تحریک نفاذ اردوکے حوالے سے اسلام آباد میں اجلاس

0

شیرزادہ

اسلام آباد-کسی بھی قوم کی طرقی اسکی قومی زبان کی ترویج کے بغیر ممکن نہیں ۔اس طرح پاکستان جو کہ دو قومی نظریہ کے تحت معرض وجود میں آیا ہے۔  اس کی وجود کو قائم  رکھنے میں  اردو زبان کا  ایک کلیدی کردار رہاہے۔یہی اردو ہی ہے جس نے قوم کے مختلف دھڑوں کو   ایک ہی پلیٹ فارم پر مہیاں کیا۔ اگرچہ پاکستان میں ایک سو بیسں سے زیادہ مقامی زبانین بولی جاتی ہیں ۔لیکن اردو کو ہر جگہ پرایک منفرد مقام حاصل ہے۔مگر بدقسمتی سے آذادی کے بہتر سال گزرنے کے باوجود  اردو زبان  کونا تو  مکمل طور پر سرکاری و دفتری زبان بنایاگیا اور نہ ہی اس کی ترویج کیلیے بنیادی اقدمات اٹھائے  گئے ۔حکمران نفاذ اردو کو نظرانداز کرکے دستور شکنی اور توہین عدالت کے مرتکب ہورہے ہیں ۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق فوری طور پر وفاقی اور صوبائی سطح پر قومی زبان کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔

ان مطالبات کا اظہار تحریک نفاذ اردو پاکستان کی مرکزی مجلس انتظامیہ کے اجلاس میں منظور کی گئی قرار داد میں کیا گیا۔اجلاس کا عنوان تھا "اردو نافذ کرو  "۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد اسلم الوری،  جواس تحریک کےسرپرست  اعلی ہے،نے کہا کہ گزشتہ پون صدی سے انگریزی کے نفاذ نے ہماری قومی ترقی کو متاثر کیا ہے اور ہم دن رات محنت کے باوجود ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکے۔ مرکزی صدر عطاء الرحمن چوہان نے کہا کہ حکمران قومی زبان کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرکے دستور شکنی اور توہین عدالت کے مرتکب ہوئے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی تساہل سے قانون شکنی فروغ پارہی ہے جو ہماری قومی مزاج کا حصہ بن کر قوم کو تباہی کی طرف دھکیل رہی ہے۔ شعبہ خواتین کی نمائندہ صباء فضل نے کہا کہ حکمران ملک میں طبقاتی نظام کو قائم رکھنا چاہتے ہیں اس لیے اردو کا نفاذ نہیں کرنا چاہتے۔

 انہوں نے کہا کہ ہماری اشرافیہ عوام کو جاہل رکھ کر قوم کے وسائل کو لوٹ رہی ہے،اگر قومی زبان نافذ ہو جائے تو عوام اپنے حقوق سے آگاہی کے باعث اشرافیہ کے لیے رکاوٹ بنیں گے۔ قرار داد میں مطالبہ کیا گیا کہ قومی زبان کو فوی نافذ کرکے دستور کا تقاضا پورا کیاجائے اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر عمل کیا جائے۔ بین الاقوامی شہر ت یافتہ سکالر خلیل الرحمن چستی نے کہا کہ اردو کے رسم الخط کا رتحفظ خصوصی توجہ کا متقاضی ہے ورنہ رومن طرز تحریر اردو کے ادبی تشخص کو برباد کردے گا۔

 اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 25 فروری کو "یوم نفاذ اردو” کے طور پر پورے ملک میں منایا جائے گا اور اس موقع پر مجالس مذاکرہ، تقریری مقابلے، عوامی اجتماعات اور ریلیاں منعقد کی جائیں گی۔ سہ ماہی منصوبہ عمل کی منظوری دی گئی جس کے مطابق نفاذ قومی زبان کے لیے ملک گیر تنظیمی نیٹ ورک کو موثر بنایا جائے گا، نفاذ اردو کے لیے دستخطی مہم کو تیز کرتے ہوئے مارچ تک پچاس لاکھ دستخطوں کا ہدف حاصل کیا جائے گا۔

 اجلاس سے جناب محمد اسلم الوری سرپرست، عطاء الرحمن چوہان، صدر، سید مطاہر علی زیدی صاحب، معتمد عام، جناب نمیر حسن مدنی صاحب، معتمد اضافی ، جناب صبغت اللہ شاہ، معتمد صوبہ سندھ، انجنیئر ضیاء الحق صاحب، معاون معتمد، محترمہ صباء فضل صاحبہ صدر کراچی شعبہ خواتین، سید ظہیر گیلانی صاحب، صدر اسلام آباد، سید مونس رضا صاحب صدر ضلع اٹک، پروفیسر صغیر آسی، صدر میرپور ڈویژن، محترمہ ثروت الماس، صدر خواتین ضلع اسلام آبادمحترمہ شیریں سید، نائب ناظم اطلاعات و نشریاتساجد الرحمن بانیاں صاحب، ناظم مالیات سید نصرت بخاری ،ڈاکٹر عابد حسین جنجوعہ، ڈویژنل سیکرٹری میرپورطاہر اسیراور ڈاکٹر شجاع اختر اعوان نے شرکت کی اور مختلف موضوعات پر اپنے  خیالات کا اظہار کیا۔

صدر خواتین ضلع اسلام آبادمحترمہ شیریں سیدنے اپنی خیالات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ  اردو  زبان کی ترویج میں نوجوانوں اور طلبہ کے کردار  کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ اجلاس کی اختتام پر متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ سکول ،کالج  اور جامعات کی سطح پر اردوزبان کی نفاذ کی حوالے سے باقاعدہ مہم چلائی جائیگی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.