حکمران جماعت ,قبایلی ضلع باجوڑ میں صوبائی اسمبلی کے تین نشستوں پر امیدواروں کا انتخاب : مثبت کیا – منفی کیا۔


تحریر انواراللہ خان ۔ 

ایک ایسے وقت میں جب حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف ملک کے بد تر معاشی صورتحال کی وجہ سے ملک کے دیکر حصوں کی طرح ضلع با جوڑ میں بھی سنگین صورتحال سے دو چار ہیں۔اور رائے عامہ کی جائزے کے مطابق دو ہزار اٹھارہ کے جنرل الیکشن جس میں باجوڑ کے عوام کے اکثریت نے اپنے مد مقابل امیدوار ں کے مقابلے میں ہر لحاظ سے قدرے کمزور پاکستان تحریک انصاف کے دونوں امیدواروں جن کا باجوڑ کے سیاست میں کوئی خاص کردار بھی نہیں کو بھاری اکثریت سے کامیاب کے تھے کے بعد مختلف وجوہات کی وجہ سے با جوڑ میں پی ٹی ایئ کی مقبولیت کی گراف میں کمی آرہی ہے اور گزشتہ ایک سال کے دوران اگر کوئی قابل زکر افراد پی ٹی آئی سے چلے نہ ہو تو میرے خیال میں شامل بھی نہیں گیا ہو حالانکہ جب ایک پارٹی وفاق اور دو صوبوں میں حکومت میں ہو اور ضلع میں قومی اسمبلی کے دونوں کے دو نوں نشستوں پر ان کی ایم این اے برا جمان ہو تو اسی میں لوگو ں کی ایک بڑی تعداد اگر ہفتہ میں نہ ہو تو مہینے میں تو کم از کم ایک بار تو۔ ضرور شامل ہوتے ہیں – لیکن باجوڑ جیسے علاقہ میں جہان پی ٹی ایئ کے دونوںممبران کے بلند بانگ دعوے اپنی انتہا پر ہیں میں عوام کا پی ٹی ایئ کئ جانب عدم توجہ اگر قابل افسوس نہی تو قابل تشویش تو ضرور ہیں کی تناظر میں پی ٹی ائئ کے پارلیمانی بورڈ کی جانب سے با جوڑ کے تین صوبائی اسمبلی کی سیٹوں جن میں سے ماسوائے ایک کے یعنی خلقہ پی کے 100 جس کا ٹکٹ پی ٹی ایئ باجوڑ کے سب سے میچور ۔ سنجیدہ ۔ سمجھدار اور دو ہزار اٹھارہ کے جنرل الیکشن میں PTI کے دونوںممبران کے شاندار جیت میں مرکزی کردار ادا کرنے والے کارکن انور زیب خان کو دیا گیا ہے کے علاوہ دیگر دو حلقوں یعنی حلقہ پی کی 101 اور حلقہ پی کے 102 کے امیدواراں کا انتخاب ہر لحاظ سے اگر غلط نہیں تو درست بھی نہیں – درست اس وجہ سے بھی نہیں ہے کہ دو نوں امیدوار باالترتیب دو نوں معزز لا میکرز جنھوں نے گزشتہ تین سو تیس دنوں کے دوران اسمبلی کے فلور ہر محض دو بار لب کشائئ کی ہے کے بھائی اور بردار نسبتی۔ ( Brother in law ) ہیں ، میرے خیال میں یہ ایک مقبول فیصلہ ہر گز نہیں ہے کیونکہ اگر طرف دو نوں ایم این ایز پر موروثی سیاست کا الزام لگے گا تو دوسری طرف ڈاکٹر خلیل الرحمان ۔ نیک الرحمان ۔ محمد ایوب ۔ انجنئیر خایستہ محمد ( جس نے نومبر دو ہزار اٹھارہ میں اپنا کمپین شروع کیا تھا ) ڈاکٹر حضرت یوسف دانش۔ فرید ترابی ۔ نجیب اللہ حلال ۔ غلام نبی آزاد ۔ رحیم داد اور دیگر جیسے سنئیر اور منجھے ہوئے کارکنوں کے جذبات کو بہت ٹھیس پہنچا ہوگا تاہم اس فیصلہ کا سب سے زیادہ فایدہ حلقہ پی کے 101۔ اور پی کے 102 کے مخالف امیدوراں کو ہوگا جو میرے خیال میں وہ معزز ممبران کے معزز رشتہ دار کرام ( بھائی اور برادر نسبتی ) کو دو جولایئ کے الیکشن میں چاروں شانے چت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے ،آخر میں پی ٹی کے تینوں امیدواروں کو دلی مبارک ۔ اگر کسی کی دل آزاری ہوئی تو معزرت -اللہ ہمارا حامی و نا صر ہو ۔۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.