چترال، دو کتابوں کی تقریب رونمائی کا انعقاد

چترال: ضلع کونسل ہاہ میں دو کتابوں کی تقریب رونمائی ہوئی۔ اس موقع پر چترال یونیورسٹی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخای مہمان حصوصی تھے جبکہ تقریب کی صدارت پروفیسر ریٹائرڈ اسرار الدین نے کی۔تقریب رونمائی کا اہتمام MIER یعنی مادری زبان میں تعلیم و تحقیق نے کیا تھا۔
مقررین نے ان کتابوں پر مقالہ جات پیش کرتے ہوئے کہا کہ علامہ محمد غفران ریاست چترال کے نامی گرامی شحصیت تھے جن کا پیدائش 1856 میں ہوا تھا اور تیرہ سال کی عمر میں حصول علم کیلئے والدین سے جدا ہوکر ہندوستان کے سفر پر روانہ ہوئے اس وقت وہ چترال کے حکمران یعنی مہتر چترال کے ہاں بھی نہایت مقبول تھے اور ریاست کے زیادہ تر امور ان کی مشاورت سے طے ہوتی تھی۔
انہوں نے اس زمانے میں علم حاصل کیا جس وقت یہاں علم کی حصول کا نہ کوئی بندوبست تھا اور نہ کوئی تصور کرسکتا تھا۔ اس کتاب کی طباعت کی ذمہ داری نوائے چترال نے کی جو آن لائن اخبار ہے۔

قاری جمال ناصر نے تلاوت کلام پاک سے تقریب کا آغاز کیا۔ مقررین نے ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی کی اس کاوش کو نہایت سراہا
دوسرا کتاب ڈاکٹر مفتی محمد یونس خالد کی لکھی ہوئی ہے جنہوں نے ریاست چترال کی تاریح اور طرز حکمرانی پر لب کشائی کی ہے۔ ان کتابوں پر مقررین نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کتابوں کی تحریر میں کافی باریک بینی سے کام لیا گیا ہے اور لغت، زبان، سائنسی طریقے سے تصدیق وغیرہ کا بھی حیال رکھا گیا ہے
انہوں نے دونوں کتابوں کو نوجوان نسل کیلئے مشعل راہ قراردیا کہ آج کا نوجوان زیادہ تر وقت سوشل میڈیا پر صرف کرنے کی بجائے اگر ان تاریحی کتابوں کو پڑھ لے تو ان سے بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔
تقریب سے گورنمنٹ ڈگری کالج کے پرنسپل پروفیسر ممتاز حسین، مولانا حبیب اللہ، قاری جمال عبد الناصر، پروفیسر نقیب اللہ رازی، ضلعی نائب ناظم مولان عبد الشکور، شہزادہ تنویر الملک ایڈوکیٹ، ڈاکٹر محمد یونس خالد، پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری، پروفیسر اسر ارالدین، مولانا خلیق الزمان خطیب شاہی مسجد،فرید احمد ماہر لسانیات، مولانا حسین احمد وغیرہ نے اظہار حیال کیا۔
دونوں کتابوں کی تقریب رونمائی میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.