کیلاش قبیلے کے سالانہ تہوار چھومس ، شدید سردی کے باوجود کثیر تعداد میں غیر مقامی سیاح کی امد

0

چترال(گل حماد فاروقی) کیلاش قبیلے کا سالانہ تہوار چھومس  کو دیکھنے کیلئے شدید سردی کے باوجود بھی کثیر تعداد میں ملک کے کونے  کونے سے  سیاح وادی کیلاش پہنچے تھے۔ اس تہوار کی حاص بات یہ ہے کہ اس میں لڑکے  لڑکیوں کی کپڑے پہنتے ہیں اور لڑکیاں لڑکوں کے کپڑے پہن کر اکھٹے رقص پیش کرتے ہیں۔ تہوار کے دوران لومڑی بھگاکر اسے ڈھونڈنے سے کیلاش کے بزرگ فال نکالتے ہیں اور نئے سال کی نیک یا بد شگونی کا پیشن گوئی کرتے ہیں۔ 

تاہم اس رنگا رنگ تہوار کو دیکھنے کیلئے آنے والے سیاحوں کو ایک ہی شکایت تھی کہ سڑکوں کی حالت بہت حراب ہیں اور سہولیات کی فقدان ہے۔کیلاش قبیلے کے مذہبی رہنماء جسے قاضی کہا جاتا ہے نے نام نہ بتانے  کے شرط پر بتایا کہ ہم مجبورا حکومت کے حلاف کوئی بات بھی نہیں کرسکتے کیونکہ حکومتی افسران  نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ کیلاش کے تمام قاضی صاحبان کو ماہوار تنخواہ یا وظیفہ مل جائے گا اب اگر ہم ان پر تنقید کرتے تو ڈر لگتا ہے کہ کہیں اسے منسوح نہ کرے تاہم انہوں نے بتایا کہ ہم اس بات پر حیران ہیں کہ صوبائی حکومت نے میڈیا میں بیان دیا ہے کہ کیلاش لوگوں کیلئے ٹرانسپورٹ اور رات کے وقت روشنی کا بھی بندوبست کیا گیا تھا ۔ ہم نے تو نہ ٹرانسپورٹ دیکھی اور نہ روشنی کا انتظام۔ ایک  دو بلب لگانے سے ہمارا مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ حکومت جو چترال کے بیوٹی فیکیشن یعنی خوبصورتی پر پچاس کروڑ روپے کا اعلان کرتا ہے تو وہ پیسہ کہاں خرچ ہوتا ہے۔

ایک کیلاش خاتون کا کہنا ہے کہ ہم سڑک کی حراب حالت اور سہولیات کی فقدان کی وجہ سے نہایت مشکلات سے دوچار ہیں اگر سڑک پر کوئی حادثہ پیش آئے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا۔ حکومت یا ہمارے منتحب نمائندے۔

کراچی سے آئی ہوئی ایک خاتون سیاح نے کہا کہ میں پانچ سال پہلے آئی تھی اب جب دوبارہ آئی تو مجھے کوئی حاص تبدیلی نظر نہیں آئی ویسے ہم نے میڈیا میں بہت سنا تھا کہ خیبر پحتون خواہ میں بڑی تبدیلی آئی مگر ہمیں کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی۔

ایک کیلاش قاضی نے یہ بھی بتایا کہ ہماری رقص گاہ یعنی چرسو جہاں کیلاش خواتین رقص پیش کرتی ہیں وہ نہایت تنگ ہے اور ہماری خواتین آزادی سے اپنی مذہبی رسومات ادا نہیں کرسکتی۔ٹورزم والے کم از کم کاغذوں میں کروڑوں روپے خرچ کرنے کی بجائے ہماری رقص گاہ کو وسیع کرتے تو اچھا ہوتا۔

تاہم ایک کیلاش خاتون کا کہنا ہے کہ  ہم اقلیتوں کے محصوص نشت پر نامزد رکن صوبائی اسمبلی وزیر زادہ سے امید کرتے ہیں کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے ذریعے ہماری سڑکوں کی حالت بہتر کرے گا اور یہاں ترقیاتی کام بھی کروایے گا۔ 

کراچی سے چند سیاحوں نے بتایا کہ یہاں سیاحوں کیلئے کوئی سہولت نہیں ہے اور رات کو جلدی دکانیں بھی بند ہونے سے ہم ضرورت کی چیز نہیں خرید سکتے دوسرا راستے میں نہایت اندھیرا اور راستوں میں پانی جم کر برف بن جاتا ہے جس سے سیاح اکثر پھسل کر گر جاتے ہیں اور ہاتھ پاوں ٹوٹنے کا بھی حطرہ رہتا ہے۔ 

وادی کیلاش کے مکین اور یہاں آنے والے سیاح تبدیلی سرکار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ٹورزم کارپوریشن خیبر پحتون خواہ کے ذریعے جو فنڈ سیاحت کے نام پر یہاں کاغذوں میں خرچ ہوتا ہے ا ن کا صحیح معنوں میں احتساب کیا جائے تاکہ وہ فنڈ خورد برد سے بچ کر یہاں کی ترقیاتی کاموں پر خرچ ہوسکے اور سیاحوں کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے ضروری اقدامات اٹھایا جائے۔

واضح رہے کہ چھومس تہوار کو دیکھنے کیلئے شدید سردی کے باجود ملک کے ہر حصے سے اور چند بیرون ممالک سے بھی کثیرتعداد میں سیاح آئے تھے مگر سہولیات نہ  ہونے کی وجہ سے یہ سیاح گوناگوں مشکلات سے دوچار رہتے ہیں۔ ان سیاحوں کا کہنا ہے کہ سیاحت کو فروغ دینے کے دعویدار حکومتی ادارے صحیح معنوں میں یہاں سہولیات فراہم کرے تاکہ سیاحوں کیلئے آسانیاں پید ا ہو تو اس سے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا اور اس سے زر مبادلہ حاصل ہونے سے اس پسماندہ علاقے سے غربت کے حاتمے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.