 2 بجے ہورہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان اس تقریب میں شرکاء سے خصوصی خطاب بھی کریں گے۔ 15بھارتی صحافیوں کا وفد بھی اس تقریب میں شرکت کرے گا۔

کرتارپور میں اس مقام پر بابا گرونانک صاحب نے زندگی کے آخری 18 سال گزارے ۔انھوں نے سکھوں کے دوسرے گرو کے طور پراپنا جانشین مقررکیااور یہیں بابا گرو نانک کا انتقال ہوا۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے بتایا کہ سکھوں کی سہولت کیلئے بارڈر کھول رہے ہیں،6مہینے میں کام مکمل ہو جائے گا۔ گوردوارا کرتارپورصاحب کی یاترا کیلئے اب ویزہ پابندی ختم ہوجائے گی۔ بھارت سے آنے والے سکھ یاتری صرف اسپیشل پرمٹ لے کر ہی اپنے مقدس ترین مذہبی مقام کی زیارت کرسکیں گے ۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ کرتارپورراہداری کا افتتاح وزیراعظم کیطرف سے بہترین اقدم ہے، آئندہ سال نومبر میں باباگرونانک کے 550ویں جنم دن سے پہلے یہ راہداری کھل جائے گی ۔ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اقلیت کوبہت اہمیت دیتا ہے، راہداری سرحد کے دونوں جانب کی سکھ برادری کیلئے

اہمیت رکھتی ہے۔

جب دو پنجابی ملتے ہیں تو ایسے ہی گلے لگتے ہیں،سدھو

ترجمان نے واضح کیا کہ بارڈرکھلنے کے بعد ویزہ فری انٹری ہوگی۔اقلیتوں کے حقوق کا ہمیشہ پاکستان نے تحفظ کیا ہے۔ ترجمان دفترخارجہ نے بتایا کہ سارک سربراہ کانفرنس کےلئے ابھی بھارتی وزیراعظم کو مدعو نہیں کیا گیا، بارڈرکے کھلنے سے پاکستان کا بہتر امیج  دنیا کے سامنے آئے گا۔

پاکستان نے بارڈر ٹرمینل بنا دیا ہے،جہاں پارکنگ، امیگریشن اور میڈیکل کی سہولیات دستیاب ہونگی۔ پہلے مرحلے میں بارڈر سے گوردوارا کرتار پور صاحب تک کیلئے مخصوص دورانیے کے اسپیشل پرمٹ جاری ہونگے۔بھارت سے یاتری خصوصی بس پر کرتارپور راہداری سے یہاں پہنچیں گے ۔

پرمٹ حاصل کرنے کے بعد یاتریوں کومخصوص ٹرانسپورٹ کے ذریعے گوردوارا صاحب سے ملحقہ پارکنگ تک پہنچایا جائے گا ۔بائیو میٹرک تصدیق کے بعد یاتری گورودوارا میں مخصوص وقت کیلئے، مکمل آزادی کے ساتھ اپنی مذہبی رسومات ادا کر سکیں گے۔پھر پرمٹ ہولڈر یاتریوں کی بارڈر ٹرمینل تک واپسی اسی مخصوص ٹرانسپورٹ اور مخصوص راستے سے ہوگی ۔دوسرے مرحلے میں ویزہ لے کر آنے والے یاتریوں کیلئے کرتار پور صاحب میں ہوٹل اور قیام گاہیں بھی بنیں گی۔

کرتارپورراہداری سے12کروڑسکھوں کوخوشی نصیب ہوئی،سدھو

اس سے قبل ،گذشتہ روز، بھارتی سیاست دان اور سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے لاہور آمد کے موقع پر واہگہ بارڈر پر میڈیا سے بات کرتےہوئے سدھو نے بتایا کہ یہ خوشی مجھ سمیت 12 کروڑ سکھوں کو ملی ہے۔ عمران خان کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے یہ موقع عطا کیا۔ 71 سال کا انتظار کرتارپور راہداری کی صورت میں مکمل ہوا۔

کرتارپور راہداری کے  افتتاح کے موقع پر لاہور آمد کےبعد انھوں نے کئی اشعار پڑھ کر لاہور کے دورے پرشکریہ ادا کیا۔سدھو نے ہندوستان کی جانب سے پاکستان کا شکریہ ادا کیااور کہا کہ اپنا بیتا ہوا دور یاد کرنے آیا ہوں، گرونانک کی وجہ سے دونوں ملک قریب آئے ہیں،عمران خان نے جو بیج بویا وہ پودا بن گیا ہے۔

بھارتی سیاست دان نے کہا کہ نفرتیں محبت میں تبدیل ہوسکتی ہیں،کسی متنازع بات سے رنگ میں بھنگ نہیں ڈالنی چاہئے،مذہب کو سیاست سے نہیں جوڑنا چاہئے، کھلاڑی جوڑنے والے ہوتےہیں۔ انھوں نے بتایا  کہ عمران خان کا بچپن سے مداح ہوں،فنکاراور کھلاڑی ایک دوسرے کو جوڑتے ہیں،90 فیصد شائقین پاکستان اور بھارت میچ کے منتظر ہیں۔

