خطروں کا کھلاڑی

0

خطروں کا کھلاڑی

جب ہم فیس بک پر نئے نئے وارد ہوئے تو اشاعتی احباب کے لائک اور کمنٹس سے اکثر اوقات ایک سوٹد بوٹد کڑیل جوان کی عکس دیکھنے کو ملتی ۔ ایک بار خیال آیا ذرا ان کا پروفائل تو چیک کریں۔ بہت جلد مجھ پر یہ حیران کن عقدہ کھلا کہ یہ تو ہمارے امیدوں کے محور ہیں۔نہایت قیمتی لباس میں ملبوس ، سُمرگیں آنکھوں ، گندمی رنگ کے حامل یہ نوعمر چھوٹی عمر میں بڑی لگژری گاڑیوں کا مالک ، جس کے پاس فراری کے کاریں بھی ہیں اور سپورٹس موٹرسائیکلوں کا بھی دلدادہ ہیں۔ جو ویپن (اسلحہ) بطور شوق اور بطور شکاری استعمال کے دونوں طریقے اپناتا ہے۔لیکن روبرو ملاقات سے قبل ان سے فیس بکی دوستی مجھے قائل نہ کرسکی ۔ پہلی دفعہ اجتماع پنج پیر کے لئے جانا ہوا ۔ تو یہی شوخ نوجوان ہمارا میزبان ثابت ہوا۔ پہلی نظر میں شناسا چہرہ تھوڑا سا شرمائے پھر جھٹ سے گلے لگایا۔ آپ جان ہی گئے ہونگے ذکر میرے قائد کے شہید فرزند یمان یوسفزئی کا ہورہا ہے۔
1993 ؁ کو امیر محترم کے گھر چھ بہنوں کا اکلوتا بھائی پیدا ہوا۔ذرا تصور کریں کتنی خوشیاں لوٹ آئی ہونگی، بہنوں نے اپنے بھائی سے کتنے سوہانے خواب وابستہ کئے ہونگے۔ لاکھوں روپے کے شیرنی تقسیم ہوئی، نام یمان لیکن لاڈ سے بھرپور ، عام بچوں کی طرح بچپن میں پرندے اور خاص کر طوطے پالنا ان کااولین مشغلہ ، مشفق والد نے بے پناہ مصروفیات کے باوجود اپنے لخت جگر کے تعلیم وتربیت پرخصوصی توجہ دی۔
جوانی کے دہلیز پے قدم رکھتے ہی ہیوی بائکس اور موٹر کاروں کی دَوڑ (مقابلوں) کا شوق جنون کے حد کو چھونے لگا ، لیکن صرف یہی نہیں یہ شہزادہ کبھی اپنے خاندانی مشن کو نہیں بھولا، ہر رمضان المبارک کو اپنے والدمحترم کے درس قرآن میں بلاناغہ شریک ہوتا۔ یمان چھڑتی جوانی میں چودہ بار دورۂ تفسیر کرچکا تھا۔ اسے بہترین انداز میں اپنے والد اور دادا کے طرز پر قرآن مجید باترجمہ ازبر یاد ہوچکا تھادیگر کھیلوں میں باکسنگ ، باڈی بلڈنگ بھی اس کے پسندیدہ کھیل تھے۔ یمان کے اعصاب کے پختگی کا اندازہ آپ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ پنج پیر کے بلندوبالا پہاڑ سے دومرتبہ ہوائی اڑان بھر کر پورے گاؤں کی سیر کرچکا تھا۔
قائد اعظم ماڈل سکول اینڈ کالج صوابی سے میٹرک کا امتحان اعلیٰ نمبروں سے پاس کرنے کے ساتھ درس نظامی کے ابتدائی کتب بھی پڑھ لی تھیں۔بعد ازاں اسی کالج سے ایف ایس سی کا امتحان دے کر اپنی ثانوی تعلیم مکمل کی۔ جس کے بعد عظیم باپ نے اپنے لخت جگر سے بہت زیادہ توقعات رکھنے کے باعث اور یمان کے ذہانت اور قابلیت کو دیکھتے ہوئے ان کا داخلہ اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد میں کروایا۔تاکہ اصول دین کا کورس کرکے مستقبل میں جدید خطوط پر تنظیم اور مرکز دارالقرآن پنج پیر کو چلا کر مزید ترقی دلواسکیں۔
۶ ماہ قبل داخل ہونے والے یمان کا ابھی ایک سمسٹر پورا ہوا تھا اور چھٹیوں کے موقع پر گھر آکر والدین کی خدمت اور ان کے دعائیں سمیٹنا چاہتا تھا کیونکہ یمان پنج پیر لوٹ آتا تو گاؤں کے رونقیں بھی بحال ہوجاتی۔ ۲۳ دسمبر ۲۰۱۵ بدھ کے روز دوپہر ڈھائی بجے کے قریب یمان اپنے مہمان اور جگری دوست فرقان کے ساتھ چکر لگانے کے غرض گھر سے اپنی ہیوی بائک لے کر نکلا۔ شاہ منصور روڈ (مین روڈ) کراس کرکے پتلی سڑک کی راہ پکڑلی اس دوران تھوڑا آگے جاکر مخالف سمت سے آنے والی موٹر سائیکل یمان کے بائک سے ٹھکرائی ، ٹھکر اتنی شدید تھی کہ یمان اچھل کر دور کھیت میں جاگرا،سر پر شدید چوٹیں آئیں، چند لمحوں بعد شہزادۂ موحدین کی روح اپنے داد ا مرحوم و مغفور (شیخ القرآن مولانا محمدطاہر ؒ ) سے ملاقات کے لئے اڑان بھر چکی تھی۔ انا لللہ وانا الیہ راجعون …..
؂ ا بھی جام عمر بھرا نہ تھا کہ دست ساقی چھلک پڑا رہی دل کے دل میں حسرتیں کہ نشان قضاء نے مٹادیا

