پختونخوا: محکمہ تعلیم کے مرد ملازمین، خواتین سے رابطہ نہیں کرپائیں گے

خیبر پختونخوا کے محکمہ تعلیم نے مرد ملازمین پر خواتین ملازمین سے رابطہ کرنے پابندی عائد کردی ہے۔ محکمہ کے مرد ملازمین خواتین ملازمین سے فون، میسج، واٹس ایپ اور فیس بُک پر رابطے پر بھیa رابطہ نہیں کرسکیں گے۔

محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق خواتین ملازمین کے ساتھ دفتری امور سے متعلق تمام تر رابطے خواتین ہی کریں گے اور اس پابندی کا اطلاق اسکولوں کی اساتذہ سے لیکر اوپر تک ہوگا۔

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے مشیر برائے تعلیم ضیاء اللہ بنگس نے سماء ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خواتین ملازمین کی جانب سے شکایات موصول ہورہی تھیں کہ مرد افسران دفتری امور میں ان سے رابطہ کرنے کے بعد بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ذاتی معاملات تک پہنچ جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض خواتین اساتذہ اور دیگر ملازمین کی جانب سے ہراسانی کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں جس کے باعث پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔

ضیاء اللہ بنگش نے کہا کہ خواتین کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات پر تاحال کسی مرد افسر کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی تاہم اس پابندی کے اطلاق کے بعد خلاف ورزی کرنے والے ملازمین کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.