قبائلی ضلع خیبر کے مختلف علاقوں میں 1لاکھ 25ہزار بچے رجسٹرڈ

0

محمد زاہد ملاگوری

قبائلی اضلاع میں پیدائشی سرٹیفیکٹ کے پروگرا م منیجر فیصل سید اورضلع خیبر کورآڈینیٹر فضل غنی کے ساتھ خصوصی گفتگو۔
پیدائش کے اندراج کے حوالے سے سب سے اہم بین الاقوامی دستاویزمعاہدہ برائے حقوق اطفال ہے جو کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے 1989ء میں منظور ہوا اور اس سے ستمبر 1990ء میں نافذالعمل کیا گیا اور اسی بر س پاکستان نے اس دستاویز پر دستخط کئے اور اس کی تو ثیق کی ۔اس مسودے کی دفعہ 07کے مطابق پیدائش کے فوری بعد بچوں کا اندراج کیا جائے گا اور اس سے اپنے پیدائش سے ہی نام رکھے جانے کا حق ،قومیت سے تعلق رکھنے کا حق اور جہاں تک ممکن ہوا پنے والدین کو جاننے اور ان کی جانب سے خیال رکھے جانے کا حق حاصل ہیں۔یہ ہر بچے یا بچی کا حق ہے کہ اُ س کا نام و شہریت ہو۔ پیدائش کا اندراج بچو ں کو ان کی بنیاد ی حقو ق جیسے تعلیم ، صحت، قانونی اور دیگر سماجی خدمات تک رسائی میں مدد دیتا ہے۔ پیدائش کا اندراج بچوں کو ظلم، ذیادتی اور استحصال سے محفوظ رکھنے کیلئے انتہائی اہم قدم ہے۔ قبائلی علاقہ جات میں بچوں کی اندراج کی شرح نہایت کم ہے۔حکومت پاکستان نے 2012ء میں بچوں کے تحفظ کی پالیسی کی توثیق کی ہے۔ جس کی رو سے بچوں کے پیدائش کی اندراج کو اہم ترجیح تسلیم کردیا گیا۔ اسی تسلسل میں حکومت نے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دی جس میں تمام متعلقہ ادارے رکن کے طور پر شریک ہیں جوکہ باہمی تعاون کے ذریعے بچوں کی پیدائش کے اندراج کی صورتحال کو بہتر کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔اسی تنا ظر میں فاٹا سیکرٹریٹ، محکمہ بلدیات و دیہی ترقی اور یونیسیف کی باہمی تعاون سے ضلع خیبرکی تحصیل باڑہ میں آزمائشی طور پر بچوں کی پیدائش کے عمل کے اندراج کا عمل شروع کر دی گئی۔پروگرام منیجر فیصل سید نے بتایا کہ مارچ 2017ء سے دسمبر 2017ء تک یعنی صرف 09ماہ کے عرصہ میں 1لاکھ 11ہزار375بچوں کی پیدائشی سرٹیفیکٹ کیلئے درکار کوائف جمع کر دیئے گئے اور مئی 2018ء تک 76ہزار786بچوں اور بچیوں کو پیدائشی سرٹیفیکٹ ان کے گھر کے دہلیزپر مہیا کردیئے گئے ہیں۔جس سے قبائلی علاقہ جات میں بچوں کی اندراج کا شرح 1فیصد سے بڑھ کر 03فیصد تک بڑھ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اب ضلع خیبر کے بعد دیگرتمام قبائلی اضلاع میں عوامی سطح پربچوں کے اندراج،فوتگی اندراج اور نکاح نامہ کے حوالے سے عوامی شعور اور مطالبات بڑھ گئی جس کی وجہ سے حکومت نے ان علاقوں میں بھی بچوں کی پیدائش کے اندراج کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔گذشتہ سال مردم شماری کے مطابق قبائلی اضلاع کی کل آبادی46لاکھ 43ہزار989نفوس پر مشتمل ہے جس میں18سال سے کم عمر کے بچوں کی تعداد24لاکھ، 14ہزار874ہے جو کہ 52فی صد بنتی ہے۔جبکہ اب 23لاکھ ، 38ہزار088بچے غیر رجسٹرڈہیں۔انہوں نے کہا کہ بچوں کے اندرا ج کے عمل کے ذریعے دسمبر 2019ء تک 4لاکھ 10ہزار، 400بچوں کا اندراج یقینی بنایا جائے گا۔ جبکہ اب تک قبائلی ضلع خیبر کے مختلف علاقوں میں 1لاکھ 25ہزار بچے رجسٹرڈہو چکے ہیں اور 1لاکھ 19ہزار بچوں کو کمپیوٹرائزڈ پیدائشی سرٹیفیکٹ کا اجراء ہو چکا ہے جس میں پاکستان بیت المال کے زیر اہتمام جمرود میں چلنے والے اتیام کے لئے ہوم سویٹ کے 83بچے اور تحصیل لنڈی کوتل میں بیت المال سکول کے120طلباء اور تیراہ میں رہائش پذیر سکھ برادری بھی شامل ہے جو کہ قابل ستائش ہے۔ فیصل سیدنے بچوں کے پیدائش کے اندراج کاطریقہ کارکے حوالے سے مزید کہا کہ بچوں کے والدین ، سرپرست مقامی علاقے کے دفتر یابچوں کے اندراج کی ٹیموں سے رجسٹریشن فارم حاصل کرکے پُر کریں اورایک مقامی ملک سے اس کی تصدیق کروائیں۔اس کے بعد مقررہ دفتر میں جمع کرائیں اور مقامی دفتر سے ہی اصلی پیدائشی سرٹیفیکٹ مفت حاصل کرسکتے ہیں۔انہوں نے مذید کہا کہ کمپیوٹرائز پیدائشی سرٹیفیکٹ میں تبدیلی کا طریقہ کار بھی انتہائی آسا ن ہے۔اس کی آفادیت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حفاظتی ٹیکوں اور صحت کے دیگر منصوبوں سے بچاؤ کی مربوط منصوبہ بندی میں مدد دیتا ہے۔ بچوں کی شہریت ،ترقی کے مختلف منصوبوں جیسے صاف پانی کے حصول،حفظان صحت، اور تعلیم کی رسائی ممکن بناتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پیدائشی سرٹیفیکٹ پاسپورٹ ، بینک آکاؤنٹ ، حق رائے دہی اور اندرون اور بیرون ممالک میں تعلیمی وظائف کا حصول ممکن بنا تاہے اور اس کے ساتھ بچوں اور بچیو ں سے مشقت کے خاتمے میں بھی مدد دیتا ہے۔ انہوں نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ مقامی مشران، مختلف مکتبہ فکر کے لوگ اپنے بچوں کے اندراج کے عمل میں بھر پو ر حصہ لے کر بچوں کا مستقبل محفوظ بنائیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.