برنگ سیلئی پٹے دریا کے کنارے سیر کیلئے آنے والے سیاح پر دفعہ 144کے تحت پابندی لگادی گئی

0

باجوڑ- ضلعی انتظامیہ باجوڑ نے برنگ سیلئی پٹے میں دریا کے کنارے سیر کیلئے آنے والے سیاح پر دفعہ 144کے تحت پابندی لگادی اور کہا کہ خلاف ورزی کرنیوالوں کو 50ہزار روپے جرمانہ کیاجائیگا۔ ان خیالات کااظہار اسسٹنٹ کمشنر خار فضل رحیم نے پختونخواہ ریڈیو باجوڑ ایف ایم 91.1کے ایک گھنٹہ آزمائشی نشریاتی پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔

 انہوں نے کہا کہ برنگ میں یہ سال2020کے دوران دوسرا واقعہ ہے کہ ایک نوجوان دریا میں گرگیا۔انہوں نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ نے لاش نکالنے کیلئے ریسکیو1122کے ذریعے آپریشن شروع کیاہے لیکن تاحال کامیابی نہیں ملی ہے ۔انشاء اللہ کوشش جاری ہے کہ جلد یہ لاش مل جائے۔

اسسٹنٹ کمشنر خار فضل الرحیم پختونخواہ ریڈیو پر براہ راست |فوٹو

 انھوں نے کہا کہ مذکورہ سیاحتی مقام پر دریا کے دونوں جانب خاردار تاریں لگائی جائیگی تاکہ مزید کوئی حادثہ رونما نہ ہو۔ اے سی خار نے بتایا کہ اس سلسلے میں انہوں نے خود برنگ سیلئی پٹے کا دورہ کیا اور وہاں پر متاثرہ خاندان کیساتھ تعزیت اور گہری ہمدردی کا اظہار کیا اور اُن کو خیمے سمیت دیگر ضروری سامان بھی مہیا کی.
اے سی خار فضل رحیم نے کہا کہ صوبائی حکومت کے احکامات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ باجوڑ نے بھی لاک ڈاؤن میں نرمی کی ہے اور اس کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ دکانداروں کا روزگار متاثر نہ ہو کیونکہ لاک ڈاؤن کیوجہ سے لوگوں کا کاروبار متاثر ہوا تھالیکن لاک ڈاؤن میں نرمی کا ہر گز یہ مقصد نہیں کہ ہم احتیاطی تدابیر کو چھوڑدینگے ۔دکانداروں کو احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنا ہوگا اور دکانداروں کو سماجی فاصلے کا خیال رکھنا ہوگا ۔

 انھوں نے بتایا کہ کورونا ایک عالمی وباء ہے اور اس کو عالمی ادارہ صحت نے Pandemicڈکلیئر کردیا ہے لہذا ہمیں احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کیخلاف ورزی پر اب تک 400افراد کو گرفتار کیاگیا تھا جن میں صرف 10فیصد لوگوں سے جرمانہ وصول کیاگیا جبکہ باقی کو وارننگ دیکر رہاکیاگیا۔

 اس موقع پر انہوں نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پختونخواہ ریڈیو باجوڑ ایف ایم 91.1کو آزمائشی نشریات شروع کرنے پر مبارکباد بھی دی ۔ دریں اثناء اسسٹنٹ کمشنر خار فضل رحیم نے پروگرام کے دوران سامعین کے جانب سے ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجے گئے سوالات کے جوابات دئیے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.