آئیڈیا پروجیکٹ کی تحت چلنے والے 40 سکولز بند ہونے کا انکشافات

0

باجوڑایجنسی (معاز خان)آئیڈیا پروجیکٹ کی تحت چلنے والے 40 سکولز بند ہونے اور بالغان سنٹر میں تبدیل ہونے کے انکشافات نے حکومت کی فاٹا میں تعلیمی ایمرجنسی کا پول کھول دیا.
اس پروجکٹ نے فاٹا اور باجوڑ ایجنسی کے دور افتادہ علاقے میں عارضی طور پر تعلیمی مراکز قائم کیے جہاں پہلے سے حکومت کی عدم توجہ اور ملکانہ نظام کی وجہ سے کوئی پرائمری تعلیمی ادارے موجود نہی تھے جس پر علاقہ مکینوں نے خوشی کا اظہار کیا تھا. جس مین بچوں کے کثیر تعداد حصول تعلیم میں مگن تھی. تاہم پروجکٹ کی معیاد پورا ہونے پر ان درسگاہو کو فاٹا سکرٹریٹ کے حوالہ کیے گئے.
فاٹا سکرٹریٹ اور باجوڑ ایجنسی کے پولٹیکل انتظامیہ نے سروے کے بعد یہ فیصلہ کیا هے کہ ان سکولو میں سے صرف 14 سکول کو بالغان سنٹر میں تبدیل کر دیا جائے. ان سکولو میں ایک سکول گاوں کاپرگٹ (اسلام گٹ) بھی هے جو ایجنسی ہیڈ کوارٹر خار سے 16 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع هے گاوں کی آبادی 150 گھروں پر مشتمل هے سکول میں پڑھنے والے بچوں کی تعداد 200 هیں اسی طرح سکول کی بچیوں کی تعداد 250 کے لگ بھگ هے جو سکول نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم کے زیور محروم هیں. اس گاوں کے آس پاس 7 کلومیٹر کے فاصلے تک کوئی سکول نہی. آس پاس گاوں ٹانگو، گیرو اور قدم چینہ بھی پرائمری سکول نہ ہونے کی وجہ سے جاہیلیت کے راگ الاپ رہے هیں.
آئیڈیا پروجکٹ کی تحت چلنے والے سکول کو حکومت نے بند کرکے 40 بچوں کے لیے جن کی عمر 9 سے 15 سال ہو انکے لئے بالغان سنٹر قائم کرکے بچوں کے مستقبل کو تاریک بنانے کی منصوبہ بندی کی هے جس میں ایک ٹیچر 40 بچوں کو تعلیم بالغان پڑھا کر چھوٹے بچوں کو اندھیرے میں دھکیل دیا هے تاکہ فاٹا کے بچے ہمیشہ کے لیے تعلیم سے محروم رہے.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.