خالد خان کا بطور سنیئر نائب صدر باجوڑ چمبراف کامرس اینڈ انڈسٹری ( بی سی سی ائی) انتخاب ۔۔ امیدیں ۔ توقعات اور چیلنجیز ۔

0

تحریر انواراللہ خان
گزشتہ دنوں باجوڑ چمبر اف کامرس اینڈ انڈسٹری جوکہ صوبہ خیبر پختون خواہ کے نئی ضم شدہ قبائلی اضلاع ( نیو مرجر ڈسٹرکٹس ) میں واحد اور اولین چمبر اف کامرس اینڈ انڈسٹری ہے جو باجوڑ کے ممتاز سیاسی اور کاروباری شخصیت حاجی لعلی شاہ پختون یار کے کئی سالوں کے محنت اور کوششوں کے نتیجے میں چند سال قبل معرض وجود میں ایا ہے کے نئی کابینہ ( عہدیداروں) کا انتخاب ہوا ۔ نئی کابینہ میں زیادہ تر نئی چہرے سامنے ائے جن میں خالد خان ( فرزند سراج الدین خان ایم پی اے ) بھی شامل ہیں جس کو مفتفقہ طور پر سنیئر نائب صدارات کی زمہ داری تفویض کی گئ ۔
بہت سی لوگوں کا یہ خیال تھا اور ہے بھی کہ موصوف ( خالد خان ) اس عہدہ کے لیے اہل نہیں تھا اور انہیں یہ اہم عہدہ والد ( سراج الدین خان ) اور ان کے شاندار مالی حثیت ہی کی وجہ سے ملا ہے ۔۔ یہ تاثر یا بیانیہ زیادہ تر ان لوگوں کا ہے جو یا خالد خان کی قابلیت اور ان کی شخصیت کے حوالے سے کچھ زیادہ واقف نہیں یا ان لوگوں کا خالد خان اور ان کے خاندان کے ساتھ سیاسی اختلاف ہے ۔
اس بات سے قطع نظر کہ خالد خان باجوڑ کے ایک مخیرفمیلی کا چشم و چراغ ہے یا ان کا والد ایم پی ہے کیونکہ مجھے ان کے مالی حثیت سے کچھ لینا دینا نہیں ہے اور نہیں رہے گا کیونکہ ضروری نہیں کہ ہر ایک صحافی یا عام شہری کی ان جیسے مخیر لوگوں سے کوئی مفادات کا لالچ ہو کیونکہ پشتو میں ایک کہاوت ہے کہ ” ہر یو سور گیرے شاہ گل نہ وی” میں یا میرے صحافی ساتھی اگر کسی شخص کے بارے میں کچھ لکھتا ہے تو اس کا ہر گز یہ مقصد نہیں ہوتا کہ وہ مفادات کے لیے کرتا ہے ۔۔ کیونکہ بقول فیض احمد فیض "
” اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا – راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا "
بات لمبی ہونے کا لیے معزرت لیکن میرا مقصد یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ جو لوگ ۔ کھاتے پیتے اور مخیر خاندانوں سے تعلق رکھتے ہوں ان میں ماسوائے اس” کوالٹی” کی اور کوئی صلاحیت نہیں ہوگی ۔۔۔ اگر صرف پیسہ اور خاندانی اثر رسوخ سب کچھ ہوتا تو اج تو دنیاء میں صرف اور صرف مخیر لوگ اچھے اچھے عہدوں پر براجمان ہوتے ۔ اگر پیسہ سب کچھ ہوتا تو اج ہمارے باجوڑ کے ایک غریب شخص جو کئی سالوں سے روالپنڈی میں ہوٹل کے شعبہ سے وابستہ رہا پاکستان کے پارلیمنٹ جو سب سے مقدم اور باعزت فورم مانا جاتا ہے کا ممبر نہ ہوتا ۔ اگر پیسہ سب کچھ ہوتا تو برنگ جیسے انتہائی پسماندہ علاقہ سے تعلق رکھنے والے دو سگے بھائی اج قومی اسبملی اور صوبائی اسبملی میں نہیں ہوتے۔ اگر پیسہ سب کچھ ہے تو پاکستان کے سب سے مالدار شخص اور بحریہ ٹاون کے مالک ملک ریاض اج ایم این اے یا وزیر اعظم ہوتا ۔ اگر پیسہ سب کچھ ہوتا تو اج ہمارے باجوڑ کے نامی گرامی مخیر لوگ ہمارے ایم این اے ہوتے لیکن ایسا بالکل نہیں ہے ۔ پیسہ کی اہمیت اپنی جگہ ۔ لیکن قابلیت اور صلاحیت کی کوئی ثانی نہیں ہے ۔
