شیطان قید ہے

اسماء طارق
رمضان المبارک کا مہینہ ہے ، برکات کا نزول ہے، رحمت برس رہی ہے، کرم عام ہے،ہر طرف نیکیاں ہی نیکیاں ہو رہی ہیں ،عبادات کی جا رہی ہیں، رب کا خاص احسان ہے  ہم پہ ۔۔۔ایسے میں جب شیطان بھی قید ہے تو معاملہ اور اچھا ہو جاتا ہے  مگر  ہم تو ہم ہیں اور ہمیں جہاں  موقع ملتا ہے  ہم اپنا حصہ  ڈالنے سے بعض نہیں آتے ہیں پھر چاہے کسی تذلیل ہو ،کالی گلوچ ہو، غیبت ہو ، دوسروں کے کردار کو جانچنا ہو ، کسی کی حق تلفی ہو، ہم سے رہا نہیں جاتا ہے۔
رات کو اچانک ٹی وی لگایا تو ایک صاحب بتا رہے تھے کہ انکے بھائی جو امریکہ میں رہتے ہیں وہ اپنے انگریز ساتھیوں کے ساتھ دن کو آفس میں لنچ کرتے تھے اب چونکہ رمضان تھا اور روزے رکھنے تھے اس لیے  جب وہ کئی دنوں سے لنچ کےلیے نہیں جاتے تو ان کا ایک ساتھی ان کے پاس آتا ہے اور لنچ نہ کرنے کی وجہ پوچھتا ہے تو وہ اسے بتاتے ہیں ہمارے  مذہب  میں  ایک مہینہ ہوتا جس میں ہم فاسٹ  (روزے ) رکھتے ہیں سارا دن کچھ کھاتا پیتے نہیں ہیں ۔اس انگریز ساتھی کا تجسس بڑھتا ہے وہ مزید پوچھتا ہے واو اور آپ لوگ  کیا کیا کرتے ہیں تو  وہ بتاتے ہیں  ہم اچھے کام کرتے ہیں  جھوٹ نہیں  بولتے کسی کو تکلیف نہیں دیتے دوسروں کا خیال رکھتے ہیں غیبت نہیں کرتے اور عبادت  کرتے ہیں ۔
وہ انگریز ساتھی یہ سن کر کہتا واو دوست آپ لوگوں کے تو مزے ہیں آپ کو صرف ایک مہینہ یہ کام کرنے ہوتے ہیں  اور ہمیں بارہ مہینے یہ سب کرنا پڑتا بس ہم بھوکا نہیں رہتے ۔
سوچنے والی بات یہ ہے کہ انہوں نے کتنے آرام سے کتنی بڑی بات کہہ دی اور ہمارے لیے سوچنے کو کتنا کچھ چھوڑ دیا اگر ہم اسکو سنجیدگی سے لیں تو ہماری ایک مہینے کے علاوہ دیگر گیارہ مہینوں کی تقدیر بھی بدل سکتی ہے خدارا ہمیں اچھے عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین  ۔
مہنگائی کا طوفان ہے ایک طرف تو ساری دنیا میں حتی کہ پاکستان میں بھی کئی جگہوں پر رمضان کےلیے اشیاء کی قیمتوں میں کمی کر دی گئی ہے اور دوسری طرف  ان لوگوں کا ہجوم ہے جنہوں نے ہر چیز کی قیمت دوگنی کر دی ہے ایسے میں عوام بہت زیادہ اور سستے بازار کم اور کئی لوگوں ان بازار تک رسائی ممکن نہیں ایسے میں اب عوام کیا کرے کیا کھائے اور کیا پیے ۔۔کچھ مہنگائی حکومت کی طرف سے ہے اور جو کسر رہ جاتی ہے وہ یہ ساہوکار پوری کر دیتے  ہیں ان کی ذخیرہ اندوزی انہی دن تو کام آتی ہے جہاں ہر طرف بھوک ہو اور انہیں تو صرف منافع سے مطلب ہے چاہے عوام کا جینا دوبھر ہو جائے اور لوگ بھوک سے مر جائیں۔
