غازی ارتطغرل یا غازی امان۔

0

تحریر مولانا خانزیب۔

کچھ عرصہ سے الیکٹرانک میڈیا پر ایک ڈرامہ دکھایا جارہا ھے ارتطغرل غازی کے نام سے جو ترکی سے بھی یہاں زیادہ مقبول ہورہا ھے اور جسکے دیکھنے والوں کی تعداد یوٹیوب پر کروڑوں تک پہنچی ھے۔
اگر کردار کو صرف ڈرامے کی حدتک لیا جائے تو ٹھیک ھے کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ ادبی طور پر کسی ڈرامے کے کردار کیلئے حقائق کی موجودگی ضروری نہیں ہوتی بلکہ آپ کسی بھی ایک کردار کو ہیرو بناکے اسے معاشرتی نفسیات کے مطابق جوڑنے کی کوشش کرسکتے ھے اور آجکل تاریخی حقیقتوں کے بجائے اس چینل کا بزنس کرنا اہم ہوتا ھے لیکن اگر ایک اور زاویے سے دیکھا جائے تو اس ملک میں ہمیشہ ہی ایسے غیر سنجیدہ کرداروں کو ہیروز کا مصنوعی لبادہ پہنا کر ایک حقیقی تصور دینے کی سعی کیجاتی ھے جس کے پیچھے مقاصد میں ایک مخصوص ذہنیت اور اس فریم ورک کے اندر ایک ملمع شدہ تاریخ کی تخلیق ہوتی ھے۔
ارتطغرل کا کردار تاریخی اسناد کی رو س تاریخی سے زیادہ افسانوی ھے کیونکہ ارتطغرل تاریخ میں ایک بہت چھوٹا موہوم سا کرکٹر ھے ہمارے اس ملک کے پالیسی سازوں کا المیہ بھی یہی ھے کہ نہ تو انکو مسلمانوں کی تاریخ کے حقائق کا درست ادراک ھے اور نہ ہی اس خطے جنوبی ایشیا میں آباد مختلف اقوام کی تھذیب و تمدن کی سچی تاریخی پس منظر کا اور اگر کچھ علم ھے تو اسپر نسلی تعصب عینک چھڑائی گئی ھے۔
اگر کسی ڈارمہ میں کسی ترکی کے ماڈل و ثقافت سے متاثر ذہنیت نے انکے کسی مسلم رہنما کو بطور ہیرو پیش کرنا تھا تو پھر ترکی تاریخ کا درست علم بھی ہونا چاہئے کہ سلطنت عثمانیہ کے بانی سلیمان شاہ یا سلطنت عثمانیہ کے دسویں عظیم حکمران سلیمان اعظم یا فاتح قسطنطنیہ سلطان محمد فاتح یا فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبی پر ڈرامہ بنانا چاہئے تھا جو صلیبی جنگوں کے سامنے کھڑے تھے جبکہ یہ سلطنت بیسیویں صدی میں انگریز کے سامنے ریت کی دیوار کیوں ثابت ہوئی سلطنت عثمانیہ کے کمزوریوں اور شخصی آمریت کا بھی تجزیہ کرکے ڈرامہ بنانا چاھئے مسلمان ڈیڑھ ارب ہوکے بھی کیوں دنیا میں خوار ھے سائنسی وعلمی پسماندگی کیوں ھے اسپر بھی ڈرامے بننے چاھئے ۔
تاریخی طور پر سلجوقیوں کی سلطنت کے زمانے میں ارتطغرل تیرویں صدی عیسوی میں ترکوں کے اوغوز قبیلے کے ایک چھوٹے سے شاخ ،قائی، قبیلے کے اناطولیہ کے علاقےمیں ایک سپاہی تھے ہم مسلمانوں کا بحیتث المیہ یہی ھے کہ ہم کافی عرصہ سے جنگی جنون کی ایک خبط میں مبتلا ھے اور صرف ماضی پرست بن گئے ہیں حقائق کا سامنا کرنے کے بجائے خوابوں میں دنیا کی تسخیر کا ارادہ رکھتے ہیں جبکہ خود اپنے حال میں کچھ کرنا نہیں چاھتے۔
خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق۔
صرف ماضی کے ان قصوں کہانیوں کے زور پر دنیا کے فتح مندی کے آرزومند ہیں اسی لئے تو تاریخی طور پر اگر آپ اپنے ماضی کا درست تجزیہ نہیں کرتے اس سے درست نتائج اخذ نہیں کرتے توماضی کی نرگسیت کا شکار ہونا پھر ایک قومی المیہ بن جاتاہے جس سے قوم کا وجود قومی حافظہ اور استعداد بیمار پڑ جاتی ھے اپنی ماضی سے کٹنے چھوڑنے اور بھولنے کی بات نہیں کرتے اور نہ ہی ایسا کرنا چاھئے مگر حقائق سے آنکھیں چرانا حقائق کو نہ ماننے کے مترداف ہوتا ہیں تاریخ کا سبق یہ ہوتا ھے کہ اپنے ماضی کی تاریخ کو یاد رکھنا ھے اس سے اپنی حال کی اصلاح کرنی ھے اور اسی حکمت وتعبیر شدہ نتائج کے سبب آپ نے قومی اجتماعیت سے مستقبل کو فتح کرنا ہیں اب اپنی اصلاح کیسی کرنی ھے دنیا میں سرخرو ہوکے کسطرح فتح مند ہونا ہیں اب اس ایکسویں صدی میں دنیا کے حقائق بدلے ہیں صرف قصوں اور ڈراموں کو سننے دیکھنے سے کچھ نہیں ہوگا جب تک آپ اپنی قومی حافظہ کو اپنے اندر سموتے نہیں ہے بقول حمزہ شینواری۔
جوړ سامان د عياشې کړم وائم وخت کوي غوښتنه.
وخت زما دې ګوډاګی خو بهانه پيدا کووم.
میرے خیال میں ہم نہ بحیثیت مجموع اور اسکے ساتھ ہمارے کرتا دھرتاؤں کو نہ تو اسلام کے ساتھ کوئی محبت ہے اور نہ ہی اپنے علاقائی قومیتوں کی درست تاریخ کیساتھ اگر ہم اپنی قومیتوں کے ساتھ مخلص ہوتے تو غازی ارتطغرل جیسے نامانوس اور افسانوی کردار کے بجائے ہمیں ،غازی امان، پر ڈرامہ بنانا چاہیے تھا غازی امان اللہ خان کون تھا ایک سچا کھرا مسلمان اور پختون!
غازی امان اس پختون قوم کا ہیرو ھے جو اب بھی اس ملک کے ساتھ مخلص ہیں شروع سے لیکر ابتک اس ملک کی سالمیت کے نام پر یہی قوم قربانی کی بھینٹ چڑھائی گئ ھے مگر ستم ظریفی یہ ھے کہ ہمارے قومی ہیروز کو ہیروز کا درجہ دینا یا انکی درست تاریخ سے واقفیت کیلئے ڈرامہ بنانا تو درکنار الیکٹرانک میڈیا میں پختونوں کو کئ دھائیوں سے بطورِ مسخرہ چوکیدار اور ناسمجھ دکھانی کی کوشش کیجاتی ھے اور اس ملک کے وفادار قومیت کے تشخص کو جان بوجھ کر مسخ کرنے کی دیدہ دانستہ کوشش کیجاتی ہیں۔
