مشال خان قتل کیس : پی ٹی آئی کونسلرسمیت 2 ملزمان کو عمر قید، 2 بری

انسداد دہشت گردی پشاور کی عدالت نے مشال قتل کیس کا فیصلہ سنادیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے کونسلرعارف خان سمیت  دو ملزمان کو بری اور دو کو عمر قید کی سزا سنادی گئی ۔

مشال خان کو 13 اپریل 2017 میں عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کیمپس میں مشتعل ہجوم نے توہین رسالت کا الزام عائد کرتے ہوئے تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس سے وہ دم توڑ گئے تھے۔

مشال خان قتل کیس میں نامزد آخری 4 ملزمان سے متعلق فیصلہ انسداد دہشتگردی عدالت پشاور کے جج محمود الحسن خٹک نے سنایا جو 12 مارچ کو محفوظ کیا گیا تھا ۔ فیصلے سے قبل  چاروں ملزمان کو سخت سیکیورٹی میں عدالت پہنچایا گیا۔

عدالتی فیصلے کے تحت عمر قید کی سزا پانے والوں میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کونسلر عارف خان اور اسد کاٹلنگ شامل ہیں جبکہ ملزمان صابر مایار اور اظہار عرف جونی کو بری کردیا گیا۔

مشال خان شعبہ ابلاغ عامہ کے طالبعلم تھے . سوشل میڈیا پر مشال خان پر کیے جانے والے تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اس کیس کو خاصی شہرت حاصل ہوئی ۔

کیس میں مجموعی طور پر 61 ملزمان کوگرفتار کیا گیا جن میں سے مرکزی ملزم عمران کو 2 بارسزائے موت، 5 ملزمان کو 25 سال قید جبکہ 25 ملزمان کو چار سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

کیس میں 26 ملزموں کو رہا کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے جبکہ چار سال قید کی سزا پانے والے ملزمان کو پشاور ہائیکورٹ نے ضمانت پر رہا کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

مرکزی ملزمان عارف خان ،اظہار اللہ ،اسد خان اور صابر مایار کو روپوشی کے بعد گرفتارکیا گیا تھا جن کے خلاف 12 مارچ کو محفوظ کیا جانے والا فیصلہ 16 مارچ کو سنایا جانا تھا تاہم نامعلوم وجوہات کی بنا پر21 مارچ تک موخر کردیا گیا تھا ۔

کیس کے دوران مشال خان کے والد اور 46 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیےگئے

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.