قبائلی عوام اس وقت فاٹا اور خیبر پختونخوہ کے درمیان آویزاں ہے، ٹرائبل یوتھ فورم

0

اسلام آباد –  نظام میں تبدیلی اور انتظامیہ میں اکھاڑ پچھاڑ تو کر دی گئی ہے، لیکن ہمیں اپنی زندگی اور علاقے میں کوئی بڑی تبدیلی نظر نہیں آئی۔ ریحان زیب خان

فاٹا مرجر کے بعد تمام ترقیاتی کام صرف نوٹیفیکشن تک محدود ہیں۔ حقیقت میں ایک فیصد کام بھی نہیں ہوا۔

این ایف سی میں مختص حصہ ابھی تک نہیں ملا، اے ڈی پی فنڈ سے بھی کٹوتی کی گئی۔ لیویز اور خاصہ دار کے ساتھ بھی کھیل کھیلا جارہاہے، سٹوڈنٹس ایڈمیشن کوٹہ ڈبل کرنے کی بجائے الٹا ختم کردیا گیا۔ صابقہ فاٹا کے منختب صوبائی نمائندے اپنا کردار ادا کریں ۔ ٹرائبل یوتھ فورم پاکستان

ٹرائبل یوتھ فورم پاکستان کا ایک اہم اجلاس فورم کے مرکزی چیئرمین ریحان زیب خان کے زیر صدارات  اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ جس میں فورم کے سینٹرل جنرل سیکرٹری  گوہر علی خان وائس چیئر مین صلاح الدین، وائس صدر توسیف خان صافی، سیکرٹری صدام وزیر ایگزیکٹو ممبر الطاف حسین وزیر، ایگزیکٹو ممبر ارشاد خان صافی کے ہمراہ سول سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر عبداللہ، بلڈ آرگنائزیشن صدر ارشد اقبال مہمند، ہیسٹری ریسرچر واحیداللہ، ریڈ پاکستان کے نمائندہ وقار خان، عدنان خان، زاکر لونگین اور باقی درجنوں ممبران نے شرکت کی۔

 اجلاس کا مقصد فاٹا انضمام کی بعد پیدا ہونے والے مسائل مرکزی اور صوبائی حکومت کے سامنے  اجاگر کرنا تھا۔ فورم کا اجلاس اسلام آباد کے ایک نجی ہوٹل میں منعقد ہوا جس میں قبائلی علاقوں کے تعمیر وترقی، امن وامان کے صورت حال، قبائلی طلباء کو درپیش مسائل اور روز بروز بڑھتے ہوئے بیروزگاری پر گفتگو ہوئی ۔

 اجلاس کے بعد فورم کے مرکزی چیئرمین ریحان زیب خان نے فورم کے نمائندوں کے ساتھ  میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا انضمام کا مقصد قبائلی عوام کے محرومیوں کا ازالہ کرنا تھا، انکو قومی دھارے میں شامل کرکے انکو معیاری تعلیم، صحت اور روزگار جیسے بنیادی حقوق فراہم کرنے تھے۔ لیکن  پختونخواہ حکومت کے ناکام پالیسوں کے وجہ سے قبائلی عوام ذلیل اور خوار ہورہے ہیں۔ نظام میں تبدیلی اور انتظامیہ میں اکھاڑ پچھاڑ تو کر دی گئی ہے، لیکن ہمیں اپنی زندگی اور علاقے میں کوئی بڑی تبدیلی نظر نہیں آرہی۔

 انہوں نے مزید کہا کہ صرف صحت انصاف کارڈ کے علاوہ پیچھلے ایک سال میں حکومت سے کوئی ریلیف نہیں ملی۔ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) میں مختص حصہ ابھی تک قبائلی عوام کو نہیں ملا، اے ڈی پی فنڈ سے بھی کٹوتی کی گئی۔ ریحان زیب خان نے مزید کہا کہ مرجر کے وقت لیویز اور خاصہ دار فورس کے ساتھ پولیس میں ضم کرنے اور انکو پختونخواہ پولیس کے برابر مراعات اور اختیارات دینے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن ایک سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود ہمارے لیویز فورس کو وہی حقوق نہیں ملے جو ملنے چاہئے تھے، لیویز اور خاصہ دار فورس کے ساتھ حکومت کا دغلہ پن امن وامان خراب کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی طرف سے طلباء کے ایڈمیشن کوٹہ ڈبل کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا جس پرسفارشات کے باوجود ابھی تک کام شروع نہیں ہوا، طلباء کے کوٹہ ڈبل کرنے کی بجائے کئی یونیورسٹیوں سے کم یا ختم کردیا گیا ہے جس پر قبائلی طلباء گزشتہ کئی دنوں سے پشاور میں سراپا احتجاج ہیں۔

فورم کے نمائندوں نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوہ کے ساتھ مرج ایریاز کیلئے کوئی خاطر خواہ پلیننگ نہیں ہے، تعمیراتی کام صرف کاغذی کاروئی تک محدود ہے، بیروزگاری میں روز بروز آضافہ ہوتا جارہا ہے، کاروباری نظام درہم برہم ہوچکا ہے، صحت کے مد میں جاری کردہ فنڈ وہاں کے عوام پر خرچ نہیں ہورہا، تمام اضلاع کے بڑے چھوٹے ہسپتالوں میں اس وقت ڈاکٹرز سٹاف، میڈیسن، اور مشین وغیرہ کا شدید قلت ہے۔ فورم کے ممبر ارشاد خان صافی، صلاح الدین، توصیف خان نے مزید کہا کہ قبائلی علاقوں کے صوبائی اسمبلی کے منتخب نمائندے جس مقصد کے حصول کیلئے اسمبلی گئے ہیں وہاں اس مقصد کیلئے جدوجہد کریں۔ فاٹا انضمام کا مقصد صرف ایم پی اے اور کونسلر بننا نہیں تھا بلکہ قبائلی عوام کے محرومیوں کا ازالہ کرنا تھا جس کیلئے ہم سب نے ملکر جدوجہد کرنی ہیں۔

 باجوڑ سے لیکر وزیرستان تک سکیورٹی کے مسائل روز بروز خراب ہوتے جارہے ہیں جس کیلئے سکیورٹی اداروں اپنا کردار ادا کریں۔

  ٹرائبل یوتھ فورم کے اجلاس میں مسلہ کشمیر پر بھی بات چیت ہوئی ، انڈین جارہیت کے شدید مزمت کی گئی اور اپنے کشمیری مظلوم بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا بھی عہد کیا گیا۔

 اجلاس میں اسلام آباد اور راوالپنڈی بشمول ملک کے مختلف شہروں کے یونیورسٹیوں اور کالجوں میں پڑھنے والے قبائلی علاقہ جات سے تعلق رکھنے والے طلباء کے مسائل کے حل اور ہر قسم کے سپورٹ کا عہد دہرایا گیا 

 اجلاس میں فورم کے مرکزی کبینٹ میں بھی ردبدل کی گئی نعمان بیٹنی کو ڈپٹی جنرل سیکریٹری جبکہ عثمان خان جاونٹ سیکٹری منتخب ہوئے۔ اجلاس میں ٹرائبل یوتھ فورم کے تمام ممبران نے قبائلی علاقوں کے تمام مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ ملک اور قوم کے ہر قسم خدمت کا عہد بھی کیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.