گوکہ میرا خالد خان کے ساتھ بہت کم انٹریکشن ہوئی ہے لیکن میں نے ان مختصر ملاقاتوں میں موصوف کو انتہائی بلند پایہ ۔ باصلاحیت اور ہر لحاظ سے مناسب پایا ۔ میں وثوق سے کہتا ہوں کہ جو صلاحتیں خالد خان میں ہے وہ اس طرح کے لوگوں میں بہت کم ہوں گے ۔ ظاہری طور پر تو ہر ایک کو ایسا لگ رہاہے کہ موصوف کو بغیر مالی معاملات کی اور کسی چیز یا ایشوز کا کوئی اتا پتہ نہیں ہوگا ۔ لیکن ایسا ہر گز نہیں ہے ۔ وہ ہر چیز اور ایشوز کے بارے میں یہاں کے اچھے اچھے اور بلند پایہ لوگوں کی طرح جانتے ہیں ۔ مذہب سے لیکر انٹرنیشنل ریلشینز تک سب کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ کاروبار اور تجارت کے حوالے سے تو بہت کچھ جانتے ہیں۔ خصوصآً قبائلی اضلاع کے معاشی پسماندگی کے ہر رموز کا موصوف کو اتنا علم ہے کہ میرے خیال میں بہت کم لوگوں کو ہوگا ۔ نہ صرف پسماندگی کے وجوہات کے بارے میں جانتے ہیں بلکہ ان کے حل پر بھی کافی کمانڈ ہے ۔ بہت کم لوگ یہ جانتے ہوں گے کہ چمبر اف کامرس اینڈ انڈسٹری کا کیا کام اور فوائد ہے اور باجوڑ میں کونسی اشیاء یا مصنوعات کے لیے انڈسٹریز ( کارخانے) لگائے جاسکتے ہیں ۔ باجوڑ کے کن کن علاقوں میں سمال انڈسٹریز قائم کی جاسکتی ہیں اور ان انڈسٹریز کے عوام کی معاشی صورتحال پر کتنے اچھے اثرات مرتب ہوں گے ۔۔ لیکن موصوف ان چیزوں سے اچھے طرح واقف ہے۔۔۔۔ سب سے اہم اور خوش ائند بات یہ ہے کہ موصوف کا جو ضلع میں کاروباری اور تجارتی ترقی کے بارے میں جو ویژن ہے وہ انتہائی اعلیٰ درجے کی ہے اگر موصوف ایمانداری اور خلوص نیت کے ساتھ اپنا ویژن اور صلاحیت باجوڑ چمبر اف کامرس اینڈ اینڈسٹری کی بطور سنیئر نائب صدر بروئے کار لائے تو میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ بہت قلیل عرصہ میں باجوڑ میں مختلف اشیاء اور مصنوعات کی درجنوں انڈسٹریز قائم ہوں گے اور ملک اور بیرون ملک بڑے بڑے اینوسٹرز باجوڑ جیسے علاقہ میں اینوسٹمنٹ کریں گے اور یوں باجوڑ کے ہزاروں بے روزگار جوانوں بالخصوص تعلیم یافتہ جوانوں کو اپنے گھر کے دہلیز پر باعزت روزگار ملیں گے ۔ لیکن شرط یہ ہے کہ خالد خان کو اپنے والد سراج الدین خان – باجوڑ چمبر اف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دیگر ممبران خصوصآً بانی صدر حاجی لعلی شاہ پختون یار کی حمایت ہو اور تعاون حاصل ہو۔ اور سب سے اہم بات اگرخالد خان اپنے صلاحیتیں اور وسائل پوری اخلاص اور جذبہ کے ساتھ بروئے کار لائیں تو ۔۔۔۔۔
وماعلیناالالبلاغ
نوٹ: اگر کوئی دوست اس– تحریر –( مقالہ یا ارٹکیل) کے بارے میں کچھ کمنٹس کرنا چاہتیے ہیں تو ازادی کے ساتھ کریں ۔۔ لیکن ایک بات کو مدنظر رکھیں کہ اگر ارٹیکل کی کسی بات سے اختلاف رکھتے ہو یا اچھا نہ لگے تو اپنے کمنٹس – تبصرہ دلیل کے ساتھ لکھے۔
شکریہ ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.