تاریحی قصبے دروش کے مضافاتی علاقے مڈگلشٹ میں ہندو کش ونٹر سپورٹس سکول کا افتتاح۔

چترال: مڈگلشٹ کا علاقے میں وائس ائیر مارشل نے چئیر لفٹ لگانے کا بھی اعلا ن کیا اور اس علاقے میں دنیا بھر کے سیاح آئییں گے جس سے پاکستان کا نام روشن ہوگا۔
چترال(گل حماد فاروقی) وائس چیف ایئر سٹاف ائیر مارشل عاصم ظہیر صدر ونٹر سپورٹس فیڈریشن آف پاکستان نے جنت نظیر وادی مڈگلشٹ میں ہندوکش ونٹر سپورٹس سکول کا افتتاح کیا۔

اس سلسلے میں دروش چھاؤنی چترال سکاؤٹس کے دفتر میں ایک سادہ مگر وقار تقریب بھی منعقد ہوئی۔انہوں نے کہا کہ فرانس میں مجے بتایا گیا کہ سب سے اونچے جگہہ پر جانا ہے اس کی اونچائی صرف تیرہ ہزار فٹ بلندی تھی میں نے کہا کہ ہم چترا ل میں اتنے بلندی پر پولو میچ کھیل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک بہت خوبصورت ہے یہاں ہم نے سڑکیں بنانا ہے ، سیاحوں کو مدعو کرنا ہے اور ان کو راغب بھی کرنا ہے ہم نے اس علاقے کی ترقی کیلئے پانچ لاکھ روپے کا اعلان کرکے اس سکول میں لگائیں گے جن کا آج افتتاح ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ اگلے سال جب سنو سکینگ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی تو ان کو ملک سے باہر بھی بھیجے گے۔
گلگت بلتستان سے کریم اور عباس پاکستان کی نمائندگی کررہے ہیں اور بیرون ملک میں بھی وہ سنو سکینگ میں پاکستان کا نام روشن کرتے ہیں آپ وہ ان کی طرح بن سکتے ہیں اور پاکستان کیلئے مڈل ضرور لانا ہے۔
ان کو ہندوکش سنو سپورٹس ایسوسی ایشن کے صدر شہزادہ احتشام الملک کی جانب سے چترالی چغہ تحفے کے طور پر پیش کی گئی۔ انہوں نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ بھی لگایا۔

انہوں نے مڈگلشٹ سے تعلق رکھنے والے بچوں میں Kit پر مبنی بیگ تقسیم کئے جن میں سنو سکینگ کا سامان موجود تھا ان کو مڈگلشت کے مقامی سطح پر بنے ہوئے لکڑی کی سکینگ بھی پیش کی گئی۔ اس موقع پر علاقے کے معززین نے بھی شرکت کی۔

افتتاحی تقریب میں کمانڈر ناردرن ائیر کمانڈ ائیر وایس مارشل سرفراز، ائیر کوموڈور شاہد، چترال سکاؤٹس کے ونگ کمانڈر لفٹنٹ کرنل خرم نذیر، اسسٹنٹ کمشنر دروش عبد الولی خان اور علاقے کے معززین بھی موجود تھے

 


قبل ازیں شہزادہ احتشام الملک نے ان کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مڈگلشت میں سنو سکینگ 1928 سے شروع ہوا ہے جہاں برٹش ائر فورس اور برٹش آرمی کے چند افسران مڈگلشٹ میں جاکر سنو سکینگ کر رہے تھے اس کے بعد مقامی لوگوں نے اس کھیل کو اپنی مدد آپ کے تحت زندہ رکھا اور پچھلے سال پاکستان ائیر فورس کی مدد سے باقاعدہ طور پر پہلی بار منظم انداز میں یہ کھیل کھیلا گیا جس میں تین سو سے زیادہ کھلاڑیوں نے حصہ لیا اور اب اس علاقے میں ہندوکش ونٹر سپورٹس سکول کی آغاز سے اس کھیل کو مزید تقویت ملے گی جس سے سیاحت کو فروغ ملنے سے علاقے کی معیشت پر نہایت اچھے اثرات پڑیں گے اور یقینی طورپر اس علاقے سے غربت کے حاتمے میں یہ سکول کلیدی کردار ادا کرے گا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.