بات کرتے ہیں غازی ارتطغرل کی بنسبت غازی امان کی تاکہ قارئین خود ہمارے قومی کردار کے درست تعبیر کا فیصلہ خود کرسکیں اور اس امتیازی ذہنیت کو بھی سمجھ سکے جو نام کی حدتک تو یہ کہتے ہیں کہ ( ہر ملک ماست کہ ملک ئے خدائے ماست ) مگر درحقیقت اس خطے کو حقیقی کرداروں اور انکے شخصیات کو نصاب تعلیم اور قومی تشخص کے علامات سے دور کرتے ہیں یا یہ کہ کیا اس خطے کے حقیقی ہیروز ہمیں ھندو دشمنی کی وجہ سے صرف میزائل کے ناموں تک منظور ھے انکی کوئی تاریخی تاثیرات اس خطے کے جغرافیہ کے حوالے سے نہیں ھے۔ 1919 میں جب غازی امان برسرِ اقتدار آتا ھے تو اسوقت فرنگی سامراج جنوبی ایشیا کے خطے کا عملاً حکمران ھے جبکہ باقی دنیا کے حدود میں انکی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا افغانستان کو بھی اس نے اپنی شیطانی شکنجوں میں کھسا ھے اسوقت برٹش ایمپائر کیخلاف کسی کمزور ریاست کا جنگ توکیا صرف بات کرنا بھی مشکل تھا مگر غازی امان نے اس سامراج سے سے اپنی قومی آزادی کی خاطر ٹھکر لی اس سے آزادی کا اعلان کیا جسپر انکی اسکے ساتھ لڑائی چڑھ گئ جو تاریخ میں افغانستان کے تیسرے جنگ کے نام سے مشھور ھے اس جنگ میں تمام پختون بشمول پختونخوا کے باسیوں تک نے حصہ لیا جنگ میں فرنگی کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا ھے اور پھر اگست 1919 میں انگریز معاہدہ ئے راولپنڈی کے تحت افغانستان کو مکمل خودمختاری دینے کا فیصلہ کرتا ھے ۔
اس وقت غازی امان ہی پوری دنیا میں وہ واحد غازی تھا جس نے اپنی قومی طاقت اور اپنی سیاسی بصیرت پر فرنگی سے آزادی چھین لی اس کے بعد اس نے اپنے ملک کی سماجی و واقتصادی ترقی کی طرف توجہ دیدی دس سال تک اس نے پختونوں کے ملک کو بہت کچھ دیا کافی ترقی اور مثبت تبدیلیاں لائی گئی غازی امان کی کردار وہمت سے ہی دنیا کے بہت سے دیگر محکوم اقوام نے آزادی کی صدائیں بلند کی اور انکو قومی آزادی کا جذبہ اور حوصلہ ملا مگر بدقسمتی سے انگریز شکست خوردہ ہونے کے باوجود غازی امان کو راستے سے ہٹانے کیلئے موقعہ کی تھاک میں تھے جو بالآخر انکو دس سال کی سازشوں کے بعد کامیابی کا موقعہ ملا انگریز کی ریشہ دوانیوں کو کامیابی کچھ مذہبی علامتوں اور کچھ قبائلی تعصبات کی صورت میں ملا تھا جو بدقسمتی سے آج بھی اس سماجی اور معاشرتی اقدار کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں تخت کابل سے اسکو دستبردار کراکے ایک تاجک لٹیرے ،حبیب اللہ کلکانی، بچه سقه، کو اقتدار کی ہما تھمادی گئ غازی کو اپنے ملک سے جلاوطن ہونا پڑا اور اسی وجہ سے پختون وطن آج تک بربادیوں اور عالمی سامراجی طاقتوں کی سازشوں کی آماجگاہ بنی ہوئی ھے ۔
یہ ھے وہ حقائق جسکی بنیاد پر ہم تاریخی شواھد کی اسناد کیساتھ یہ کہہ سکتے ہیں اور اسکا فیصلہ پڑھنے والے کریں کہ ہمارا حقیقی ہیرو غازی ارتطغرل ھے یا اپنے مٹی اور خون کا سچا پختون غازی امان !

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.