پاکستانی قبائلی علاقوں میں اکیسویں صدی ابھی نہیں آئی۔ شاہد علی خان

جون ایلیانے کہا تھا کہ اکیسویں صدی پاکستان میں آئی نہیں بلکہ اغواء کرکے لائی گئی ہے۔ جون نے یہ بات شائد کسی اور context میں کہی ہو مگر یہاں ہم ان سے جزوی اتفاق کرنے جارہے ہیں۔ ماڈرنزم، ٹیکنالوجی، تعلیم، قانون، انسانی حقوق، اور اکسیویں صدی کی دوسری جدید سہولیات کو بنیاد بنایا جائے اور اس کو پاکستان کے قبائلی علاقہ جات کے تناظر میں دیکھا جائے تو جون کے اس جملے کے پہلے حصے کی عملی شکل سامنے آتی ہے۔ منفی خبروں کے حوالے سےہیڈلائنز کاحصہ بننے والے پختونخوا کے قبائلی علاقوں کا انتظامی نظام ایک سال پہلے تک ایسے قوانین کے تحت تھا جو کسی بھی لحاظ سے اکیسویں صدی سے ہم آہنگ نہیں تھے۔ ایک طویل جدوجھد کے بعد پاکستانی ریاست راضی ہوگئی اور ان علاقوں سے ایف سی آرکا خاتمہ کرکے اس نظام کا خاتمہ کردیا جو پاکستانی آئین و قانون کے متوازی یہاں نافذ تھا۔ یہ اقدام جہاں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور سراہے جانے کے قابل ہے وہاں ناکافی اور آدھے ریلیف کی مترادف ہے۔ کیونکہ جن بحرانوں سے یہ علاقے گزرے ہیں اور جتنا یہ پیچھے چلے گئے ہیں، دوبارہ تعمیر اور کمپینسیٹ کرنے کے لئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہیں۔ ایف سی آر کے خاتمے کے بعد بھی ایک طویل فہرست ہے جس پر ریاست کو غور کرنا ہے۔انفراسٹرکچر کی بحالی، معیاری تعلیم و صحت اور متعلقہ اداروں کی تعمیر و فعالیت، انٹرنیٹ اورگڈ گورننس کی فراہمی۔۔ایک طویل مسافت ہے جو طے کرنی ہے۔ بلڈنگز سمیت قبائلی علاقوں کا انفراسٹرکچر تباہ ہوچکا ہے۔طالبان کے دور میں سرکاری عمارات کو نشانہ بنایاجاتا تھا۔ جو عمارات تباہ کی گئیں ان میں سرکاری اسکول اور لیویز کے پیکٹ/ چیک پوسٹس نمایاں تھے۔ لیویز کے پیکٹس تو دوبارہ بن گئے ہیں مگر اسکولوں کی ایک بڑی تعداد اب بھی بحالی کے منتظر ہیں۔ تباہ ہونے والے اسکولوں کے علاوہ وہ اسکول ہیں جن کو فعال بنانے کی ضرورت ہیں۔ فعالی کے منتظر ان اسکولوں کے 2 بڑے ایشوز ہیں۔ ان میں بعض گھوسٹ اسکول ہیں اور بعض میں اسٹاف کی کمی کو پورا نہیں کیا جاتا۔ ایسے بھی اسکول ہیں جہاں 2 ڈھائی سو بچوں کو پڑھانے کے کے لئے 2 استاد ہوتے ہیں۔ایسے میں تعلیم اور ٹیچنگ کا معیار کیاہونگا، تصور کیا جاسکتا ہے۔ طالبان کے خلاف آپریشن کے دوران بھی انفراسٹرکٹر اور بلڈنگز کو نقصان پہنچا۔ ٹینکوں سے سڑکوں کو بہت نقصان پہنچا ہے جن کو ایسے ہی چھوڑا گیا ہے اور آج گاڑیوں کے چلنے اور سفر کرنے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ معلومات، ٹی وی ، انٹرنیٹ تک رسائی کے حوالے سے صورت حال انتہائی مایوس کن ہے۔ ملک کےباقی علاقوں کے مقابلے میں قبائلی علاقوں میں بجلی، ٹی وی کیبل تک رسائی کا تناسب انتہائی کم ہے۔ کچھ چیزوں کو ممکن بنانے میں وقت لگتا ہے جس کے لئے ریاست کو رعایت دی جاسکتی ہے مگر بعض اقدامات محض ایک میٹنگ کے متقاضی ہوتے ہیں۔قبائلی علاقوں میں انٹرنیٹ کی بندش کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اکیسوی صدی کے اس اہم ترین سہولت سے یہاں کے باشندوں کو محروم رکھا گیا ہے۔ تعلیم محض ریاست کے منطورشدہ اور چھاپ شدہ کتابوں کے مطالعے کا نام نہیں ہے،نہ ہی صرف کنوینشنل طریقے سے آپ بہتر تعلیم دے سکتے ہیں۔ جدید سہولیات اور طریقوں سے استفادے کا حق جتنا ملک کے دوسرے شہریوں کا ہے اتنا قبائلی شہریوں کا بھی ہونا چاہئے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے موبائل براڈبینڈ (3g, 2gانٹرنیٹ) کی سہولت اس پورے علاقے میں مکمل طور پر ناپید ہے۔ پی ٹی سی ایل براڈ بینڈ محض شہری علاقوں تک محدود ہے۔ پی ٹی سی ایل لینڈ لائن رورل علاقوں تک پھیلایا ہی نہیں گیا ہے۔گلوبلائزیشن کے دور میں بھی یہاں کے باشندے دنیا سے الگ تھلگ رہ رہے ہیں۔ طالب علم کو اپنے علاقے سے باہر کی تعلیمی مواقع کا پتہ نہیں۔ بعض اوقات ایک طالب علم کواپلائی کرنے کے لئے 30، 40 کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ ۔ وہ آگے جانا بھی چاہے تو وہ یہ نہیں جان سکتا کہ وہ کتنے اسکالرشپس سے استفادہ کرسکتا ہے۔ انٹرنیٹ کی بندش ایک طرف، بعض علاقے ایسے بھی ہیں جہاں کال کرنے کے لئے سیلولر سروسز تک دستیاب نہیں ہیں۔ یعنی اج بھی چند علاقے ایسے ہیں جہاں کے باشندے موبائل تک کی سہولت سے محروم ہیں۔ باقی چیزوں کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ ایک صدی سے ذائد فرسودہ قوانین کے تحت اور جدیدیت سے ناآشنا رکھنے، طالبانائزیشن اور بحرانوں کی زد میں رہنے والے قبائلی علاقے پچھلی صدی میں رہ چکے ہیں۔ ان کو اس صدی میں لانے کے لئے ریاست مزید کوتاہی نہ دکھائے۔


نوٹ: باجوڑ ٹائمز اور اس کی پالیسی کا  بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ bajaurtimes@gmail.com  پر ای میل کریں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.