خادم رضوی کے خلاف بغاوت اور دہشتگردی کا مقدمہ درج

Khadim-Hussain-Rizwi.jpg

حکومت نے خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری سمیت تحریک لبیک پاکستان کے رہنماؤں و کارکنوں کیخلاف بغاوت اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ فواد چوہدری کہتے ہیں کہ احتجاج کی آڑ میں لوٹ مار، سرکاری و نجی املاک کو تباہ کیا گیا جبکہ خوف و ہراس بھی پھیلایا گیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی، پیر افضل قادری، عنایت الحق شاہ، فاروق الحسن سمیت دیگر رہنماؤں کیخلاف بغاوت اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک لبیک پاکستان کے 3 ہزار کے قریب دیگر رہنماء و کارکنان کیخلاف سرکاری و نجی املاک کو تباہ کرنے، لوٹ مار اور خوف و ہراس پھیلانے پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کئے جارہے ہیں۔

تحریک لبیک پاکستان نے آسیہ بی بی کی رہائی کیخلاف ملک بھر میں احتجاج کیا تھا، اس دوران شرپسند عناصر نے سرکاری و نجی املاک تباہ کیں، خواتین سے لوٹ مار کی جبکہ درجنوں گاڑیوں کو نذر آتش بھی کردیا تھا۔

فواد چوہدری نے مزید کہا کہ ریاست آئین کی صورت میں قوانین طے کرتی ہے، معاشرے کیلئے اصول ریاست ہی طے کرتی ہے، ریاست میں تمام سیاسی جماعتیں اور ادارے یکجا ہوتے ہیں، کچھ شرپسند عناصر نے ہمارے نظام کو تباہ کرنے کی کوشش کی، فیض آباد دھرنے میں لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ آئین اور قانون کے اندر احتجاج سب کا حق ہے، احتجاج کے دوران لوٹ مار کے ساتھ گاڑیاں بھی جلائی گئیں، احتجاج کے دوران کروڑوں روپے کا نقصان ہوا، احتجاج کے معاملے کو سیاست سے بالاتر ہوکر دیکھا گیا، حکومت نے فساد پھیلانے والوں کیخلاف آپریشن کیا۔

فواد چوہدری نے ریاست کا ساتھ دینے پر اپوزیشن کا شکریہ ادا کیا، بولے کہ ہم نے واضح کردیا تھا نظام آئین کے تابع رہے گا، قانون سب کیلئے برابر ہے، آپریشن تمام جماعتوں کو اعتماد میں لے کر کیا گیا۔

حکومت نے جمعہ 23 نومبر کو تحریک لبیک پاکستان کیخلاف آپریشن کا آغاز کیا، اسی روز علامہ خادم حسین رضوی، پیر افضل قادری سمیت درجنوں رہنماؤں اور سیکڑوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا

شئیر کیجئے

PinIt

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.