اسلام آباد :10 سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل

اسلام اباد-اسلام آباد پولیس نے 10 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل کیس میں دو افراد کو گرفتار کرلیا۔زیادتی کے بعد قتل ہونے والی بچی کے اہل خانہ کا میت کے ہمراہ تڑامڑی چوک پر احتجاج جاری ہے،

مقتولہ دس سالہ بچی فرشتہ  کا تعلق خیبر پختونخوا کے علاقے ضلع مہمند سے ہے۔ بچی پندرہ مئی کو اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد سے لاپتا ہوئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کم سن بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرکے لاش جنگل میں پھینک دی گئی تھی۔

اسلام آباد کے شہزاد ٹاؤن تھانے کے رہائشی، گل نبی نے 16 مئی کو پولیس کو درخواست دی تھی کہ اس کی دس سالہ بیٹی گھر سے کھیلنے کے لیے نکلی، لیکن واپس نہیں آئی۔ انھیں شبہ تھا کہ ان کی بیٹی کو اغوا کیا گیا ہے۔

اہل خانہ کے مطابق ابتدا میں پولیس کی جانب سے سستی اور ٹال مٹول سے کام لیا گیا اور بچی کو تلاش نہیں کیا گیا۔ معاملے پر پولیس نے صرف رپورٹ درج کی۔ تاہم چار روز گزرنے کے بعد پولیس نے 19 مئی کو باقاعدہ ایف آئی آر درج کی اور 21 مئی کی شام کو جنگل سے اس کی لاش برآمد ہوئی۔

بچی کی لاش کو اسلام آباد کے پولی کلینک اسپتال منتقل کیا، جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد میت ورثا کے حوالے کردی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق جنگل کے قریب سے گزرنے والے عام شہریوں نے لاش دیکھنے کے بعد پولیس کو اطلاع دی جسے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کے گھر والوں نے اسے شناخت کر لیا۔

لاش ملنے کے بعد لواحقین کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا۔ اس احتجاج میں پشتون تحفظ موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر بھی شریک ہوگئے جنہوں نے اسپتال کے سامنے دھرنا دیا

ایس ایچ او تھانہ شہزاد ٹاؤن کو معطل 

ڈی آئی جی آپریشنز وقار الدین سید نے ایس ایچ او تھانہ شہزاد ٹاؤن کو معطل کرکے انکوائری ایس پی رورل عمر خان کے سپرد کر دی اور انہیں فوری رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق بچی کے قاتل کا سراغ لگا لیا ہے،جلد کامیابی مل جائے گی جب کہ ایس ایچ او کومعطل کرنے کا مقصد شفاف انکوائری کرانا ہے۔

یاد  رہے !کہ پاکستان میں بچوں کے ساتھ ماضی میں بھی جنسی زیادتی کے کئی اندوناہ واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ گزشتہ سال پنجاب کے شہر قصور سے تعلق رکھنے والی پانچ سالہ زینب کو بھی زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا تھا

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.