قبائل اور پارلیمنٹ تحریر: شکیل مومند

0

دُنیا بدل چکی ہے لیکن پاکستان کے قبائلی علاقے جوں کے توں ہے۔ اس خیال کی یقیناًبہت سی وجوہات ہے کہ اب قبائلی علاقہ جات میں نظام کی تبدیلی کو پہلی ترجیح دینی چاہئے۔ قبائلی علاقہ جات کو اب زیادہ دیر ایسے گوشہ تنہائی میں نہیں رکھا جاسکتا۔ جوعالمی حیثیت کے جمہوری حقوق سے محروم ہوں لیکن کسی بھی قبائلی پالیسی کے اجراء کیلئے ضروری ہے کہ اس کی تشکیل قبائلی لوگوں کے ضروریات صلاحیتیوں اور طرز فکر کیمطابق کیجائے۔ ایک نئے دور کی صبح اس صورت میں طلوع ہوسکتی ہے کہ جب قبائلی عوام نئے اور تاریخی رشتوں کی بنیاد پر اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں۔ اگر چہ قومی اسمبلی اور سینٹ میں فاٹا کو نمائندگی حاصل ہے۔ لیکن پاکستانی قوانین کا اطلاق فاٹا پر نہیں ہوتا۔ جب تک صدر پاکستان کیطرف سے واضح ہدایات نہ آجائے۔ پاکستان میں بیشتر ٹیکس فاٹا میں لاگو نہیں ۔پولٹیکل انتظامیہ مقامی ٹیکس نافذ کرتے ہیں۔ بعض صورتوں میں فاٹا کے عوام باقی ماندہ ملک کے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ یعنی آٹا ،چینی ،ماربل ،قیمتی پتھر،کھادوں اور مقامی ٹیکس پارلیمان کو واضح طور پر روک دیا گیا ۔ کہ وہ فاٹا پر قانون سازی اور متعلقہ امور انجام نہیں دے سکتے۔ فاٹا کے ارکان پارلیمنٹ پر باقی ملک کیلئے قانون سازی کرسکتے ہیں لیکن فاٹا کیلئے نہیں۔ ایوان اور ہاؤس سے مراد قومی اسمبلی اور سینٹ ہے۔ سینٹ کوایوان بالا اپر ہاؤس اور قومی اسمبلی کو ایوان زیریں لوئرہاؤس کہتے ہیں ۔ بل کی دو اقسام ہیں۔ قانو ن سازی کے مطابق بل اور آئین میں ترامیم کے مطابق بل عام قانون سازی کیلئے ایوان میں حاضر ارکان کی سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔ جبکہ آئین میں ترامیم کیلئے ایوان کے کل ارکان کی دوتہائی 2/3اکثریت لازمی ہوتی ہے۔ بل کی منظوری کیلئے مطلوبہ تعداد میسر نہ ہو تو بل مسترد ہوجاتا ہے۔ پارلیمنٹ میں زیادہ تر گورنمنٹ کیطر ف سے بل پیش کئے جاتے ہیں جنہیں پبلک بل یا گورنمنٹ بلز کہا جاتا ہے۔ انفرادی طور پر ارکان بھی بل پیش کرسکتے ہیں جنہیں پرائیویٹ بل کہا جاتا ہے۔ حکومت متعلقہ وزراء کے ذریعے پارلیمنٹ میں بل پیش کرتی ہے۔ متعلقہ وزیر اپنے محکمے کے مشران اور ماہرین کے ذریعے بل تیار کرتا ہے۔ اور اُسے پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے پہلے وزیر اعظم کو اعتماد میں لیتا ہے اور کابینہ کا اجلاس بلایا جاتا ہے۔ جس میں بل پر بحث کی جاتی ہے اورسب کی سفارشات کی روشنی میں بل کا مسودہ فائنل کیاجاتا ہے۔ صوبائی اسمبلیوں میں بل منظور کرنے کاطریقہ کار بھی وہی ہے۔ صوبائی اسمبلیوں کے منظورکردہ بلز کو منظوری کیلئے گورنر کے پاس بھیجا جاتا ہے جو دس دن کے اندر اس پر دستخط کرتا ہے۔ اور وہ بل قانون بن جاتا ہے۔ جسے ایکٹ آف صوبائی اسمبلی کہاجاتا ہے۔ قبائلی علاقہ جات میں اصلاحات کا عمل مکمل ہوچکا ہے۔ جس میں کمیٹی کے ممبر سیفران وزیر عبدالقادر بلوچ نے کہا ہے کہ لوگ خیبر پختونخواہ میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ لیکن ہزارہ کیوں خیبر پختونخواہ سے الگ ہونا چاہتے ہیں۔ اسکی کیا وجوہات ہے۔ ہماری دعا ہے کہ قبائلی علاقوں میں بھی اصلاحات لائے جائیں۔***** خوشحال فاٹا خوشحال پاکستان*******

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.