پنج پیر گاؤں پر آج سورج غروب ہونے سے قبل تاریکی چھاگئی تھی ، پورا ملک اس اندوہناک حادثے سے لرز گیا تھا ہر آنکھ اشکبار تھی اور دل بے قرار تھے اور کیوں نہ ہوں ایک تو امیر محترم کے اکلوتے فرزند ،لخت جگر اور موحدین کے امیدوں کے محور اور اس سے بھی بڑھ کر یمان کی جوانی میں حادثاتی موت۔
؂ دہ زوانئی مرگ دہ بم گذار وی بم چہ گذار شی ٹولہ زمکہ ڑچوینہ

ْ(ترجمہ) جوانی کی موت بم پھٹنے کے مثل ہوتی ہے جہاں بم پھٹ جائے تو پورے زمین کو ہلاکر رکھ دیتی ہے۔
بلاشبہ یمان کی شہادت پر پورا ملک افسردہ تھا ۔ اس ملک کے باسیوں اور خاص کر جماعت اشاعت التوحیدوالسنۃ کے اراکین میں سے ایک فرد میں بھی ہوں اپنی تنظیم، اپنے مشائخ، اپنے مرکز اور اپنے قائد سے میں بھی بے پناہ محبت و الفت رکھتا ہوں اس بناء پر میں بہت زیادہ افسردہ تھا لیکن جنازے میں شرکت اور اپنے امیر محترم سے تعزیت کے خاطر ۲۵۰ کلومیٹر کا فاصلہ پُرخطر پہاڑوں ، تنگ و پیچ راستوں کے درمیان طے کرکے مرکز دارالقرآن پنج پیر پہنچا ، عظیم قائد کا حوصلہ دیکھ کر میری دل کے دھڑکنیں رک گئیں۔
یہاں تو ہر آنکھ پُرنم ہے فضاء پر غنودگی طاری ہے،پوری زندگی سنت کے پرچار کرنے والوں نے آج اپنے عمل سے اس کا بھرپور ثبوت دیا، تدفین تک کوئی بھی خلاف سنت کام سرزد نہ ہوا جنازے کے لئے انتہائی قلیل وقت دیا گیااگرچہ ملک کے ہر کونے سے جنازے میں شرکت کے لئے آنے والے قافلوں نے بہت کوشش کی کہ جنازے کے وقت میں تھوڑی تاخیر کردی جائے لیکن خلاف سنت کام سے اجتناب کیاگیا اس کے باوجود جماعت کے اراکین اور ملک کے ہر طبقہ فکر کے عوام الناس ہزاروں کے تعداد میں اپنے شہزادے کو رخصت کرنے پہنچے تھے۔
؂ مت سہل انہیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں تب خاک کے پردے سے یمان نکلتے ہیں

