ساہیوال،پولیس فائرنگ سے 4 افراد کی ہلاکت،ملوث اہلکار گرفتار،بچے لاہور منتقل

ساہیوال کے علاقے اڈا قادر کے قریب محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اسکواڈ کی  گاڑی پر فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔ مرنے والوں میں خاتون اور بچی بھی شامل تھی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم کے باوجود ابھی تک واقعہ کی تحقیقات سامنے نہ آسکیں۔ پولیس نے ملوث اہلکاروں کو بھی گرفتار کرلیا گیا، جب کہ کارروائی میں زخمی بچوں کو لاہور اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

واقعہ سے متعلق وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن نے فوری ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آر پی او سے بات ہوئی ہے، واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں، صورت حال کچھ دیر میں واضح ہو جائے گی، ابتدائی تحقیقات کے بعد حقائق سامنے آئیں گے، وزیراعلیٰ نے آئی جی پنجاب سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

اس سے قبل سی ٹی ڈی حکام کا دعوی سامنے آیا تھا کہ چاروں افراد مبینہ اغوا کار تھے، جو بچوں کو اغوا کرکے لے جا رہے تھے۔ اہل کاروں نے گاڑی روکنے کا اشارہ کیا تو مبینہ اغوا کاروں نے اہل کاروں پر فائرنگ کردی۔ جوابی فائرنگ سے گاڑی میں سوار چاروں افراد موقع پر جاں بحق ہوگئے۔ مرنے والوں میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔

 

بعد ازاں سی ٹی ڈی حکام نے بتایا کہ مرنے والوں کا تعلق کالعدم تنظیم سے تھا۔ گاڑی میں تین بچے بھی سوار تھے،جن میں ایک لڑکا اور دو بچیاں شامل ہیں۔ بچے کو گولی لگی ہے جب کہ دونوں بچیاں گاڑی کے شیشے لگنے سے زخمی ہوئیں۔ سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق ساہیوال میں ہلاک دہشت گرد کی شناخت ذیشان کے نام سے کی گئی ہے۔ دہشت گرد کالعدم تنظیم کا نائب امیر تھا، آج کی کارروائی فیصل آباد آپریشن کا تسلسل ہے، یہ نیٹ ورک یوسف رضا گیلانی کے بیٹے اور امریکی شہری کے اغوا میں ملوث تھا۔

عینی شاہدین

عینی شاہدین کے مطابق کار سواروں نے نہ گولیاں چلائیں، نہ مزاحمت کی، گاڑی سے اسلحہ نہِیں بلکہ کپڑوں کے بیگ ملے۔ گاڑی میں بچے بھی موجود تھے۔ عینی شاہدین کا یہ بھی کہنا تھا کہ اہل کار بچوں کو پہلے ساتھ لے گئی، پھر پیٹرول پمپ پر چھوڑدیا، کچھ دیربعد واپس آکر تینوں بچوں کو اسپتال پہنچایا۔ عینی شاہدین کے مطابق مرنے والی خواتین کی عمریں 40 سال اور 13 برس کے لگ بھگ تھیں۔

 زخمی بچے کا بیان

دوسری جانب فائرنگ سے زخمی ہونے والے بچے نے اسپتال میں میڈیا کو اپنے بیان میں بتایا کہ وہ گاڑی میں سوار ہو کر چچا کی شادی میں شرکت کے لیے بورے والا گاؤں جارہے تھے۔

پولیس اہلکاروں کی گرفتاری اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا قیام

وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملوث اہلکاروں کی گرفتاری اور مکمل تحقیقات کی ہدایت کردی،  جس کے بعد آئی جی پنجاب نے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی، ڈی آئی جی ذوالفقار حمید کو جے آئی ٹی سربراہ بنایا گیا ہے، جب کہ آئی ایس آئی، آئی بی اور ایم آئی کے اہلکار بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔ آئی جی پنجاب نے جے آئی ٹی کو واقعے کی تحقیقات مکمل کرکے 3 روز میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ بعد ازاں پنجاب پولیس نے واقعہ میں ملوث تمام اہلکاروں کو  گرفتار کرکے تفتیش شروع کردی۔ قبل ازیں پولیس کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ یہ کارروائی دی ٹی ڈی کی جانب سے کی ہے، اس سلسلے میں وہ کوئی بیان نہیں دے سکتے۔

 اہلِ علاقہ کا فیروزپور روڈ پر احتجاج

علاوہ ازیں ساہیوال واقعے میں مارے جانے والے افراد کے اہلِ علاقہ نے واقعے کے خلاف فیروزپور روڈ پر احتجاج کیا اور سڑک بلاک کردی جس کے باعث میٹرو بس سروس معطل ہوگئی۔ اہلِ علاقہ نے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا فوری مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ملزمان کو سزا نہیں ملتی احتجاج جاری رہے گا۔

وزیراعظم عمران خان

واقعہ کی اطلاع ملنے پر وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھی نوٹس لیتے ہوئے فوری ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا حکم اور واقعہ کی اصل تحقیقات منظر عام پر لانے کا حکم دیا گیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.