مولانا فضل الرحمٰن کا صوبائی اسمبلی میں قبائلی اضلاع کی نشستوں میں اضافے کا مطالبہ

Qaid-Fazal-Rahman-PEsh.jpg

متحدہ مجلدس عمل کے مرکزی صدر اور جمیعت علماء اسلام ف کے امیر مولوان فضل الرحمٰن نے قبائلی اضلاع کو صوبئی اسمبلی 16 نشستیں دیے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نشستوں میں آبادی کے تناسب سے اضافے کا مطالبہ کردیا۔

ضلع کونسل ٹانک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیرجمیعت نے الزام عائد کیا کہ قبائلی اضلاع کی آبادی کے مقابلے میں اضلاع کو دیں گئیں سیٹیں کم ہیں جبکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا اس حوالے سے فیصلہ حقائق کی بنیاد پر نہیں۔

27جنوری کو ڈی آئی خان میں ملین مارچ کے حوالے سے مولانا فضل الرحمٰن نے بتایا کہ ضلع کی تاریخ میں لوگ ریکارڈ تعداد میں حکومت مخالف مارچ میں شرکت کریں گے۔

سانحہ ساہیوال کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس غیرانسانی فعل سے متعلق حقائق سے قوم کو آگاہ کیا جائے۔

امیر جمیعت نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت یقینی بنائی جائے،

مولانا فضل الرحمٰن نے اس امر پر زور دیا کہ حکومت معاشی بحران پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے، ایک سال کے اندر تیسرا بجٹ پیش کرنا پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت بیٹھ  چکی ہے موجودہ حکومت کے ہوتے ہوئے جس کا اٹھنا محال نظر آتا ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے الزام عائد کیا کہ الیکشن کے دوران بدترین دھاندلی ہوئی، مقتدر طبقہ نے دھاندلی کے ذریعہ عمران خان کو قوم پر مسلط کیا، جیتنے والے خود بھی دھاندلی مان رہے ہیں جبکہ دھاندلی کے ذریعہ آنے والے لوگوں سے ملک سنبھالا نہیں جارہا۔

امیرجمیعت نے اپوزیشن جماعتوں پر زور دیا کہ مشترکہ حکمت عملی طے کرنے کیلئے تمام جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجائیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان کی کسی سیاسی جماعت سے دشمنی نہیں تاہم وہ حکومت کی غلط پالیسیوں اور ایجنڈوں کے خلاف میدان میں رہیں گے۔

شئیر کیجئے

PinIt

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.