دسمبر کی اس سرد شام پنج پیر گاؤں پر بالکل خاموشی طاری ہے گھٹا ٹوپ اندھیرا ہے، اگر کہیں کوئی روشنی نظر آرہی ہے تو مانوس سُرخ بلب اپنی ڈیوٹی کی ادائیگی میں مصروف ، ایسے میں آہیں سسکیاں بڑا مغموم فضاء پیدا کرتی ہے، اچانک انسانوں سے کھچا کھچ بھرے فٹ بال گراؤنڈ میں آوازیں بلند ہونا شروع ہوجاتی ہے ’’ راستہ دو، راستہ دو‘‘ آگے بڑھ کر غور سے دیکھا تو شہید کا باپ اپنے اکلوتے لخت جگر کے جنازگاہ تک پہنچنے کی تگ و دو کررہا ہے ، ملک کے ہر گوشے سے سمٹ کر آئے شیخ کے روحانی فرزند اپنے قائدسے تعزیت کا نرالہ انداز اپناتے ہیں ۔ انہیں یقین دلارہے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک یمان ہیں۔
دو اولیاء کرام شیخ التفسیرحضرت مولانا غلام حبیب ہزاروی صاحب، شیخ الحدیث مفتی سراج الدین صاحب کے مبارک ہاتھوں سے مغسول ہونے کے بعد موحدین کے کندھوں پے سوار یمان کی ڈولی جنازگاہ پہنچتی ہے۔
؂ وداع یار کامنظر یاد نہیں فراز بس ایک ڈوبتا سورج میری نظر میں رہا
’’ یمان کو میں نے دین کے خدمت خاطر حرم شریف میں اﷲ سے مانگا تھا یمان میرا انتہائی فرمانبردار بیٹا تھا یمان نے پوری زندگی میری حد سے بڑھ کر عزت کی‘‘ اپنے غم زدہ قائد کے یہ کلمات سن کر شیخ القرآن ؒ کے لشکر کے یہ باہمت سپاہی پھوٹ پھوٹ کر رو دئیے۔ لیکن قائد نے ہمت بندھائی فرمایا ’’ میرا ایک بیٹا تو نہ تھا کہ آج کے بعد میں بے نام ہوجاؤں گا بلکہ میرے تو لاکھوں بیٹے ہیں جو یمان سے بڑھ کر میری عزت کرتے ہیں ، وہ اس مشن توحیدوسنت کی اشاعت کو جاری رکھیں گے اس کو مزید ترقی دلوائیں گے کل ہم رہے یا نہ رہے لیکن یہ مرکز اسی طرح تا ابد قائم ودائم رہے گا اور یہاں قرآن و سنت کی خدمت ہوتی رہی گی‘‘
قرآنی انقلاب کے بانی اور روح رواں اور اپنے والد محترم کی وفات پُرحسرات کے موقع پر نوعمری میں جاندار تقریر کرکے موحدین کے دلوں میں گھر کرنے والا میرِکارواں نے یہاں بھی ثابت قدمی کا واضح پیغام باطل قوتوں کو دیا خود آگے بڑھے اور ہزاروں علماء طلباء موحدین کے موجودگی میں اپنے شہید بیٹے کا جنازہ پڑھایا۔
؂ پتھر کی طرح ہم نے تیرا سوگ منایا دامن نہ کیا چاک کبھی بال نہ کھولے
رات گئے حضرت شیخ القرآن ؒ کے خاندان کے قبرستان میں یمان شہید کو اپنے دادا کے پہلو میں خاک کے سپرد کیاگیا اس دوران نہایت جذباتی مناظر سامنے آئے ۔ اﷲ یمان کی مغفرت فرمائے ،سالارِقافلہ امیر محترم اور تمام موحدین کو صبرجمیل عطاء فرمائیں۔ (آمین)
؂ وہ ایک رات گذر بھی مگر اب تک بدن سے خوشبوئے یار نہیں جاتی

۔۔۔ محمدبلال یاسر
خادم طلبہ الجامعۃ الشرعیہ رجڑ چارسدہ؍سکنہ تنڑے واڑہ ماموند باجوڑ
03063412242

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.