باجوڑمیں 2016سے بند انٹرنیٹ سروس بحال

باجوڑ: (شاہد خان)قبائلی علاقہ جات میں 7 اگست 2008 کو دہشت گردوں کے خلاف باقاعدہ طور پر بڑا آپریشن شروع ہوا جسے ” آپریشن شیر دل ” کا نام دیا گیا.اس آپریشن کی کمانڈ ایف سی کے میجر جنرل طارق خان کررہے تھے, جب کہ اس کے علاوہ بریگیڈیر جنرل عابد ممتاز , بریگیڈیر جنرل ظفر الحق اور کرنل نعمان سعید نے بھی اس جنگ  کی کمانڈ کی ہیں.

اس آپریشن میں فرنٹئیر کور اور پاکستان آرمی کے جنگجو بریگیڈ نے حصہ لیا. اس آپریش میں ایف سی اور پاک آرمی کے 8,000 جوانوں نے شرکت کی. 8 اکتوبر 2009 کو پارلیمان میں دی جانے والی بریفنگ کے مطابق اس آپریشن میں 321 غیر ملکیوں سمیت 2744 دہشت گرد مارے گئے. جب کہ 1400 سے زائد دہشت گرد ملک بھر سے گرفتار ہوئے . اس آپریشن میں 97 فوجی شہید اور 404 زخمی ہوئے .

205 دن جاری رہنے والا یہ آپریشن  28 فروری 2009 کو کامیابی کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا.  جب کہ سال 2010 تک باجوڑ سے باقاعدہ طور دہشت گردوں کا مکمل صفایا کیا گیا .

چونکہ آس آپریشن میں مقامی طور پر بازار اور لوگوں کے گھر مسمار ہوگئے تھے جب کہ امن امان کی صورت حال بھی تسلی بخش نہیں تھی . اس بناء پر موبائل سروس تو دوبارہ بحال ہوئی البتہ انٹرنیٹ سروس کو جون 2016 میں معطل کیا گیا ,

انٹرنیٹ سروس کی معطلی اس وقت سامنے آئی جب پاک افغان بارڈر تورخم پر کشیدگی سامنے آئی. جس کے بعد سیکورٹی خدشات اور نیشنل سیکیورٹی کو سامنے رکھتے ہوئے با جوڑ,  مہمند, کرم , خیبر اور وزیرستان میں انٹرنیٹ سروس کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کی گئی.

سال 2017 میں فاٹا میں انٹرنیٹ سروس  2 جی اور تھری جی کے بحالی کے لیے عوام نے پر زور مطالبہ بھی کیا البتہ اس پر عمل درآمد کی کوشش ناکام ہوگئی.

جس کے بعد باجوڑ کے عوام کا پرزور مطالبہ یہی تھا کہ حکومت جلد از جلد انٹرنیٹ سروس کو بحال کیا جائے , کیوں کہ عوام کو پردیس میں رہنے والے اپنے رشتہ داروں سے رابطے میں مشکلات کا سامنا تھا. تاہم سیکیورٹی خدشات کو مد نظر رکھتے ہوئے انٹرنیٹ سروس تھری جی کی بحالی نا ہوسکی

اگست 2018 کے عام انتخابات کے بعد باجوڑ ایجنسی سے پاکستان تحریک انصاف کے دو امیدوار گل ظفر خان اور گل داد خان ایم این اے منتخب ہوئے , دونوں ایم این ایز سے عوام نے پر زور مطالبہ کیا کہ وہ دوسرے مسائل سے نمٹنے کے ساتھ انٹرنیٹ سروس کے  بحالی کے لیے خصوصی کردار ادا کریں.

جس کے بعد ایم این اے گل ظفر خان نے پارلیمان میں اپنے پہلی بیان میں حکومت کو اس جانب توجہ دلائی کہ وہ قبائل میں انٹرنیٹ سروس کے بحالی کے احکامات جاری کریں.

البتہ اس مطالبہ اس وقت زور پکڑی جب 15 مارچ کو وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اعظم بننے کے بعد پہلی بار ضلع باجوڑ کا دورہ کیا.بریفنگ میں اسی حوالے سے انہیں بتایا اور مطالبہ کیا گیا . جس کے بعد عمران خان نے اپنے خطاب میں وعدہ کیا کہ اسلام آباد پہنچنے کے بعد سب سے پہلے اسی بابت گفتگو اور احکامات صادر کئے جائیں گے.

البتہ اس کے بعد پھر سے کئی احکامات صادر کئے جانے کے باوجود انٹرنیٹ سروس کی بحالی میں پیش رفت نا ہوسکی .

26 مارچ کو خود وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ٹویٹ کرتے ہوئے عوام کو انٹرنیٹ سروس کی بحالی کی خوش خبری سنائی. اور یوں طویل عرصہ کے بعد ضلع کی عوام اس سہولیت سے مستفید ہونے کے اہل ہوگئے. عوامی حلقے میں عمران خان  اور ایم این اے گل ظفر خان کی اس کاوش کو سراہا گیا. اور مزید کیے گئے وعدوں کی طرف ان کو توجہ دلائی گئی.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.