ارطغرل غازی اور پاکستانی عوام

0

اسماء طارق گجرات ۔

آج کل پاکستان میں دو ہی چیزیں خاص اہمیت کی حامل ہیں کرونا اور ارطغرل غازی ۔۔۔۔ پاکستان میں کسی چیز کی مقبولیت کااندازہ اس سے بخوبی لگایا جاسکتا کہ آپ کو با آسانی اس کے پاپڑ میسر ہیں کہ نہیں ۔۔۔۔جی ہاں اب آپ کسی بھی دکاندار سے ارطغرل پاپڑ حاصل کر سکتے ہیں ۔۔۔۔ ارطغرل غازی پر پہلے بھی کئی جگہوں پر بہت بات ہوئی ہے ۔۔۔۔۔ مغربی دنیا نے اسے سافٹ ایٹم بم بھی قرار دیا ہے ۔۔۔۔۔ جس میں یقینا بہت شاندار طریقے سے اسلامی تاریخ اور اقدار کو دکھایا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔ الفاظ کی حوب صورتی کی بھی انتہا ہے ۔۔۔۔۔دل پر اثر کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اللہ اور اسکے رسول کی بات کی گئی ہے ۔۔۔۔جو یقینا ایمان کو تازہ کرتی ہےاور روح کو جھنجھوڑتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ یہ بےشک ایک بہترین پیش کش ہے ۔۔۔۔۔بہت ضروری ہے کہ ہمیں ہمارے اسلاف کا پتہ ہو اور ان روایات اور اقدار کا جن سے ہم بہت دور چلے گئے تھے ۔۔۔۔ راستوں میں کھو گئے تھے ۔۔۔۔۔ یہ ڈرامہ اس وقت پوری دنیا میں توجہ کا مرکز ہے ۔۔۔۔۔۔ پر جگہ اس پر بات ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔ کہیں دنیا ڈر بھی رہی ہے کہ اگر مسلمانوں میں پھر سے یہی جذبہ جاگ اٹھا تو کیا ہو گا ۔۔۔۔ عمران خان بھی اس سے متاثر دکھائی دیئے اور اسے عوامی سطح پر دکھانے کا فیصلہ کیا جو کہ ایک خوش آئین بات ہے ۔۔۔۔۔۔لوگ اب تاریخ کی کیا، ویسے ہی کتاب کم پڑھتے ہیں اور سکول کے کورس میں بھی کوئی خاص تاریخ نہیں بتائی جاتی… ٹی وی انٹرنیٹ پر بھی ہر جگہ پرایا مواد ہے ایسے میں یہ ڈرامہ کسی نعمت سے کم نہیں جو ہمارے بچوں اور بڑوں سب کو ان کی تاریخ سے روشناس کرائے گا ۔۔۔۔۔۔۔مگر کیا ہوا ۔۔۔۔۔ ہماری عوام تو پھر ہماری عوام ہے نہ ۔۔۔۔۔۔خیالات کی دنیا میں رہنے والی ۔۔۔۔۔۔جس ڈگر چلتی ہے اکٹھی چل پڑتی ہے اور پھر باقی سب بھول جاتی ہے ۔۔۔۔۔ اب یہاں ہم نے اس سے اپنی تاریخ اور اسلام کی اچھی باتوں کو سیکھنا تھا اور اسے اپنی زندگی پر لاگو کرنا تھا ۔۔۔۔تاکہ ہم اسلام صرف نام ہی سے نہیں بلکہ عمل سے اپنائیں اور اپنا اپنا کردار ادا کریں ۔۔۔۔۔۔۔ ان باتوں اور چیزوں کو سیکھیں جو ہماری دنیا بدل سکتی ہیں ہمیں زندگی جینے کا نیا رستہ دکھا سکتی ہیں جن پر چل کر ہم یہاں ہی نہیں اگلی دنیا میں بھی کامیاب و کامران ہو سکیں ۔۔۔۔۔اپنے کردار کو درست کرنے کی کوشش کریں ۔۔۔۔مگر ہم نے کیا کیا ۔۔۔۔ ہم اب ایک خیالی دنیا میں رہنے لگے ہیں ۔۔۔۔۔ ہم آج کے طور میں صدیوں پرانی اس تاریخ کو جینے لگے ہیں ۔۔۔۔مگر کیا یہ ممکن ہے کہ میں صبح صادق تلوار لیے گھر سے نکل جاوں اور ایک دو قلعے فتح کر کے لوٹوں ۔۔۔۔یقینا ممکن نہیں ، پہلے ہم نے اپنے کردار کو مضبوط کرنا ہے جیسا ہمارے اسلاف کا تھا ۔۔۔۔۔ ہم اس پر کام کرنا چاہتے نہیں مگر چاہتے ہیں کہ تلوار مل جائے سب فتح کر لوں ۔۔۔۔۔۔۔ ہماری نوجوان نسل ارطغرل اور حلیمہ سعدیہ کے عشق میں گرفتار ہو چکی ہے اور پاکستانی لڑکے تو یہ تک کہہ رہے ہیں کہ پاکستانی بہنوں کو سمندر میں پھنک دیجئے اور ترکی بہنوں کو پاکستان بلا لیجیے ۔۔۔۔ بھئی وہ لوگ عام زندگی میں ویسے نہیں رہتے جیسے دکھائے گئے ہیں ۔۔۔۔ وہ فکشن کردار ہیں جنہوں نے اداکاری کی ہے ۔۔۔۔اور ہم ان کے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جا کر انہیں اسلام سکھا رہے ہیں جبکہ ہمیں ہمارے اسلام کی خبر نہیں ۔۔۔ہمارا موبائل فون ان کی تصویروں سے بھر گیا۔۔۔۔ہم صبح شام ان کے خیالوں میں گم ہیں ۔۔۔۔۔ایسے میں وہ مقصد نہیں پورا ہو رہا جو اصل تھا ۔۔۔۔۔۔ ہم اب اس دنیا میں نہیں جا سکتے ۔۔۔۔ہم نے اسی دنیا میں جینا ہے…مگر ہمیں تاریخ سے سیکھنا ہے اور پھر دیکھنا ہے کہ ہم اپنی زندگی موجودہ طور میں اس کے مطابق کیسے گزاریں ۔۔۔۔آج آپ گھوڑا اور تلوار لے کر نہیں نکل سکتے مگر آپ اپنے کردار کو مضبوط بنا سکتے ہیں اور پھر اس کی مدد سے موجودہ ہتھیاروں سے جنگ لڑ سکتے ہو اور اس سب سے بڑا ہتھیار سوشل میڈیا آپ کے پاس ہے مگر اس کے لیے پہلے خیالی دنیا سے باہر نکلنا ہو گا اور اپنی اپنی موجودہ شکل و صورت میں کردار کا ارطغرل اور حلیمہ سعدیہ بننا ہو گا ۔۔۔۔۔یہی اصل جنگ ہے ۔۔۔۔ 

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.