12 جون کو پورے دنیا میں بچوں کے مشقت کے حوالے سے دن منایا جارہا ہے

تحریر میاں ارشد علی

گزشتہ دس سالوں میں پورے دنیا  میں جہاں بچوں سے مشقت , چائلڈ لیبر میں کمی آئی ہے.  پر افسوس پاکستان میں اور پھر بلخصوص فاٹا جو اب سابقہ فاٹا ہے میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے. سابقہ  فاٹا اور بلخصوص ضلع باجوڑ  میں سیاسی, سماجی, تعیلمی, اور صحت کے شعبے میں بے تحاشا مسائل موجود ہیں اور انہی مسائل میں سے ایک بہت بڑا مسئلہ چائلڈ لیبر بھی ہے۔ چائلڈ لیبر سے مراد کم عمر اور نابالغ بچوں سے مزدوری, مشقت کروانا ۔ ضلع باجوڑ  میں بہت بڑے پیمانے پر کم عمر اور نابالغ بچوں سے محنت مزدوری کرائی جاتی ہے.

 چائلڈ لیبر کی بنیادی وجہ غربت ,بےروزگار , مہنگائی اور جنگ زدہ حالات ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج سے تقریبا ایک سال پہلے ضلع باجوڑ  کے رہائشی حبیب الرسول نامی شخص نے  غربت کی وجہ سے اپنے دو بیٹیوں  کو بڈھ بیر پشاور کے ایک بھٹہ خشت کے مالک کے ساتھ قرض میں رکھے تھے. والد کے قرض کی وجہ سے بھٹہ کے مالک بچوں سے مزدوری  کرواتا تھا.  جس کو بعد میں باجوڑ کے ایک خان نے دو لاکھ تیس ہزار روپے دے کر بچوں کو بھٹہ کے مالک سے آزاد کروائیں.. اس طرح کے بہت سے واقعات ضلع باجوڑ میں اور سابقہ فاٹا میں موجود ہے

اس طرح صورتحال اور حالات کی  وجہ سے بچوں پر  مشقت, چائلڈ لیبر کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کررہا ہے اور اس کی سب سے بدترین قسم گھریلو مشقت ہے گھریلو چائلڈ لیبر ہے حکومت کے مطابق بچوں سے گھریلو چائلڈ لیبر,  مشقت جبری مشقت کے زمرے میں نہیں آتی جبکہ اس حوالے سے کوئی ضوابط نہیں اور نہ ہی گھریلو کاموں کے لیے مخصوص اوقات کار متعین ہیں لیکن پاکستان کے آئین کے تحت بچوں سے گھریلو ملازمت کروانا غیر قانونی ہے سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی اسے غیر قانونی قرار دے چکی ہے پاکستان کے شہری علاقوں کی ایک بڑی آبادی خاص کر لاہور ، اسلام آباد کراچی اور پشاور , میں گھریلو کاموں کے لیے بچوں کو ملازم رکھتی ہے جن میں اکثریت بچیوں اور بچوں کی ہے گذشتہ برس پاکستان 167 ممالک کے گلوبل سلیوری انڈیکس یعنی غلامی کے عالمی اشاریے میں چھٹے سے تیسرے نمبر پر آگیا تھا گلوبل سلیوری انڈیکس ترتیب دینے والے ادارے واک فری فاؤنڈیشن کے مطابق اس وقت پاکستان میں اکیس لاکھ سے زیادہ بچے جبری مشقت پر مجبور ہیں معاشرتی بے حسی اور معاشی مجبوری کے باعث پاکستان میں کم عمر بچوں سے مشقت کروانا ایک ایسا جرم ہے جس میں خود والدین اس جرم میں شریک ہے.

اور دوسری وجہ غریب بد امنی اور جنگ زدہ حالات بھی ہے کراچی, لاہور, پشاور, اور کوئٹہ میں سے سابقہ فاٹا میں غریب بہت زیادہ پایا جاتا ہے اور حاص کر ضلع باجوڑ  میں جس کی وجہ سے چائلڈ لیبر کے لئے حالات بہت سازگار ہیں ان سازگار حالات کی وجہ سے باجوڑ  میں  چائلڈ لیبر کی بڑی تعداد میں پائی جاتی ہے. ایک وجہ اور بھی ہے جو گھریلو سطح پر ہونے والے چائلڈ لیبر جو عام طور پر بہت نہائت بے قاعدگی سے ہوتی ہے جس کی اعدار وشمار اکٹھا کر نا بہت مشکل ہے بہت سے وجوہات ہیں جس کی وجہ سے میں یہ سمجھ تھا ہوں کے باجوڑ  میں چائلڈ لیبر کی تعداد بہت زیادہ ہے. جس کا اب تک کوئی سروے نہیں ہوا ہے باجوڑ تو بہت دور کی بات پورے  پاکستان میں 1996 کے بعد سے لئے کر اب تک چائلڈ لیبر پر کوئی بھی سروے نہیں کیا گیا ہے .  جس کی وجہ سے آج پورے پاکستان میں چائلڈ لیبر کی درست اعدادوشمار موجود نہیں.

(انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن ) کے 2002 میں کے کئے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں چائلڈ لیبر کی تعداد تقریبا ایک کروڑ 25 لاکھ تھی. جبکہ SPARC نامی ایک این جی او کے کئے ایک سروے کے مطابق پورے پاکستان میں تقریبا 2 دو کروڑ 50 لاکھ بچے سکول نہیں جاتے جس میں ایک کروڑ 50 لاکھ بچے کسی نہ کسی معاشی سرگرمی میں شامل ہیں. اس میں سے ضلع باجوڑ کا شمار موجود نہیں.

میرے خیال میں یہ اعداد و شمار حقیقی صورت حال سے کم ہیں.

بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی ایں جی او سپارک کے مطابق پاکستان دنیا کا تیسرا ملک ہے جہاں بچوں سے مشقت لی جاتی ہے اوراس میں مسلسل اضافہ ہورہاہے ۔ بچوں سے مشقت کے حوالے سے کوئی ٹھوس اعدادو شمار دستیاب نہیں،1996ء کے بعد پاکستان میں چائلڈ لیبر کے حوالے سے کوئی سروے نہیں ہوا. اور نا ہی کسی نے اتنا حاص خیال اور نا کوئی سنجیدہ اقدامات کی ہے.

اب پچھلے تحریک انصاف کی حکومت نے 2015 اور 2017 میں بچوں کے مشقت, چائلڈ لیبر کے حوالے سے دو قوانین اسمبلی سے پاس  کروائے تھے لیکن اب تک دونوں قوانین کے رولز اف بزنس نوٹیفایڈ نہیں ہوئے.

جو پورنا قانون ہے ان کے مطابق آئین کے آرٹیکل 11 کے تحت چودہ سال سے کم عمر بچے کو کسی کارخانے یا کان یا دیگر پرخطر ملازمت میں نہیں رکھا جائے گا۔

آئین کے آرٹیکل 25کے تحت ریاست تمام پانچ سال کی عمر سے لیکر سولہ سال کی عمر کے بچوں کیلیئے لازمی اور مفت تعلیم دینے کا انتظام کرے گی جسکا تعین قانون کر ے گا۔

آئین کے آرٹیکل 37کے تحت ریاست منصفانہ اور نرم شرائط کار، اس امر کی ضمانت دیتے ہوئے کہ بچوں اور عورتوں سے ایسے پیشوں میں کام نہ لیا جائے گا جو انکی عمر یا جنس کیلیئے نا مناسب ہوں، مقرر کرنے اور ملازم عورتوں کیلیئے زچگی سے متعلق مراعات دینے کیلیئے احکام وضع کرے گی۔ یہ قوانین خصوصی طور پر چائلڈ لیبر سے متعلق ہیں

ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ 1991 ایمپلائمنٹ آف چلڈرن رولز1995

اس کے علاوہ دیگر قوانین بھی ہےجو بچوں کی ملازمت سے متعلق ہیں اور کام کرنے والے بچوں کے حالات کار کو ضابطے میں لاتے ہیں۔

مائنز ایکٹ1923 چلڈرن (پلیجنگ آف لیبر) ایکٹ1933فیکٹریز ایکٹ1934روڈ ٹرانسپورٹ ورکرز آرڈیننس1961 شاپس اینڈ.سٹیبلشمنٹس آرڈیننس1969 مرچنٹ شپنگ آرڈیننس2001.

ایک دن پہلے بچوں پر مشقت چائلڈ لیبر کے حوالے سے اور ان کے قانون کے حوالے سے عمران ٹکر صاحب جو چائلڈ لیبر اور بچوں پر مشقت کے حوالے سے اکثر سیمیناروں میں شرکت کرتا ہے اور  چائلڈ رائٹس مومنٹ خیبر پختونخوا کا ممبر بھی ہے سے تفصیلی گفتگو ہوئی عمران ٹکر صاحب کا کہنا ہے کہ بچوں سے مشقت کا خاتمہ تعلیم ہی سے ممکن بنایا جاسکتا ہے.

