رمضان المبارک میں آپ کا حصہ۔

ترتیب: شاہ فیصل ناصر
رمضان المبارک کا مہینہ ان عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے جو اللہ تعالی نے اس امت کو عنایت فرمایا ہیں۔ اس ماہ میں ھمیں محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور عظیم کتاب قرآن مجید عطا کیے گئے، جو ھدایت، رحمت، نور اور شفا ہیں۔ اسلئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مہینے کو ”شَهرٌعَظِيمٌ” اور ”شهرٌمُباركٌ” کہا ہے۔ اس ماہ میں کئے گئے نفل اعمال صالحہ فرض کے درجہ حاصل کرتے ہیں اور فرائض ستر گنا زیادہ وزنی اور بلند ہوجاتے ہیں۔آپ ﷺ نے بشارت دی ہے اس شخص کو جو اس ماہ کے روزے رکھیں اور راتوں میں نمازوقرآن کیساتھ قیام کریں، کہ اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔
آپ ﷺ رمضان سے قبل اپنے ساتھیوں کو اس ماہ کی خزانوں سے فائدہ اٹھانے کیلئے تیارکرتے تھے۔ اس مہینے کی عظمت اور برکت بلاشبہ بھت عظیم ہے، لیکن ایسا بھی نہیں کہ اس کی رحمتیں اور برکتیں ھر اس شخص کی حصہ میں آجائے جو اس کو پالے۔

جب بارش ہوتی ہے تو مختلف ندی نالے اور تالاب اپنی اپنی وسعت وگہرائی کی مطابق ہی اس کے پانی سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ زمیں کے مختلف ٹکڑے بھی اپنی استعداد کی مطابق ہی فصل دیتے ہیں۔ بارش سب پر یکساں برستی ہے۔مگر ایک چھوٹے سے گھڑے کی حصے میں اتنا وافر پانی نہیں آتا جتنا ایک لمبے چوڑے تالاب میں بھرجاتا ہے۔ اسی طرح جب پانی کسی چٹان یا بنجر زمین پر گرتا ہے تو اس کی اوپر ہی سے بہہ جاتاہے اور اس کو کوئی نفع نہیں پہنچاتا۔ لیکن اگر زمین زرخیز ہو تو وہ لہلہاتی اٹھتی ہے۔ یہی حال انسان کی فطرت اور ان کے نصیب کا ہے۔

رمضان کی ان خزانوں میں سے آپ کو کیا کچھ ملے گا؟؟؟

زمین کی طرح آپ کا دل نرم اور آنکھیں نم ہوں گی، آپ ایمان کا بیج اپنے اندر ڈالیں گے اور اپنی صلاحیت استعداد کی حفاظت کریں گے، تو بیج پودا بنے گا اور پودا درخت۔ درخت اعمال صالحہ کے پھل پھول اور پتیوں سے لہلہا اٹھیں گے اور آپ ابدی بادشاھت کی فصل کاٹیں گے۔ جتنی محنت کریں گے اتنی ہی جنت کی انعامات کی اچھی فصل تیارھوگی۔ اگر آپ کا دل پتھر کی طرح سخت ہوںگے اور آپ غافل کسان کی طرح سوتے پڑے رہ جائیں گے، تو روزوں، تراویح اور رحمت وبرکت کاسارا پانی بہہ جائے گا اور آپ کے ہاتھ کچھ بھی نہ آئے گا۔
توفیق الہی کے بغیر یقینا کچھ نہیں ملتا، لیکن توفیق بھی اسی کو ملتی ہے جو کوشش اور محنت کرتا ہے۔ دیکھئے اللہ تعالی کیا کہتا ہیں؟؟ آپ اس کی طرف ایک بالشت چلیں گے تو وہ آپ کی طرف دو بالشت بڑھےگا۔ آپ اس کی طرف چلنا شروع کریں گے تووہ آپ کی طرف دوڑتا ہوا آئےگا۔(مسلم عن حدیث ابوذر) لیکن آپ پیٹھ پھیرکر غافل اور لاپروا کھڑے رہیں تو توفیق الہی آپ کی پاس کیسے آئے گی؟؟؟
ایسا نہ کیجئے کہ رمضان کا پورا مہینہ گزرجائے، رحمتوں اور برکتوں کے ڈول انڈیلے جاتے رہیں اور آپ اتنے بدنصیب ھوں کہ آپ کی جھولی خالی رہ جائے، اور اس حدیث کا مصداق بن جائےکہ،” ھلاکت ہو اس شخص کیلئے جس پر رمضان کا مہینہ آجائے اور اس کا مغفرت نہ ہوجائے۔(بھیقی عن ابی ھریرہ)
نبی کریم ﷺ رمضان سے پہلے اپنے رفقاء کو خطبہ دیکر اس مہینے کی عظمت وبرکت بھی بیان کرتے اور اس برکتوں کی خزانوں سے اپنا بھرپور حصہ لینے کیلئے پوری محنت اور کوشش کی تاکید بھی فرماتے۔
اب سارا انحصار آپ پر ہے…….
کچھ کرنے کیلئے اور اپنے حصے کی رحمتیں لوٹنے کیلئے کمر کس لیجئے۔اور رمضان المبارک سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کیلئے اھتمام سے تیاری کیجئے۔۔۔
اللہ تعالی ھمیں نیک کام کرنے کی توفیق عطا فرماویں۔ آمین

انجنیئر خرم مراد کی کتاب ”رمضان کیسے گزاریں” سے انتخاب

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.