اپنی طرز کی منفرد اور ماڈرن،دینی درسگاہ ، جامعہ مدینتہ العلوم کی تعمیراتی کام کا باقاعدہ افتتاح ۔

0

تحریر انواراللہ خان


سراج الدین خان ( ایم پی اے ) کی جانب سے گزشتہ روز نویکلی میں اپنی طرز کی منفرد دینی درسگاہ – جامعہ مدینتہ العلوم کی تعمیراتی کام کا باقاعدہ افتتاح ہوگیا ۔ جامعہ مدینتہ العلوم کی تمعیراتی کام کا باقاعدہ افتتاح نہ صرف نویکلی۔ رحمان اباد ۔ صدیق اباد ۔ بادی سمور ۔ بائی چینہ اور تحصیل خار کے دیگر چھوٹے بڑے گاوں اور دیہاتوں کے لیے ایک اچھی خبر اور قدم ہے بلکہ میں تو سمجتھا ہوں کہ جامعہ مدینتہ العلوم کی تعمیراتی کام کا باقاعدہ اغاز سارے باجوڑ کے لوگوں کے لیے باعث ستائش ہے ۔ وہ کیوں ۔۔؟ وہ اس لیے کہ جامعہ مدینتہ العلوم باجوڑ اور دیگر قبائلی اضلاع میں کئی عشروں سے قائم سینکڑوں دینی مدارس سے ہر لحاظ سے منفرد اور مختلف ہوگی ۔

باجوڑ کے ممتاز عالم دین اور سکالر مولانا زاکراللہ کی زیر اہتمام چلنے والی جامعہ مدینتہ العلوم نویکلی نہ صرف عمارت ( بلڈنگ ) کے وجہ سے دیگر اسلامی مدارس سے مختلف ہوگی بلکہ ( میرے معلومات کے مطابق ) تعلیم اور کورسز کی لحاظ سے بھی منفرد ہوگی ۔ مختصر یہ کہ جامع مدینتہ العلوم کی حثیت صرف ایک روایاتی دینی مدرسہ تک محدود نہیں ہوگی بلکہ یہ کراچی۔ لاہور۔ اسلام اباد اور پشاور میں قائم بڑے بڑے اور معروف دینی درسگاہوں کی طرز پر ہوگی
۔ مجھے حاصل معلومات کے مطابق اس درسگاہ میں مروجہ تمام دینی ۔ مذہبی ۔ اور فقہ کے تعلیم ( ابتداء سے لیکر اختتام تک ) دی جائے گی ساتھ ہی قران اور احادیث کی تعلیم ( اخری دورے تک ) بھی دی جائے گی۔ باجوڑ بلکہ سارے قبائلی اضلاع میں اپنی طرز کے اس منفرد اسلامی درسگاہ میں دینی علوم کے ساتھ عصری علوم بھی پڑھائے جائیں گے اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ یہاں سے فارغ التحصیل طلباء کالجوں اور یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل طلباء کی طرح بغیر کسی مشکل کے ہر قسم کی نوکریوں اور پوسٹوں کے لیے اپلائی کرسکیں گے اور پھر مشروٹ قسم کے لوگ ( جو زیادہ تر یونیورسٹیوں سے فارغ ہیں ) یہ نہیں کہیں گے کہ اسلامی مدارس سے فارغ التحصیل طلباء کو بغیر اسلامی اور دینی علوم کے کچھ نہیں اتا ۔۔ میں وثوق سے کہتا ہوں کہ اگر جامع مدینتہ العلوم نویکلی سراج الدین خان کی جانب سے پہلے سے ترتیب شدہ پلان – یا طریقہ کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچا اور سراج الدین خان ۔۔ مولانا زاکر اللہ اور ان کے ٹیم کے پہلے سے وضع کی گئی ترتیب اور پلان کے مطابق اس میں پڑھائی کا عمل شروع ہوگیا تو یہاں سے فارغ التحصیل طلباء دینی اور عصری علوم میں اپنی مثال اپ ہوں گے ۔

 اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے اسلامی حکمرانوں نے اپنی ترقیاتی کاموں کا اغاز اسلامی مدارس سے کیاہے ۔ اس کی کیا وجہ ہوگی میں نہیں سمجھتا لیکن یہ سمجھتا ہوں کہ سراج الدین خان نے اپنے ترقیاتی منصوبوں کا اغآز یا ابتداء ایک ایسے اسلامی درسگاہ کے سنگ بنیاد رکھنے سے کیا جس کے لیے موصوف نے کئی سال پہلے زمین خریدی تھی اور ایک ایسی عظیم اسلامی درسگاہ جہاں پر نہ صرف باجوڑ کے سینکڑوں طلباء کو ایک چھت تلے دینی اور ہر قسم کے عصری علوم ( سائنس ۔ کمپیویٹر۔ انگریزی ۔ ادب وغیرہ ) شامل ہیں پڑھائی جائیں گے بلکہ صوبہ خیبر پختون خواہ کے دیگر اضلاع بالخصوص ہمسایہ ضلع دیر لوئیر ۔ ضلع دیر اپر اور مہمند کے طلباء دینی اور عصری علوم کے لیے اسی مدرسہ کا رخ کریں گے ۔
میرے معلومات کے مطابق اس جامعہ میں ہر قسم کے سہولیات سے اراستہ ہاسٹل کی سہولت بھی ہوگی جہاں پر سینکڑوں طلباء کو ان کے استعمال کے تمام اشیاء مفت فراہم ہوں گے۔ نہ صرف مجھے بلکہ باجوڑ بالخصوص حلقہ پی کے 102 جہاں سے سراج الدین خان جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر امسال ( بیس جولائی 2019 ) کو ہونے والے قبائلی اضلاع کے تاریخ میں پہلی بار منعقد ہونے والے صوبائی اسمبلی کے الیکشن میں اپنے قریبی حریفوں کے مقابلے میں لگ بھگ سات ہزار ووٹوں کے واضح فرق سے کامیاب ہوا ہے کو اس بات کا اگر سو فیصد نہیں تو اسی فیصد یقین ضرور ہے کہ موصوف تمام ترقیاتی منصوبوں کے لیے جگہوں اور مقامات کا تعین میرٹ اور شفاف طریقے سے کریں گے ۔ ویسے عیب کا علم اور دلوں کا حال صرف اور صرف اللہ ہی جانتا ہے لیکن لوگوں کو اس بات کا یقین ہے کہ موصوف( سراج الدین خان ) دیگر لامیکرز کی طرح ان ترقیاتی منصوبوں میں ذاتی پسند، نا پسند اور کمیشن کا کوئی فکر نہیں کریں گے اور ہوسکتا ہے کہ موصوف اپنی شان اور استطاعت کے مطابق ان ترقیاتی منصوبوں میں اپنے جیب سے بھی کچھ رقم خرچ کریں گے ۔ یہ تو وقت ہی ثابت کریگا کہ کیا ہوتا ہے لیکن ہمیں اپنی سوچ اور فکر کو مثبت رکھنی چاہیے ۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔ وما علینا البلاع ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.