،20مئی شہد کے مکھیوں کا عالمی دن،،

تحریر : مولانا خانزیب

شہد انسان کیلے اللہ تعالی کا انمول تحفہ ہے جو بیشمار طبی فوائد پر مشتمل ہوتا ہے اصل شہد پر خواہ کتنا ہی عرصہ گزر جاۓ وہ اپنا ذایقہ خراب نہیں کرتا اہرام مصر میں کچھ عرصہ قبل جب  فراعین مصر کے ممیوں کیساتھ  تین ہزار سال قبل رکھا گیا شہد نکلا لیبارٹری میں ٹیسٹ کرنے کے بعد اس کو  کھانے کے قابل قرار دیا گیا تھا شہد مکھیوں کے ذریعے پھولوں سے حاصل کیا جاتا ہیں پہلے زمانے میں صرف جنگلی اور گھروں میں پالی گئی مکھیوں سے ہی شہد حاصل کیا جاتا تھا مگر انکی پیداوار بہت کم ہوتی تھی جبکہ اس شہد میں حفظان صحت کے اصولوں کا خیال بھی نہیں رکھا جاتا تھا ۔

تقریبا پچاس ساٹھ سال پہلے یورپ میں جدید مگس بانی کا آغاز ہوا اور جدید مگس بانی کے ذریعے  شہد کے پیداوار کیلئے جدید صنعت کی بنیاد رکھ دی گئی۔

پہاڑی ڈھلوانوں کے بجاے مکھیوں کیلے جدید بکس ایجاد ہوۓ ماہرین حیاتیات کے مطابق دنیا میں 20ہزار اقسام  کے قریب مکھیاں ہیں جبکہ شہد کی مکھیوں کی اسمیں 44اقسام ہیں۔ پاکستان میں شہد کےصنعت کو لانے اور کامیاب بنانے کا سہرا افغان مہاجرین کے سر ہے جب یو این ایچ سی آر نے اسٹریلیا سے 1980میں شہد کی مکھیوں کی یہ موجودہ نسل لاکے افغان مہاجرین میں تقسیم کی اور پاکستان کے آب وہوا میں یہ نسل افغان مہاجرین کی محنت سے کامیاب ہوئی اگر افغان مہاجرین اس صنعت کو یہاں کامیاب نہ کراتے تو شائد آج ہم اس ملک میں صرف شہد کا نام سنتے۔

رفتہ رفتہ اس پیشے کو یہاں کے مقامی لوگوں نے بھی اختیار کیا موجودہ وقت میں پاکستان میں تقریبا 30ہزار کے قریب شہد کے مکھیوں کے فارمز ہیں۔ جبکہ اس صنعت سے وابستہ افراد کی تعداد تقریباً دس لاکھ ہے اور ان میں سے اکثریت پختون ہیں۔

 اگر ہم اس کاروبار کو پختونوں کا کاروبار کہے تو بیجا نہ ہوگا اسلۓ تو ریاستی مشینگری اس صنعت کو درپیش چیلنجز اور مشکلات کی حل کیطرف توجہ نہیں دیتی۔ چین امریکہ ھنگری آسٹریلیا اور ترکی میں جدید مگس بانی کے ذریعے شہد بڑی مقدار میں پیدا ہوتا ہے ۔

پاکستان میں اندازا 30ہزار ٹن شہد سالانہ پیدا ہوتا ہیں جبکہ طبی تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ گھر والی پہاڑی اور بکس والی مکھی کے شہد میں کوئی فرق نہیں ہے ساتھ ہی بکس والی شہد کو صفائی کے لحاظ سے بہترین اور خالص قرار دیا جاتا ہیں۔ پاکستان کے بہترین آب وہوا کی وجہ سے یہاں پر بہترین ذائقے والہ شہد پیدا ہوتا ہیں جبکہ دوسرے ممالک کے شہد میں یہ مٹھاس اور ذائقہ نہیں ہوتا پاکستان میں مئی اور ستمبر کے موسموں میں شہد حاصل کیا جاتا ہیں جنمیں، پلوسہ، شوہ، مالٹا، بیکھڑ، الائچی، کریچی ،شینشوبئ ،اور، بیرہ، کا شہد قابل ذکر ہے جبکہ سب سے بہترین اور مختلف توانائی کے حراروں کی وجہ سے، بیر ،کے شہد کو امتیازی حیثیت حاصل ہے، بیر ،کے شہد میں شوگر کی مقدار انتہائی کم ہوتی ہیں توانائی کے حرارے بڑی مقدار میں اس میں پائی جاتی ہے اور بیر کا شہد  دوسرے شہد کے نسبت جمتا بھی نہیں اگرچہ شہد کا جمنا ایک قدرتی عمل ہوتا ہے اور شہد کے اصلی نقلی ہونے سے اسکا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

بیرے کا شہد ،2000،روپےفی کلو کے حساب سے مارکیٹ میں ملتا ہے پاکستان کے بعد  یمن میں بیر کا شہد پیدا ہوتا ہے مگر وہاں  بہت کم مقدار میں بیرے  کا شہد پیدا ہوتا ہیں مگر انٹرنیشنل مارکیٹ میں حکومتی سرپرستی کی وجہ سے یمن کے بیرے کا شہد 5000روپے فی کلو تک بکتا ہیں ۔ پشاور میں جی ٹی روڈ پر چمکنی کے قریب شہد کا ایک بہت بڑا سینکڑوں دکانوں پر مشتمل سعودی عرب کے جدہ مارکیٹ کے طرز پر بنایا گیا ایک خوبصورت مارکیٹ ہے جن سے ملک اور بیرون ملک بہت بڑے پیمانی پر شہد کی سپلائی ہوتی ہیں اور بڑے دیدہ زیب طریقے سے وہاں پر شہد کو مختلف ڈبیوں میں پیک کیا جاتا ہیں، ہمدرد، ،الاحمد، اور دوسری  ملٹی نیشنل  کمپنیاں بھی اسی مارکیٹ سے خریداری کرتی ہیں اس صنعت کو کچھ مشکلات بھی درپیش ہیں جنکے حل کیلے اس کاروبار سے وابستہ بزنس کمیونٹی نے  اپنا  ایک یونین، آل پاکستان بی کیپرز ایکسپورٹرز اینڈ ھنی ٹریڈ ایسوسی ایشن، کے نام سے  بنایا ہے جو مختلف متعلقہ فورمز پر اس کاروبار کو درپیش مشکلات کو حل کرنے کیلۓ تگ ودود کرتے ہیں، یونین کے صدر ،سلیم خان، شیر زمان مومند، شیخ گل بادشاہ، اور دوسرے ساتھی اس صنعت کو درپیش مشکلات کو کم کرنے کے لیے ہر وقت مصروف عمل رہتے ہیں ۔  اس صنعت کو درپیش مشکلات میں ایک ملک میں جنگلات کی بیدریغ کٹائی بھی شامل ہیں۔

شہد کی مکھی انسانی فائدے کے لئے مصروف عمل ہوتی ھے مگر انسان اپنے کوتاہیوں سے اس حیوان کے نسل اور خوراک کو ختم کرنے کے درپے ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.