قبائلی ضلع باجوڑ میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات

تحریر انواراللہ خان

باوجود یہ کہ تبدیلی سرکار کی جانب سے چند دن قبل سیکورٹی خدشات کے نامععقول اور غیر سنیجدہ بہانے قبائلی اضلاع میں دو جولائی کو ہونے والے صوبہ خیبر پختون خواہ اسبملی کے تاریخی انتخابات کے بروقت انعقاد پر غیر یقینی کی بادل منڈلارہے ہیں میں بھی باجوڑ کے زندہ دل عوام صوبائی اسبملی کے اس پہلے اور تاریخی الیکشن کی تیاریوں میں جوش و خروش کے ساتھ حصہ لے رہے ہیں ۔ ویسے صوبائی اسبملی کے انتخابات تمام چھ قبائلی اضلاع میں ہورہے ہیں لیکن جو جوش۔ خروش اور جذ بہ باجوڑ میں ہے میرے خیال میں دیگر اضلاع میں ایسا نہیں ہوگا ۔ اس کے بہت سی وجوہات ہیں لیکن سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ باجوڑ کے عوام نہ صرف سیاسی طور پر بہت باشعور ہیں بلکہ بہت مہذب اور جمہوریت پسند بھی ہیں۔ باجوڑ میں صوبائی اسبملی کے تین نشسیتیں / حلقے ہیں جن میں پی کے 100۔ پی کے 101۔ اور پی کے 102 شامل ہیں ۔ مذکورہ بالا ان تین نشستوں پر مجموعی طور پر لگ بھگ تین درجن امیدوارمیدان میں ہیں ۔ الکیشن کمیشن اف پاکستان کی جانب سے جاری شدہ لیسٹ/ فہرست ( جو میرے ساتھ موجود ہے ) کے مطابق تقریباً پچاس فیصد امیدواروں کا تعلق مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے ہیں جبکہ پچاس فیصد ازاد ہیں جن کا کسی بھی سیاسی اور مذہبی جماعت سے تعلق نہیں ہیں۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ باجوڑ سے تعلق رکھنے والے نامی گرامی شخصیات جن کا مختلف حوالو ں سے علاقہ میں پہنچان ہیں انتخابی میدان میں کھود پڑے ہیں ۔ اگر کوئی خاندانی لحاظ سے معتبر ہے تو کوئی علم۔ تجربے اور ویژن کے اعتبار سے منفرد ہے۔ اگرکوئی جائیداد کی وجہ سے بڑا ہے تو کوئی لامحدود مال و دولت اور سخاوت کے وجہ سے اپنی مثال اپ ہے ۔۔ اگر کوئی مقامی سیاست ۔ جوڑ توڑ کا ماہر ہے تو کوئی اپنے وقت کے فرعونوں اور ظالم و جابروں کے سامنے ڈ ٹ جانے اور کلمہ حق بولنے کی وجہ سے منفرد ہے ۔ اگر کوئی مقامی تھانہ ، تحصیل اور عدالتوں کے امور کا ماہر ہے تو کوئی ملکی اور بین الاقوامی امور کا ماہر ہے ۔ اگر کوئی عوامی اجتماعات میں جوش خطابات میں اپنی مثال اپ ہے تو کوئی شہر اقتدار کے ایوان ( پارلیمنٹ ) میں اپنی شعلہ بیانی اور حق گوئی میں لاثانی ہے ۔ اگر کوئی ملنسار ہے تو کوئی بڑے بڑے جابروں کے ساتھ ملنا بھی پسند نہیں کرتے ۔ اگر کوئی اسلامی مدرسہ سے فارغ اتحصیل ہے تو کوئی یونیورسٹی سے ۔ اگر کوئی سیاست کا علم رکھتا ہے تو کوئی تعمیرات کا ۔ اگر کوئی اسلامی علوم کا ماہر ہے تو کوئی صحت کا ۔ اگر کوئی انتظامی امور تعلقات عامہ میں چالسی سال کا تجربہ رکھتا ہے تو کسی کو ساری زندگی سیاست اور ایف سی ار کے خلاف جدوجہد میں گزری ہے ۔ اگر کوئی قیمتی اور لگژیز گاڑیوں کے قافلے میں انتخابی مہم چلاتے ہیں تو کسی نے کاعذات نامزدگی کا فیس( بیس ہزار ) دوستوں ور قریبی رشتہ داروں سے لیاہے۔ اگر کسی نے مختلف علاقوں میں اپنے کیمپ افس کھولے ہیں تو کسی کے پاس پوسٹر چھپوانے کے پیسے تک نہیں ۔ اگر کوئی مراعات۔ فنڈز اور اپنی ٹھاٹ باٹ کے لیے ایم پی اے بننا چاہیتے ہیں تو کوئی مشیر اور وزیر بنے کے لیے ۔ اگر کوئی تعلقات اور اپنی رغب بڑھانے کے لیے ایم پی اے بنا چاہتے ہیں تو کوئی کسی قسم کے تنخواہ۔ مراعات اور فنڈز نہ لینے کے لیے اسمبلی میں جانے کی خواہش مند ہے ۔ اگر کوئی زیادہ ترقیاتی فنڈز لینے کے چکر میں اسمبلی جانا چاہتے ہے تو کوئی اسمبلی میں عوام کے مسائل اور مشکلات پر دلائل کے ساتھ بات کرنے کے لیے ایم پی اے بننا چاہتاہے تو کوئی باجوڑ میں سمال انڈسٹریل زونز سمیت کاروباری اور تجارتی ترقی پر بات کرنے کے لیے ایم پی اے بننا چاہتا ہے۔ اس سارے تمہید ک خلاصہ یہ ہے کہ باجوڑ کے جتنے بھی امیدوار انتخابی دنگل میں ہے ان کے دلوں میں علاقہ کی عوام کی خدمت کا جذبہ موجود ہے اور تمام کے تمام اس بات پر مطمین ہے کہ اگر اللہ نے چاہا تو دو جولائی کے الیکشن میں کامیابی ان کے مقدر بنی گی ۔۔ لیکن یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ کون تین خوش قسمت ان تینوں نشستوں پر کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں ۔ ہمارے دعائیں اور نیک خواہشات سب کے ساتھ ہیں کیونکہ یہ سب ہمارے باجوڑ کے فرزند ہیں اور سب خدمت خلق کے جذبے سے سرشار ہیں ۔۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.