آج کی بات – باجوڑ کی کھیتو ں میں پیدا ہونے والے سبزیوں کی مختلف یورپی ممالک کو برامد شروع ۔

0

تحریر انواراللہ خان
شاعر مشرق علامہ اقبال نے کیا خوب کہاہے کہ ” نہیں ہے نا اُمید اقبال اپنی کشت و یراں سے ۔۔۔۔ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زر خیز ہے ساقی”۔۔ مجھے اج یہ سن کر بہت خوشی ہوئی کہ باجوڑ جو گزشتہ کئی سالوں سے نہ صرف ملک کے اندر بلکہ دنیاء بھر میں لاقوننیت ۔ اور بدامنی کے لیے جانا جاتا تھا ۔ اج اس باجوڑ کے کھیتوں میں غریب اور مفلس کاشتکاروں کے ہاتھوں سے کاشت کی گئی مختلف سبزیاں جن میں چند ایسےبھی ہیں جن کومیں نے اپنے زندگی میں پہلی بار دیکھے ہیں( امید ہے بہت دوستوں کے لیے بھی نئی ہوں ) کی مختلف یورپی ممالک جن میں دنیاء کی سب سے زیادہ خوشحال اور ترقی یافتہ سمجھے جانے والی ناروے قابل زکر ہیں کی برامد شروع ہوگئی ہیں ۔۔ اپ کو یہ جان کر بہت حیرت مگر خوشی ہوگی کہ وہاں کے لوگ باجوڑ میں پیدا ہونے والے مختلف سبزیوں جن میں کدو ۔ اور شملہ مرچ قابل زکر ہیں میں بہت دلچپسی لیتی ہیں اور وہاں کے لوگ باجوڑ کے کھیتوں میں پیدا ہونے والے ان سبزیوں کی شیدائی بن گئ ہیں ۔ باجوڑ میں محکمہ زراعت کے زرائع کے مطابق نہ صرف باجوڑ بلکہ سارے قبائلی اضلاع( مرجر ڈسٹرکٹس ) میں یہ پہلا موقع ہے کہ ان علاقوں کے سبزیاں یورپی ممالک کے منڈیوں میں پہنچ گئئ ہیں ۔


محکمہ زراعت باجوڑ کے سربراہ ( ڈسٹرکٹ ایگریکلچر افسیر ) ضیاء الاسلام داوڑ جسا کا تعلق بھی ایک مرجر قبائلی ضلع سے ہے نے راقم کو بتایا کہ باجوڑ کی زمین نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیاء میں اپنی مثال اپ ہے ۔۔۔ ان کے مطابق اگر یہ کہا جائے کہ باجوڑ کی زمین صرف اور سبزیوں اور باغات کے لیے اللہ نے پیدا کی ہے تو بے جا نہ ہوگا۔۔۔۔۔ انھوں نے کہاکہ باجوڑ سبزیوں کے مد میں نہ صرف خود کفالت کی طرف گامزن ہیں بلکہ یہاں کے سبزیاں اندرون ملک اور بیرون ملک بھی برامد ہورہی ہیں ۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کونسی اقدامات اور طریقے ہیں جن کی وجہ سے گزشتہ ایک سال کے دوران باجوڑ میں زراعت کا شعبہ ترقی کی جانب گامزن ہوگیا ہے اور یہاں سبزیوں کی پیدا وار میں ناقابل یقین حد تک اضافہ ہوگیا ہے ۔ تو ضیاء السلام داوڑ کا بس مختصر یہ کہنا تھا کہ ؛؛ زمین سے پیار اور اپنے کام میں ایمانداری اور خلوص ۔۔۔۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ دن دور نہیں جب باجوڑ کے کھیتوں میں پیدا ہونے والے مختلف اقسام کے سبزیاں خلیجی ممالک سمیت دنیاء کے ہر مملک میں برامد ہوں گی ۔
"میں ۔ دعوی سے کہتا ہوں کہ باجوڑ کی زمین بہت اعلیٰ ہے اور ایسی زمین دنیاء کی کسی بھی ملک میں نہیں ہوگی” یہ تھے ضیاء الاسلام داوڑ کی الفاظ۔،،،،،،، ان کا مزید کہنا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ یہاں زراعت کو فروغ ملے اور اس کے لیے انھوں نے ایک جامع منصوبہ بندی کی ہے ۔۔۔ ” میں ایک جذبہ اور ایک مشن کے تحت یہاں ایا ہوں اور وہ جذبہ ہے یہاں پر زراعت کی ترقی ۔۔ کیونکہ زراعت کی ترقی سارے باجوڑ کے عوام کی ترقی اور خوشحالی ہے” ۔ ان کا کہنا تھا کہ باجوڑ کے کاشتکار بہت محنتی ہے لیکن ان کو اپنی یہ محنت مزید تیز کرنا ہوگا ،،،

تاہم ضیاء الاسلام داوڑ نے اس بات پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا کہ یہاں کے مقامی لوگ انتہائی اچھے اور قیمتی زرعی زمین کو ابادی ( گھروں ) کے لیے استعمال کررہی ہیں جو بقول ان کے یہاں کے لوگوں اور خصوصآً نئی نسل کے ساتھ ظلم اور ناانصافی کے مترادف ہے ۔۔
ضیاء الاسلام کے مطابق باجوڑ میں زراعت کی ترقی کے لیے بہت سی اقدامات جاری ہیں جن کے بہت جلد انتہائی اچھے نتائج برامد ہوں گے ۔۔۔
و ماعلینا البلاغ

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.