سماجی کارکن عمران ٹکر نے کہا کہ 1996 کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 33 لاکه بچے مشقت میں ہیں جبکہ غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک میں 1کروڑ سے زیادہ بچے مشقت میں ہے.

عمران ٹکر نے کہا کہ 1996 کے بعد ملک میں بچوں سے مشقت کے حوالے سے کوئی سرکاری اعداد وشمار سامنے نہیں آئے. دنیا بھر میں بیشتر ممالک نے بچوں کے مشقت پر تعلیم ہی کے ذریعے قابو پانے میں کامیاب ہوئے ہیں . انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے آئین کے شق نمبر 25 اے کے مطابق تعلیم 5 سے 16 سال تک ہر بچے کا  بنیادی حق ہے اور صوبائی حکومتوں کی ذمه داری بنتی ہے کہ اس سلسلے میں قانون سازی کر کے سکولوں سے باہر بچوں کو سکول لایا جائے. خیبر پختون خوا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران ٹکر نے کہا که 1996 کے اعداد و شمار کے مطابق صوبہ  میں 11 لاکھ بچے مشقت میں ہے. جبکہ  پچھلے حکومت نے سکول سے باهر بچوں کا جو سروے کیا هے اسکے مطابق 18 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں.

خیبر پختونخوا میں بچوں سے مشقت سے متعلق سروے پر بات کرتے هوئے عمران ٹکر نے کہا کہ اس سلسلے میں صوبائی حکومت نے 2017 میں کام شروع کیا جس کو صوبائی حکومت نے 15 کروڑ روپے بهی مختص کئے جبکہ یونیسف نے بهی 4 کروڑ روپے دینے کا وعده کیا. حالانکہ  سروے ابهی تک مکمل نہ ہوسکی اور کہا جاتا هے که مذکوره سروے دسمبر 2018 تک مکمل ہو جائے گی.

عمران ٹکر نے کہا کہ اگر ہم واقعی بچوں سے مشقت میں سنجیده ہے تو ہمیں 2017 میں بنائے گئے مفت اور لازمی تعلیم کے قانون کو من وعن عملی کرنا یقینی بنانا ہوگا اسکے لئے صوبے کو درکار فنڈذ کی فراہمی  یقینی بنانا ہوگا اور عوام میں شعور اور آگاہی کا مهم چلانے ہوں گئے زیاده سے زیاده سکول قائم کرنے ہوں اور زیاده سے زیاده اساتذه تعینات کرنے ہوں گئے.  بچوں کے مشقت سے متعلق 2015 کے قانون کو عملی بنانے کے لئے چائلڈ لیبر سروے جلد از جلد مکمل کرنا ہوگا، ہر ضلع میں مرد اور خواتین لیبر انسپکٹر کی تعیناتی یقینی بنانا هوگا. عوامی شرکت او ضلعی سطع پر ویجلنس کمیٹیاں فعال اور متحرک کرنے ہوں گئے. اسی طرح گهریلو مشقت پر بهی پابندی لگانی ہوگی کیونکہ  بڑے بڑے شهروں کے رہائشی علاقوں میں کم از کم 10 میں سے ایک بچہ یا بچی مزدور ہے جن کی عمریں زیاده تر 8 سے 14 سال تک ہے.

حکومت کا ہم سب میں سے ہر کسی کا یہ فرض بنتا ہے کہ چائلڈ لیبر,  اور بچوں پر مشقت کے حوالے سے آگاہی موہم , سیمیناروں, کا انعقاد کرایا جائے اور لوگوں میں بچوں کے مشقت اور چائلڈ لیبر کے سے ایجوکیٹ کیا جائے. کہ بچوں پر مشقت اور ظلم و ستم کرنا انتہائی بےغرتی کا کام ہے. چائلڈ لیبر کے حوالے سے حکومت کو ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہئے اور ضلع باجوڑ کے جتنے بھی علمائے کرام ہے تعلیم یافتہ نوجوان ہے ان سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہئے…

جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ الیکشن آرہا ہے ہر امید وار سے یہ پوچھناچاہیے کہ آپ چائلڈ لیبر کے لیے کون کون سے اقدامات کریں گے. کیا آپ کے منشور میں چائلڈ لیبر کے حوالے سے کچھ شامل ہے اگر  شامل نہیں ہے تو اسے شامل کریں….

کیونکہ چائلڈ لیبر ایک بہت اہم اور  سنگین مسئلہ ہے….

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.