غیر ملکی سیاحوں پر NOC کی پابندی ختم ہوتے ہی چترال میں غیر ملکی سیاحوں کا تانتا بند گیا۔

چترال(گل حماد فاروقی) نائن الیون سے پہلے چترال میں سالانہ ہزاروں غیر ملکی سیاح آیا کرتے تھے جس سے سیاحت کو فروغ ملتی اور علاقے کے لوگوں کی معیشت پر نہایت اچھے اثرات پڑتے لوگوں کو آسانی سے مزدوری ملتی کیونکہ ان سیاحوں کے ساتھ مقامی لوگ گائڈ کے طور پر کام کیا کرتے تھے مگر نائن الیون کے بعد ان سیاحوں کی آمد کا سلسلہ بند ہوگیا جس سے نہ صرف یہاں کے ہوٹل بند ہوگئے بلکہ دکانداروں کی روزگار پر بھی کافی منفی اثرات پڑ گئے۔ 

اس کے بعد آہتہ آہستہ غیر ملکی سیاح یہاں آنا شروع ہوگئے مگر ان کو پابند کیا گیا  کہ وہ اجازت نامہ لے یعنی No Objection Certificateاور اس اجازت نامہ کے حصول ایک لمبی چوڑی مشکل کام تھا مگر اس کے باوجود مقامی انتظامیہ ان کے ساتھ کئی کئی پولیس والے ڈیوٹی پر لگایا کرتے تھے جس سے انگریز لوگ نہایت تنگ آیا کرتے تھے اور وہ خود کو یرغمال محسوس کرتے۔

اس کے علاوہ کسی بھی غیر ملکی سیاح کو وادی کیلاش میں رات گزارنے کی اجازت نہ ہوتی اور شام ڈھلے واپس چترال آتے جس سے وادی کیلاش کے  ہوٹل ٹھپ ہوکر رہ گئے۔  اور تو اور صحافی  حضرات بھی وادی کیلاش، بروغل اور دیگر سرحدی علاقوں میں این او سی کے بغیر کوریج نہیں کرسکتے تھے  جس سے اس پسماندہ علاقے کی سیاحت کو حاطر حواہ پذیرائی نہیں ملی اور یہاں کی سیاحت تباہی کے کنارے کھڑا ہوا۔ 


موجودہ وفاقی حکومت نے ان غیر ملکی سیاحوں پر اجازت نامہ یعنی NOC کی شرط ختم کردی تو اب چترال میں کثیر تعداد میں غیر ملکی سیاحوں کا آنا شروع ہوگیا۔ چترال بازار میں فرانس سے آئے ہوئے کثیر تعداد میں سیاحوں نے مقامی چیزوں میں کافی دلچسپی کا اظہار کیا اور یہاں کے ہاتھوں سے بنے ہوئے چیزوں کو خریدنے لگا۔

ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے گلگت بلتستان کے ٹور آپریٹر ناصر حسین نے اس قدم کو نہایت سراہا اور اسے نیک شگون قرار دیا تاہم ان کا کہنا ہے کہ اب بھی بہت سارے اداروں کو معلوم نہیں  ہے کہ ان غیر ملکی سیاحوں پر اجازت نامہ کی پابندی حتم ہوچکی ہے مثال کے طور پر وہ فرانس کا ایک گروپ  گلگت سے چترال لارہا تھا تو شندور پر سیکورٹی حکام کو یہ پتہ نہیں تھا کہ ان پر پابندی حتم ہوچکی ہے اور وہ اب وہ آزادی سے گھوم پھر سکتے ہیں۔ 

فرانس سے آئے ہوئے چند سیاحوں نے ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہاں آکر بہت خوشی محسوس کرتے ہیں اور یہاں کے ثقافت، سیاحت اور قدرتی مناظر سے بہت محظوظ ہوئے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.