یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ الطاف حسین کے "را” سے تعلقات ہیں، مصطفیٰ کمال

0

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ کے سابق رہنما اور سابق سٹی ناظم مصطفی کمال نے اپنی نئی سیاسی جماعت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ الطاف حسین کے بھارتی خفیہ ایجنسی “را” سے تعلقات ہیں۔

کراچی کے سابق ناظم اور متحدہ قومی موومنٹ کے سابق رکن مصطفی کمال نے الطاف حسین اور ان کے قریبی رفقا کے خلاف تہلکہ خیز ’انکشافات‘ اور الزامات لگاتے ہوئے ایک نئی جماعت بنانے کا اعلان کیا ہے۔

دبئی سے کراچی واپسی کے بعد ایم کیو ایم کے ہی ایک اور سابق رکن انیس قائم خانی کے ساتھ جمعرات کو ایک مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان کی پارٹی کا پرچم وہی ہوگا جو پاکستان کا پرچم ہے۔ تاہم انھوں نے اپنی اس نئی سیاسی جماعت کو کوئی نام نہیں دیا۔

سنہ 2013 میں ایم کیو ایم سے علیحدگی کے بعد مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی کی یہ پہلی میڈیا بریفنگ تھی۔انھوں نے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ وہ ٹیکنو کریٹ حکومت کے لیے راہ ہموار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے آنے والے کامیاب نہیں ہوتے، ورنہ سندھ میں پیر پگارا کا وزیر اعلیٰ ہوتا۔

مصطفی کمال نے الزام عائد کیا کہ الطاف حسین نے پوری مہاجر کمیونٹی کو ’دہشت گرد‘ بنا دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ الطاف حسین نے کبھی اپنی خطاؤں کو تسلیم نہیں کیا اور انیس قائم خانی اور ان کی، ایم کیو ایم سے علیحدگی کی وجہ پارٹی میں ہونے والی تذلیل تھی

سابق ناظم کراچی نے کہا کہ جب نائن زیرو پر رینجرز نے چھاپا مارا تو جو بچے وہاں سے گرفتار ہوئے تھے اور ایم کیو ایم کے کارکنان ہی تھے جب کہ پارٹی کارکنان اجمل پہاڑی اور صولت مرزا کو دہشتگرد بنادیا گیا، کیا صولت مرزا اپنی ماں کے پیٹ سے قاتل پیدا ہوا تھا، کیا شاہد حامد سے اس کا ذاتی جھگڑا تھا، صولت مرزا کو شاہد حامد کے قتل  کرنے کا کس نے بتایا، کیا اجمل پہاڑی اپنی ماں کے پیٹ سے اجمل پہاڑی پیدا ہوا تھا، ڈاکٹر عمران فاروق کے قاتلوں کو لوگ ٹی وی پر دیکھتے ہیں کبھی کسی نے سوچا کہ ان کی بھی مائیں ہوں گی، ان کی بہنوں کے رشتے ہونے ہوں گے، ان کے رشتہ داروں کو لوگ جانتے ہوں گے، کیا ہو گیا ہے ہمیں، ایک شخص ہمیں کہاں لے گیا ہے، یہ قوم تہذیب یافتہ سے بد تہذیب ہوگئی، آج محب وطن لوگ “را” کے ایجنٹ ہوگئے، آج مہاجر کمیونٹی کو پورا پاکستان الطاف حسین کی وجہ سے “را” کا ایجنٹ تصورکرتا ہے، میں پاکستان کی اسٹیلشمنٹ، حکومت اور ایک ایک صحافی سے کہتا ہوں کہ الطاف حسین کے اعمال کی وجہ سے اردو بولنے والوں سے نفرت نہ کریں، اب سب کو غلط بتایا گیا،میں دعوے سے کہتا ہوں کہ میری ایک روپے کی کوئی انڈسٹری، کوئی انویسٹمنٹ، کوئی شادی ہال یا کوئی پیٹرول پمپ نہیں، ہم یہاں لوگوں کو توڑنے نہیں جوڑنے آئے ہیں، ان ساری باتوں کے باوجود میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالی الطاف حسین کو ہدایت دے۔

سابق سٹی ناظم نے کہا کہ اب سے 24 گھنٹے پہلے تک میں اورانیس قائمخانی پرآسائش زندگی گزاررہے تھے، ہمارے بچے ہمارے سامنے اسکول جاتے اور ہم آزادانہ زندگی گزار رہے تھے لیکن ہم اپنا دل دماغ اپنی روح پاکستان سے، کراچی سے، سندھ سے اور خاص طور پر اردو بولنے والوں کی مشکلات سے اپنے آپ کو الگ نہیں رکھ سکے، ہم سیاست سے دور تھے لیکن اس کے باوجود ہمیں ایک ایک دن کی خبر ملتی تھی، کسی انسان کے لئے نہیں بلکہ اپنے رب کو راضی کرنے کے لئے یہ سب باتیں کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں جتنے لوگ محب وطن ہیں اتنے ہی اردو بولنے والے ہیں، خدارا اردو بولنے والوں کو بھی اتنا ہی محب وطن سمجھیں جتنا پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان  کے لوگ ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران مصطفیٰ کمال آبدیدہ ہوگئے اور متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حقوق کے لئے لڑائی کرنی ہے تو پاکستان آئیں ہم بھی ساتھ کھڑے ہو کر لڑیں گے لیکن آپ تو آئندہ نسلوں کو بھی تباہ کرکے جانا چاہتے ہیں، اردو بولنے والوں اور مہاجر کمیونٹی پر رحم کریں، پارٹی ایسی ہونی چاہئے تھی کہ مجرم آتا تو اسے انسان بناتے،اجمل پہاڑی اور صولت مرزا ماں کے پیٹ سے مجرم نہیں بنے تھے، ایم کیو ایم قائد سے کہتا ہوں کہ اب بھی وقت ہے کہ توبہ کرلیں اور تباہ و بربادی کا راستہ چھوڑ دیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.