انھوں نے اگست میں اپنے دورہ پاکستان کے موقع پر تنقید کرنے والوں کو بھی معاف کردیا۔نوجوت سدھو نے کہا کہ یہ راہداری امن کا راستہ ہے، یہاں سب مرادیں پوری ہونی ہیں، بابا نانک کی بھائی چارے کا پیغام آگے جائے گا،پنجاب آپس میں تعلق بڑھتا ہےتو خوشحالی 6 مہینے میں 60 سال کی ہوگی۔ انھوں نے واضح کیا کہ بطورکانگریس کے رہنما کے، اگلے انتخابات میں پاکستان سے تعلقات بڑھنا کا نقصان نہیں ہوگا۔

بھارت نے پاکستان کے جذبہ خیرسگالی کوٹھکرادیا

تین روز قبل ،بھارت نے ایک بارپھرپاکستان کےجذبہ خیرسگالی کو ٹھکرادیا تھا۔ بھارتی پنجاب کےوزیراعلیٰ امریندرسنگھ نے وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کوخط تحریر کیا جس میں انتہائی تضحیک آمیزجواب میں روایتی ہرزہ سرائی کی گئی۔ امریندرسنگھ نے پاکستان کو بھارتی ریاست پنجاب میں دہشتگردی کا ذمہ دار ٹھہرادیا۔ امریندرسنگھ نے کہا  کہ سرحد پر بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے باعث نہیں آسکتا،ایل اوسی پر روزانہ بھارتی فوجی مارے جارہے ہیں۔

وزیراعلیٰ  نے مزید کہا کہ کشیدگی اور ہلاکتوں کا سلسلہ تھما تو گردوارہ کرتارپور صاحب  پرحاضری دوں گا۔خط میں انھوں نے یہ بھی تحریر کیا ہے کہ امید ہے عمران خان دونوں ملکوں کوامن کے راستہ پرگامزن کریں گے۔

اس سے قبل وفاقی وزیرِاطلاعات فواد چوہدری نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا تھا کہ کرتار پورراہداری کھلنے سے نئی تاریخ رقم ہوگی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نےایک بار پھر اپنے طرز عمل سے ثابت کردیا کہ کون امن چاہتا ہے اور کون مخلص نہیں۔ فواد چوہدری نے کہا کہ تاریخ ان لوگوں کے بارے میں فیصلہ دے گی جوغلط طرف کھڑے تھے، وزیراعظم عمران خان نے واضح کرد یا ہے کہ پاکستان امن کا حامی ہے۔

شکریہ عمران بھائی: نوجوت سنگھ سدھو کاوزیراعظم کیلئے پیغام

اس کے علاوہ اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ کرتارپور راہداری کے افتتاح کے موقع پر 2 بھارتی وزراء کی شرکت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ سکھ برداری کو قریب لانے کے لیے پاکستان کی کوششوں کا بھارت نے مثبت جواب دیا ہے۔ پاکستان نے دنیا بھر کے سکھوں کا ایک کوشش کے ذریعے دل جیت لیا ہے۔

انھوں نے امید ظاہر کی کہ کرتارپور راہداری کےذریعے لاکھوں سکھ پاکستان آئیں گے جن میں امریکا سمیت دنیا بھر میں بسنے والے سکھ برداری کے لوگ شامل ہیں۔ وزیرخارجہ نے پرعزم لہجے میں کہا کہ پاکستان میں سکھوں کا خوشگوار انداز میں خیرمقدم کیا جائے گا اور وہ پاکستان اور اس کے عوام کا اچھا تاثر لے کر یہاں سے جائیں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان نے کرتارپورراہداری تقریب میں بھارتی وزیرخارجہ کو مدعو کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور سشما سوراج کو دعوت نامہ بھی ارسال کردیا گیا۔ تاہم انھوں نے آنے والے انتخابات کی وجہ سے معذرت کرلی اور کہا کہ بھارت کے 2 وزراء ہرسیمرت کور بادل اورہرد یپ سنگھ پوری اس تقریب میں شرکت کریں گے۔

اس کے علاوہ ،گذشتہ روز اہم پیشرفت کے حوالے سے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وزیرِاعظم عمران خان نے منصب سنبھالنے کے بعد اپنی اولین تقریر میں بھارت کو مل بیٹھنے کی دعوت دی تھی ،ہم آج بھی اسی پالیسی پرعمل پیرا ہیں، ہمارا مثبت طرزعمل اور خلوص نیت پوری دنیا کے سامنے ہے۔

پچھلے ہفتے حکومت پاکستان کی تجویز پر بھارتی کابینہ نے کرتار پور راہداری کھولنے کی منظوری دی تھی۔ بھارت کی جانب سے گرداسپور سے پاکستان سرحد تک ڈیرہ بابا نانک تک راہداری کی تعمیر کی جائے گی۔

شئیر کیجئے

PinIt

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.