آج کی بات ،حیات محمد یوسفزئی کی جماعت اسلامی باجوڑ کے ناظم اطلاعات و نشریات

0

باجوڑ- جماعت اسلامی باجوڑ کے ناظم اطلاعات و نشریات ( سیکرٹری اطلاعات ) کے اہم اور ذمہ دار منصب پر تقرری ۔

تحریر انواراللہ خان

گزشتہ ہفتہ جماعت اسلامی باجوڑ کے قیادت نے مقامی مجلس شوریٰ کے سفارشات پر سیکرٹری اطلاعات اور نشریات کے عہدہ پر حیات محمد یوسفزئی جو عرف عام میں حیات یوسفزئی کے نام سے جانا جاتا ہے کے تقرری کے احکامات صادر کئے ۔ بہت سی لوگوں بالخصوص سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کو حیات یوسفزئی کے جماعت اسلامی کے سیکرٹری اطلاعات جیسے اہم منصب پر تعنیاتی سے بہت حیرانی ہوئی ہوگی کیونکہ حیات یوسفزئی کا تعلق نہ تو بڑے جاگیردار اور سرمایہ دارخاندان سے ہے اور نہ ہی حیات یوسفزئی کے خاندان کے دیگر لوگوں کا جماعت اسلامی کے ساتھ کوئی خاص تعلق رہاہے یا ہے اور نہ ہی جماعت اسلامی باجوڑ کے اندر کوئی لابی نے حیات یوسفزئی کے لیے کوئی لابنگ کی ہے ۔ لوگوں کو اس بات پر بھی حیرانی ہوگی کہ کیوں ایک عام اور متوسط خاندان سے تعلق رکھنے والے جوان جماعت اسلامی جیسے منظم اور باجوڑ میں ٹاپ سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں شمار کی جاتی ہیں کس طرح ناظم اطلاعات اور نشریات کے عہدہ پر تقرری ہوئی ۔ لیکن ایک بات اطہر من الشمس ہے کہ جماعت اسلامی تمام عہدوں اور پوسٹوں پر تقرریاں اور نامزدگیاں میرٹ اور قابلیت پر کرتے ہیں اور یہ جماعت اسلامی کا طرہ امتیاز رہاہے کہ ابھی تک جن عہدوں پر تقرریاں ہوئی ہیں وہ خالصتاً میرٹ اور قابلیت ہی پر ہوئی ہیں ۔ باجوڑ میں دیگر سیاسی اور دینی جماعتوں میں ہر عہدوں پر تقرریاں اور تعنیاتی میرٹ اور صلاحیت پر ہی ہوگی لیکن جہاں تک جماعت اسلامی کا تعلق ہے میں نہیں سمجھتا کہ اب تک کسی عہدہ پر زمہ داروں کی تقرریاں اور تعنیاتی میرٹ اور صلاحیت کے برعکس ہوئی ہوگی اور یہ جماعت اسلامی کو دیگر جماعتوں سے ممتاز بناتی ہیں ۔ ناظم اطلاعات اور نشریات کسی بھی سیاسی اور دینی جماعتوں اور تنظیموں میں ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتی ہیں کیونکہ یہ ایک اہم اور زمہ دار عہدہ ہے ۔ ماضی میں جماعت اسلامی باجوڑ کے ناظم اطلاعات اور نشریات کے عہدوں پر نامی گرامی افراد اور رہنماء فائز رہے ہیں جن میں جماعت اسلامی باجوڑ کے سابق امیر اور حلقہ این اے 41 سے سابق رکن قومی اسمبلی قاری عبدالمجید یزدانی قابل زکر ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ حیات یوسفزئی عمر کے لحاظ سے کم ہے لیکن جو صلاحیتں اس میں موجود ہیں میرے خیال میں یہ موصوف کے بہت سی کم ہم عصر جوانوں میں ہوں گے ۔ سب سی اہم بات تو یہ ہے کہ حیات یوسفزئی مقامی اور قومی سیاست کے ساتھ بین الاقوامی سیاست پر بھی گہرا نظر رکتھے ہیں اوربین الاقوامی تعلقات یا انٹرنشنل ریلیشنز ( ائی ار ) میں ماسٹر کیا ہے ۔ بی بی سی ۔ وائس اف امریکہ ۔ ڈی چی ویلی ۔ ریڈیو پاکستان ۔ چائینہ ریڈیو انٹرنشنل اور بہت سی دیگر عالمی ریڈیو چینلز کا نہ صرف کئی سالوں سے ریگولر لیسنر ( سامع ) رہاہے بلکہ ان کے مختلف شوزاور پروگراموں میں حصہ بھی لیا ہے ۔ ساتھ ہی حیات یوسفزئی سکول کے دور سے لیکر اب تک پاکستان کےقومی اخبارات جن میں اردو اور انگریزی زبان کے بڑے بڑے نامی گرامی اخبارات شامل ہیں کا ریڈر رہاہے نہ صرف ریڈر رہاہے بلکہ مختلف ایشیوز پر خطوط اور ارٹیکلز بھی شائع ہوئی ہیں ۔ سپورٹس خصوصاً کرکٹ میں نہ صرف دلچسپی لیتے ہیں بلکہ ایک مانے ہوئے کھیلاڑی بھی رہاہے اور تینوں شعبوں ۔ باولنگ ۔ بیٹنگ اور فیلڈنگ میں غیر معمولی صلاحتیوں کے مالک ہیں ۔ مقامی اور صوبائی سطح پر کھیلے جانے والے کئی سپورٹس ایونٹس میں باولنگ اور بیٹنگ میں اپنے صلاحیتوں کا لوہا منواچکے ہیں ۔ سپورٹس کے ساتھ غیر معمولی وابستگی نے نہ صرف حیات یوسفزئی کے پرسلنٹی کو مزید چار چاند لگائے ہیں بلکہ ان کے شہرت اور مقبولیت میں مزید اضافہ کیاہے ۔ سب سے اہم اور اچھی صفت جو حیات یوسفزئی کو اپنے ہم عصر جوانوں سے ممتاز کرتا ہے وہ ہے ان کے اخلاق ۔ ملنساری ۔ عاجزی اور اپنے کام سے کام ۔ میں نہیں سمجھتا کہ حیات یوسفزئی نے سکول سے لیکر کالج تک ۔اور کرکٹ سے لیکر سیاست تک کسی کے ساتھ تلخ جملوں کا تبادلہ تک کیا ہو۔ موصوف ایک خوش اخلاق باادب ۔ محںتی اور باصلاحیت جوان اور میرے خیال میں یہی وہ صفات ہے جنھوں نے اج ان کو جماعت اسلامی جیسے منظم اور مقبول جماعت کے ناظم اطلاعات اور نشریات ( سیکرٹری اطلاعات ) جیسے اہم اور ذمہ دار عہدہ پر تعنیات کیا ۔ امید ہے حیات یوسفزئی جماعت اسلامی کے سیکرٹری اطلاعات کی یہ ذمہ داریاں اچھے طریقے سے انجمام دیں گے ۔ ہمارا تعاون اور نیک خواہشات ہمیشہ کی طرح ان کے ساتھ رہیں گے ۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔
وماعلیناالبلاغ

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.