ابھی کل ہی کی بات ہے چھوٹی بہن اپنا قرآن کا سبق پڑھنے لگی تھی اور تعوذ پڑھے بغیر آگے بڑھ گئی ،ماما نے پوچھا تو کہتی ہے ماما شیطان تو قید ہے اور پھر پوچھتی ہے  پر ماما یہ جو ساری بری چیزیں ہورہی ہیں  یہ کیوں ہو رہی ہیں جبکہ شیطان اللہ کی  قید میں ہے۔
اور میں  سوچتی رہ گئی کہ اس نے اتنی معمولی بات ایسے ہی کیسے کہہ دی، بات تو سولہ آنے صحیح کہ شیطان تو قید ہے پھر یہ سب کون کر رہا ہے پھر اخباروں کو چین کیوں نہیں روز نت نئی دل دہلا دینے والی خبروں سے صفحے کالے کر دیتے ہیں، لوگوں کو چین کیوں نہیں اب انہوں کس بات کی پریشانی ہے ۔
شیطان چاہے کتنا ہی قید ہو جائے، ہم  لوگ تو کھولے ہوئے ہیں نا، ہمارا نفس کو آزاد ہے نا اسے تو جیل نہیں ہوئی ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ شیطان کے قید ہونے کے باوجود فرق نہیں پڑتا ہے وہی چالبازی ہے، وہی دھوکہ دہی ہے وہی رونے دھونے ہیں،لوٹ مار عام ہے ، وہی حق تلفی  ہے، وہی گالی گلوچ اور بدتہذیبی ہے جو پہلے تھی ۔ یہاں باہر کے شیطان سے زیادہ اندر کے شیطان کو ہتھکڑیاں لگانے کی ضرورت ہے جو ہمارے اندر ڈھنڈتا پھر رہا ہے اور ہم سے یہ سب کرواتا ہے اور ہم باہر کے شیطان کو برا بھلا کہتے رہتے ہیں  اسے کوستے رہتے ہیں اور اندر کے شیطان کی طرف  ہماری نظر ہی نہیں جاتی ہے جبکہ رمضان کا اصل مقصد ہی اس اندر کے شیطان سے لڑنا ہے اسے ہتھکڑیاں لگانا ہے ، اصل مقابلہ اندر والے کے ساتھ ہے، باہر والا تو آگے ہی قید ہے جب اندر والا قید ہو جائے گا تو  باہر والے کی جرت ہی نہیں پڑنی کہ وہ اپنا آپ  دکھا سکے ۔
کیا خوب فرمایا ہے بابا بلھے شاہ نے
لڑ لڑ  لڑنا اے شیطان دے نال بندیا
کدی اپنے آپ نال لڑیا ای نہیں
اصل جنگ ہی ہماری ہمارے اپنے  ساتھ ہے جس دن ہم نے یہ جنگ لڑنا شروع کردی برائیاں خودبخود  ختم ہو جائیں گی ،لوٹ مار ، دھوکہ دہی، بد تہزیبی سب ختم ہو جائے گا اب ہمیں یہ طے کرنا ہے ہمیں اپنے لیے کیسا ماحول چاہیے ۔تاکہ پھر کسی ٹیچر کو حالات سے لڑتے لڑتے  ہماری رویوں کی وجہ سے مرنا نہ پڑے، پھر کسی ماں کو ہماری ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے اپنے بچے بھوکے سلانے نہ پڑیں ، پھر کسی سفید پوش کو چند پیسوں کی مدد کے عوض اپنی عزت کا مذاق نہ بنانا پڑے ۔پھر کسی باپ کو ہماری بےحسی  کی وجہ سے گھر خالی ہاتھ نہ جانا پڑے ۔ ہمیں سوچنا ہو گا ۔۔حکومتیں چاہے جتنا مرضی احتساب کر لیں جب تک ہم اپنا احتساب خود نہیں کریں گے تبدیلی ممکن ہی نہیں ۔ حکومت کی نااہلیوں پر سب مل کر روئیں گے مگر اپنی نااہلیوں کو ہمیں خود ہی دیکھنا ہو اور دور کرنا ہو گا ۔ اللہ آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں  تقسیم کرنے کا شرف بخشے ۔
شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.